ہوم / حقوق/جدوجہد / بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار، ،ازقلم، صائمہ شاہ

بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار، ،ازقلم، صائمہ شاہ

اداریہ
تحریر۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

بات یوں ہے کہ اچھے کام کی تعریف بھی ویسے ہی ضروری ہے جیسے ناجائز اقدامات اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا۔
رواں حکومت اگرچہ بعض معاملات کے حوالے سے ایک عمومی سست روی کا شکار ہے، لیکن چند اچھے اقدامات میں ، ضلعی حکومتوں کا انتظامیہ کی زیر نگرانی ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیاز کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کرنا بھی شامل ہے۔ حالیہ میڈیا رپورٹس اور خبروں کے مطابق، چنیوٹ اور گردو نواح میں بھی ایسے آپریشن پورے زورو شور سے جاری ہیں اور علاقے کےعوام ان اقدامات کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
سر فہرست لیگی ایم پی اے، الیاس چنیوٹی سے چار ارب سے زائد مالیت کی پراپرٹی کا واگزار کروایا جانا بھی شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع چنیوٹ میں ضلعی انتظامیہ نےڈپٹی کمشنر خضر افضال کے حکم پر اسسٹنٹ کمشنر آصف چوہان کے زیر نگرانی یہ کاروائی مکمل کی اور ڈی سی آفس کے قریب تین دہائیوں سے ناجائز قابض ایک بڑا کمرشل یونٹ مسمار کر کے سرکاری املاک واگزار کروا لی ہے۔ اور وہاں موجود ایک بڑا ریسٹورنٹ اور ملحقہ دکانیں مسمار کر دی ہیں۔
یہ سب قبضہ، عرصہ تیس سال سے، لیگی ایم پی اے، مولانا الیاس چنیوٹی نے کر رکھا تھا جو مولانا منظور چنیوٹی مرحوم کے چشم و چراغ ہیں اور دونوں باپ بیٹا مزعومہ طور پر ختم نبوت کا تحفظ کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔
ضلعی حکومت اور انتظامیہ کے اس اقدام پر بلدیاتی نمائیندوں اور شہریوں کا حکومت کے اس اقدام کو ِراج تحسین پیش کرنا ایک خوش آئند عمل ہے اور اس آپریشن کو جاری رکھنے کے لئے عوامی تائید کے مترادف ہے۔ اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں ایسا آپریشن اور کروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
اب اس ضمن میں ہمارا مدعا یہ ہے کہ کچھ سوالات ہیں جو اٹھائے جانے ضروری ہیں۔
اول تو یہ کہ اربوں روپے کی زمین واپس لی گئی ہے اور کروڑوں کی تعمیرات مسمار ہوئی ہیں مگر سیاسی قابضین ایسے چپ کیوں ہیں۔ کوئی صدائے احتجاج نہیں، کوئی بیان بازی نہیں اور نہ ہی اس سب کاروائی کو سیاسی انتقام کا نام دیا جا رہا ہے۔ تو اتنی گہری خاموشی کیوں ہے؟ اس چپ کا راز کیا ہے؟؟
ہمیں جو وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ اگر بولتے ہیں اور سپریم کورٹ نوٹس لے کر طلب کر لے اور وہاں انتظامیہ کا موقف درست اور ان کا قبضہ عدالت میں بھی ناجائز قرار پائے تو پھر ان قابضین کو اس کی قرار واقعی سزا بھگتنی پڑے گی،
جس میں اتنے سالوں کا کرایہ یا حرجانہ ادا کرنا،
اور پبلک املاک غصب کرنے کے جرم میں نااہلی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔
اس لئے یہ خاموشی خالی از علت نہیں۔
مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کیریکٹر کے حامل عوامی نمائیندوں اور ممبران اسمبلی کی خاموشی کو کافی نہ گردانا جائے اور ان پہ مزید سوال اٹھائے جانے چاہیئں۔
کہ اگر قبضہ ناجائز تھا تو ہرجانہ اور کرایہ وصول کیا جائے
اور جنہوں نے پبلک املاک کو شیر مادر سمجھا ان کو پبلک کی نمائیندگی جیسی ذمہ داری کے لئے نا اہل قرار دیا جائے۔
ورنہ ان قابضین اور غاصبین نے تو نوشتہ دیوار پڑھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ، چپ ہی بھلی۔۔۔!
اب ان کی چپ پہ آواز اٹھانا میڈیا اور پبلک کا کام ہے۔
اس سلسلے میں آخری بات جو بہر حال تعجب انگیز ہے وہ یہ کہ میڈیا رپورٹس اور خبروں میں بار بار ، لیگی ایم پی اے، الیاس چنیوٹی کی گردان تو کی گئی لیکن پاکستان کے آزاد میڈیا نے مولانا الیاس چنیوٹی جیسے القابات اور سابقے لاحقے استعمال نہیں کیے اور نہ ہی یہ تعارف دیا کہ لیگی ایم پی اے موصوف، مولانا منظور چنیوٹی کے چشم و چراغ ہیں۔ اور یہ کہ دونوں باپ بیٹا ختم نبوت کا تحفظ کرنے میں بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔
اب جب قبضے کی کارستانی سامنے آئی تو میڈیا نے بھی "ہتھ ہولا” رکھا اور ان کےبڑے بڑے القابات کو چھپاتے اور چشم پوشی کرتے ہوئے محض ” لیگی ایم پی اے'” پر اکتفا کر لیا۔
میڈیا اور رپورٹنگ کے اداروں کا یہ اقدام بھی ہر گز قابل تحسین نہیں، کیونکہ پبلک کو یہ بتانا ضروری ہے کہ مالی وسائل اور کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع ملنے پر علمائے کرام کسے سے پیچھے نہیں رہے۔

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔!

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend