ہوم / حقوق/جدوجہد / راجہ یوسف کے مجموعہ کلام، تشنگی کی تقریب رونمائی۔۔۔۔۔۔ رپورٹ

راجہ یوسف کے مجموعہ کلام، تشنگی کی تقریب رونمائی۔۔۔۔۔۔ رپورٹ

راجہ یوسف کے مجموعۂ کلام ’’ تشنگی ‘‘ کی تقریبِ رونمائی

’’ تشنگی ‘‘ کا سرسری مطالعہ بھی یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ زبان و بیان پر یوسف کی گرفت بہت صالح اور مضبوط ہے۔ دلپذیر اور با موقع الفاظ کا خوبصورت انتخاب، اِن الفاظ کی بندش اور نشست و برخاست، تراکیب کی ندرت اور ان کا ماہرانہ استعمال موصوف کی زبان پر قدرت کے دلکش مظاہر ہیں۔ یوسف کا کلام خیالات کی بے جا پیچیدگی اور بیان کی اُلجھن سے بالکل صاف ہے اور اُن کے یہاں زبان کی شائستگی اور نفاست اور بیان کی نرمی اور لطافت بدرجۂ اَتم پائی جاتی ہے۔‘‘

سرور عالم راز سرورؔ

مؤرخہ 14 اکتوبر 2018 بروز اتوار جرمنی میں مقیم اردو کے معروف شاعر جناب راجہ محمد یوسف خان کے مجموعۂ کلام ’’ تشنگی ‘‘ کی تقریبِ رونمائی فرینکفرٹ سے متصل شہر مورفلڈن میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا انعقاد اردو جرمن کلچرل سوسائٹی کے قیام کے 30 سال پورے ہونے پر شہر کے مرکزی ہال میں ہونے والی دو روزہ تقریبات کے دوسرے روز ہوا۔ تقریب میں جرمنی بھر سے کثیر تعداد میں پاکستانی احباب و خواتین کے علاوہ دیگر یورپین ممالک سے آئے ہوئے شعرا ئے کرام نے شرکت کی۔
تقریب کے آغاز میں میں جناب عرفان احمد خان بانی و صدر اردو جرمن کلچرل سوسائٹی نے بتایا کہ ’’راجہ یوسف صاحب سے میری ملاقات فرینکفرٹ میں ہونے والے ایک ایسے مشاعرے میں ہوئی جس کی صدارت جناب بخش لائلپوری کر رہے تھے۔ مشاعرے کے اختتام پر اُنہوں نے کہا کہ ’ولایت سے ہم آئے ہیں اور حاصلِ مشاعرہ غزل راجہ یوسف نے پڑھی ہے‘۔ آج ہم حاصلِ مشاعرہ غزل کہنے والے شاعر کے مجموعۂ کلام کی تقریبِ رونمائی کے لئے جمع ہیں۔ اِس تقریب میں راجہ یوسف کی شاعری پر پروفیسر مبارک احمد عابد، ڈاکٹر عبدالکریم خالد اور مکرم پرویز زیدی صاحب کے مقالات پڑھے جائیں گے۔ تقریب کی صدارت کے لئے علم و ادب کی دنیا میں ایک جانی پہچانی شخصیت مکرم شمشاد احمد قمر صاحب سے درخواست کی تھی جو انہوں نے قبول فرمائی اور اپنی بے شمار مصروفیات میں سے وقت نکال کریہاں تشریف لائے ہیں۔‘‘
اس کے بعد مکرم طاہر احمد بھٹی ڈائس پر آئے ۔ انہوں نے پروفیسر مبارک احمد عابد کا مقالہ پڑھنے سے پہلے بتایا کہ اُنہیں عابد صاحب کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ انہوں نے راجہ یوسف صاحب سے اپنی پندرہ سالہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اپنے مخصوص انداز میں عابد صاحب کا مقالہ پڑھا جس کے چند اقتباس درج ہیں:
’’اس وقت میرے سامنے راجہ محمد یوسف خان کی ’’تشنگی‘‘ میری ادبی تشنگی کی آبیاری اور سیرابی کررہی ہے۔ ہمارے اس یوسف کی یہ ادبی تخلیق ایک آوازِ جرس ہے جو ہمارے ادبی قافلہ میں نئی جہتوں کا تعیّن اور نئے جذبوں کی آئینہ داری کرے گی۔ یوسف کے اس ’’مجموعہ غزلیات‘‘ میں کہیں کہیں نظموں کی آمیزش بھی ہے جو فکری مہمیز کا کامیاب عنصر لئے ہوئےہے۔‘‘
’’اختصار اور ایمائیت غزل کا بنیادی جزو ہیں۔ ایک شعر میں ہم معانی کی پوری دنیا سمیٹ لیتے ہیں اور ایک مبسوط مقالہ لکھنے کی بجائے ہم ایک شعر سے بھی اپنا مفہوم بیان کرسکتے ہیں۔ یوسف کی غزلیات میں آپ کو یہ اختصار اور ایمائیت کی خوبیاں پوری آب و تاب سے جھلکتی اور چھلکتی نظر آتی ہیں۔‘‘

کچھ ایسے نظر آئیں گے صدیوں کے مناظر
لمحوں میں سمٹ آئے گا آزارِ تمنّا
چھپ گیا اور گہرے پردوں میں
جب مجھے بے حجاب کر ڈالا
کارواں کرتے رہے تاریک صدیوں کا سفر
اور ہم اب تک ہیں گردِ کارواں اوڑھے ہوئے
انکشاف ذات سے پہلے یہ نکتہ بھی کھلا
آگہی کی ایک منزل ہے شعورِ آگہی

’’ایک درد جو ہمارے اس شاعر کے دل میں جگہ بجگہ چھلکتا دکھائی دیتا ہے اور اس کی ان غزلوں میں بہت شدّت سے نمایاں ہے وہ مہاجرت ہے۔ وطن سے دُور وہ ایک غموں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے مسافرت زدہ شخص کا المیّہ ہے۔ مہجور انسان کی وہ پکار ہے جو سینہ چھید کر لفظوں کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ ‘‘

ہجر کا انتخاب کر ڈالا
یہ بھی کارِ ثواب کر ڈالا
عشقِ بے تاب کے صحیفے میں
ہجر کے سارے باب میرے ہیں
منہ دھویا کئے لاکھ یہاں چشمٔہ زر میں
چہرے پہ جمی پھر بھی رہی گرد سفر کی
جو ڈوب کے طوفانِ غم ہجر سے نکلے
کیا بات ہے اُس نا لۂ سوزاں کے اثر کی

’’مہجور ہو کر اور دلگیر تمنّا ہو کر راجہ یوسف کبھی اپنی دھرتی ماں کے حالات سے بے خبر نہیں رہے۔ اُن کی ہجر زدہ آنکھیں دور دیس سے بھی ہمارے مناظر کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے مشاہدات کو شعروں کا ملبوس عطا کردیتے ہیں۔‘‘
شہرِ جہاں پناہ میں راحت تمام شد
یعنی حیات و موت کی لذّت تمام شد
اربابِ حل و عقد کو کچھ سوجھتا نہیں
سیلِ ہوَس میں دانش و حکمت تمام شد
منصف اُلجھ گئے ہیں تعصُب کے جال میں
مجرم ہیں خندہ زن کہ عدالت تمام شد

’’ہمارا یہ شاعر اِن تمام صدمات، مشکلات، رنج و اَلم، درد و غم میں حوصلے نہیں ہارتا اور نہ قنوطیت پسند ہوتا ہے بلکہ رجائیت کا پیکر ہے اور اُسے اُمّیدِ واثق ہے کہ

بزمِ دنیا میں بپا ہے پھر نیا اک کارزار
نشۂ مَے کے مقابل ہے سرورِ آگہی
کوئی دن میں ختم کردے گا غبارِ تیرگی
آسمانوں سے اترتا ہے جو نورِ آگہی
وہ بصیرت دے گئی ہیں راستے کی مشکلیں
اب تو ہر سنگِ گراں لگتا ہے طُورِ آگہی

’’غزل کے روایتی موضوعات، تغزّل ، رومانیت، تلازماتِ شعری، تراکیب کی سلیقہ بندی، ہیئت کا تنوّع، منظر نگاری، الفاظ کی بندش وغیرہ پر بھی اُن کی گرفت مضبوط ہے اور قدرتِ کلام کی خوبصورتی اور مہارت پر بھی وہ عمل پیرا ہیں۔ اختصار کے پیشِ نظر میں نے کچھ جائزہ لیکر راجہ یوسف کے محاسنِ شعری پر اپنا تبصرہ لکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کا اسلوب نگارش شعری پختہ کاری کا بہت اچھا اور نادر نمونہ ہے۔ اُنہوں نے ایک نئے رنگ اور نئے انداز میں اشعار کہے ہیں۔ جن سے ان کی طبع کی روانی اور فنی پختگی اظہر من الشمس ہے۔ اور ‘‘
سچ فقط لکھتے ہیں یوسف اور اُن کے ہاتھ میں
ایک سادہ سا قلم ہے خامۂ مانی نہیں
سچ ہے ؎
یہ مضامینِ یوسف، یہ لطفِ بیاں
ہے سبھی کچھ یہ فضلِ خدا کہہ دیا

پروفیسر مبارک عابد صاحب کے مقالے کے بعد مکرم محمد انیس صاحب ڈاکٹر عبدالکریم خالد کا مقالہ پڑھنے کے لئے ڈائس پر آئے۔ ’’ کھینچ لائی یوسفِ بے کارواں کی تشنگی ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے اس مقالے کے چند اقتباس درج ہیں:
’’راجہ محمد یوسف خان کی کتاب ’’تشنگی‘‘ کا یہ فیضان ہے کہ آج مجھے لاہور میں بیٹھ کر جرمنی کے ان تشنگانِ علم و ادب سے مخاطب ہونے کا شرف حاصل ہورہا ہے جو سیرابیِ دل و جان کی خاطر یہاں پہنچے ہیں۔ میں اگر خود کو راجہ یوسف کے ان مہ وشوں میں شمار کرلوں، جنہیں بے حجابانہ حریمِ نازسے ؎ کھینچ لائی یوسفِ بے کارواں تک تشنگی ، تو اس میں چنداں مضائقہ نہیں کہ مہ وَش ہونا کسی خاتون کا نصیب ہی نہیں، کنعاں والے یوسف کا مقدر بھی ہے جس سے میری اور آپ کی نسبت کے سوحوالے موجود ہیں‘‘
’’چاہِ مرگ میں اُتارے گئے یوسف کی تشنگی کون جان سکتا ہے جو پانی کے کنویں سے اس حال میں نکالے گئے کہ اُن کے لَب کسی صحرائے بے اماں کی طرح ویران اور خشک تھے جن پر فریاد کی پَپڑی جمی ہوئی تھی۔ ایسی فریاد جو چیخ نہیں بن سکی، مگر لہو کی آتشِ سیّال بن کر رگوں میں اُتر گئی اور غم و اَلم کے نام سے زندگی کا عنوان بن گئی۔ ‘‘
’’راجہ یوسف کی شاعری میں ’’تشنگی‘‘ کا استعارہ اپنی ایک خاص معنویت رکھتا ہے۔ جہاں تک میں غور کیا ہے ’’تشنگی‘‘ کو اُن کے مزاج سے ایک گہرا تعلق ہے۔ اُن کی ۲۳ (تئیس) اشعار کی غزل، جس کی ردیف ہی ’’تشنگی‘‘ ہے، تشنگی کے ایک بے پایاں احساس کومختلف جہتوں میں، محض اَسلوب کی سطح پر ہی نہیں، بلکہ فکرو خیال کی سطح پر بھی نمایاں کرتی ہے۔ تشنگی پہلو بدل بدل کر سو(۱۰۰) رنگ میں ظاہر ہوتی ہے اور انسان ہی نہیں، کائنات کے پورے وجود میں سَرسَراتی اور کُلبلاتی ہوئی فضائے لامکاں تک جا پہنچتی ہے۔‘‘
’’راجہ یوسف ایک ذہین شاعر ہیں، وہ تشنگی کو اس کے روایتی پس منظر میں رکھ کر بھی خیال کے دھاگے میں پروتے ہیں تو کتابِ لہو کی باب کشائی اس انداز میں کرتے ہیں کہ غزل کی نازک مزاجی پر حرف نہیں آنے دیتے:

تشنہ لَب پھرتے ہیں اہلِ کاروانِ دشتِ شوق
آئی ہے منزل سے میرِ کارواں تک تشنگی
تشنگی کے سب مراحل، فکر کی بے چینیاں
بندگی، ایماں، یقین، وہم و گماں تک تشنگی

راجہ یوسف کےزیرِ نظر مجموعہ کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے لفظ اور خیال سے وابستہ روایتی اور بندھے ٹِکے مفہوم کو آنکھ بند کرکے قبول کرنے کے بجائے اُسے ردّ ہی نہیں کیا بلکہ لفظوں کے اتّصال سے پیدا ہونے والے مفہوم کو منطقیّت کا شکار ہونے سے صاف بچا لیا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے کہ ہر شاعر اور اس کی شخصیت کا ایک مزاج ہوتا ہے تو اس بات کو بھی مان لیجیے کہ ہر لفظ کا بھی ایک اپنا مزاج ہوتا ہے۔ جو شاعر کی شخصیت اور اس کے خیال سےہم آہنگ ہوجائے تو شاعر کے vision (وژن) کو بہتر طور پر پیش کرسکتا ہے۔ اگر آپ شعر میں ایک لفظ کو تبدیل کرکے اس کا ہم معنی دوسرا لفظ لانا چاہیں تو شعر کا اچھا اور جاذب نظر رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہاں مجھے ڈاکٹر وزیر آغا کی یہ بات یاد آتی ہے کہ ’’ہر اچھا شاعر ایک جوہری کی طرح، الفاظ کے نگینوں میں سے وہی نگینہ منتخب کرتا ہے جو زیور میں نصب شدہ نگینوں کی مجموعی کیفیت سے ہم آہنگ ہو۔‘‘ مگر لفظ کے انتخاب کا یہ معاملہ چلتے چلتے ہاتھ نہیں آجاتا۔ یہ کچی عمر کے شاعروں کا کام نہیں ہے، اس کے لیے ایک ایسا دستِ ہنر ساز درکار ہوتا ہے جو لفظوں کی خاص ترتیب، ان کی بُنت اور تانے بانے سے ایک خوب صورت منظرنامہ ہی تخلیق نہیں کرتا بلکہ اس میں پُراسراریت کا جادُو بھی بھر دیتا ہے۔ یہاں آپ ا یک لمحے کے لیے رُکیے اور میرے ساتھ راجہ یوسف کے یہ شعر دیکھیے:
لے گیا ہے کون میری ذات کی تنہائیاں
رکھ گیا ہے کون دل کے آئینہ خانوں میں خواب
———-
ہم لوگ تھے ناواقفِ اُسلوبِ گزارش
لَب بستہ گزاری شبِ اقرارِ تمنا
———-
پھر کُھلا یہ کہ اُسے بھی ہے محبت مجھ سے
نامہ بَر سے جو مرا یار طرحدار کُھلا
———-
گونجتے ہیں رات بھر تنہائیوں کے جلترنگ
ناچتی ہیں بے بسی کی تال پر خاموشیاں
———-
کب تلک بیٹھے رہیں گے خواب کی دہلیز پر
مستقل ایک شورشِ وہم و گماں اوڑھے ہوئے
اُن کی یادوں سے ہے یوسفؔ ہجر یوں نکھرا ہوا
رات جیسے چاندنی کا سائباں اوڑھے ہوئے
———-
بیٹھی ہے سیج پر کہیں دلہن خیال کی
آیا ہے یاد چاند کی بارات دیکھ کر
———-
اِک عمر اُن سے حُسنِ تعلق کا تھا گماں
آنکھیں کھلیں تو دیکھا محبت تمام شُد
کیفِ امید ِ وصل سے سرشار ہے بدن
دشتِ غمِ فراق کی وحشت تمام شُد
———-
یہ چند اشعار میں نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر اوراق پلٹتے ہوئے چُنے ہیں۔ انہیں پڑھ کر میری طرح آپ بھی محسوس کریں گے کہ لفظوں کے ساتھ شاعر کا برتاؤ کچھ الگ سا ہے۔ وہ زبان کو ایک نئے انداز سے استعمال کرنے کی کوشش میں ہے۔ ’’رکھ گیا ہے کون دِل کے آئینہ خانوں میں خواب‘‘۔ ’’ناواقفِ اَسلوبِ گزارش‘‘۔ ’’نامہ بَر سے جو مرا یارِ طرحدار کھلا‘‘۔ ’’ناچتی ہیں بے بسی کی تال پر خاموشیاں‘‘۔ ’’کب تلک بیٹھے رہیں گے خواب کی دہلیز پر‘‘۔ ’’اُن کی یادوں سے ہے یوسفؔ ہجر یوں نکھرا ہوا‘‘ ۔ ’’بیٹھی ہے سَیج پر کَہیں دُلہن خیال کی‘‘ اور ’’آنکھیں کھلیں تو دیکھا محبت تمام شُد‘‘ ’’دشتِ غمِ فراق کی وحشت تمام شُد‘‘۔
اِن سطروں میں لفظوں نے جو نئی ترتیب پکڑی ہے اس میں کسی منطق یا شعور کو دخل نہیں۔ یہ شاعر کے دائرۂ خیال میں نمو پانے والی ایسی وہبی اور الہامی صورت ہے جس کا جواز ڈھونڈنے والے ناکام رہیں گے۔ سیدھی سیدھی شاعری کرنے والے نوزائیدگان کی کمی نہیں، لیکن لفظوں کے رائج الوقت سلسلوں کو توڑ کر انہیں ایک نئی ترتیب سے وجود میں لانا اور معنی کی نئی صورت نکالنا ہی وہ شاعری ہے جو شاعر کے vision (وژن) کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیتی ہے اور یہیں پر آکر شاعر اور ناشاعر کا فرق معلوم ہوتا ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ راجہ یوسف نے حُسنِ بیان اورفکر و خیال کی ایسی شمعیں روشن کی ہیں جن کی لَو دُور تک جائے گی اور دیر تک رہے گی۔‘‘

ڈاکٹر عبدالکریم خالد کے مقالے کے بعد جرمنی میں مقیم معروف ادیب مکرم پرویز زیدی صاحب کو اپنا مقالہ پڑھنے کی دعوت دینے سے پہلے مکرم عرفان خان صاحب نے اُن سے اپنی دیرینہ رفاقت کا تفصیل سے ذکر کیا۔ اور بتایا کہ کس طرح زیدی صاحب نے اردو جرمن کلچرل سوسائٹی کے قیام سے لے کر آج تک ہر مرحلے پر اُن کا ساتھ دیا۔

اس کے بعد مکرم پرویز زیدی صاحب ڈائس پر آئے اور راجہ یوسف کی شاعری پر اپنا مقالہ پڑھا۔ اُن کے مقالے سے چند اقتباس یہاں درج کئے جاتے ہیں:
’’ محترم راجہ یوسف صاحب نے جب اپنی کتاب کا عنوان سوچا ہو گا تو اُن کو یہ آگاہی ہو گی کہ تشنگی کا سب سے بھرپور مظاہرہ کارزارِ کربلا میں ہوا۔ کم سِن علی اصغر سے لے کر سپاہِ حسینی کے ہر سرفروش نے تشنگی کی شدت اور کرب کا سامنا کیا۔ لیکن مشیّتِ ایزدی دیکھیں کہ کربلا کے میدان میں جو بھوکے اور پیاسے شہید ہوتے گئے وہ آج تک زندہ ہیں۔ جو پانی پیتے رہے وہ مر گئے اور ہمیشہ کے لئے مر گئے۔ محترم راجہ یوسف صاحب ’’ تشنگی ‘‘ میں اِس تشنگی کی ان الفاظ میں تصویر کشی کرتے ہیں:

چار سُو پھیلی ہوئی کون ومکاں تک تشنگی
تشنگی ہی تشنگی سرِّ نہاں تک تشنگی
تشنگی کے سب مراحل ، فکر کی بے چینیاں
بندگی، ایماں، یقیں، وہم و گماں تک تشنگی
ساقیٔ کوثر سے بڑھ کر کس کو ہو گی یہ خبر
کس طرح پہنچی ہے شہرِ تشنگاں تک تشنگی

’’ تشنگی ‘‘ کے مصنف کے ہاتھ میں جوں ہی قلم آتا ہے وہ کائنات کے راز افشا کرنے لگتا ہے۔ اِس کا اظہار انہوں نے نہایت خوبصورت انداز میں کیا ہے:

پھر طبیعت ہوئی موزوں لبِ اظہار کُھلا
پھر قلم ہاتھ میں اور دفترِ اَسرار کُھلا
عقدہ ٔ عشق جو اُلجھا تو سرِ دار کُھلا
کوئی منظر ہے پسِ پردۂ دیوار کُھلا
پھر شبِ وصل پہ اترے ہیں نشیلے منظر
میکدے رقص کُناں، حسن کا دربار کُھلا

’’ الفاظ کی بندش پر بھی مصنف کو مکمل عبور حاصل ہے۔ یوں لگتا ہے کہ دُور کہیں پربت سے صاف و شفاف پانیوں کےچشمے رواں دواں ہیں:
ہم ہیں روٹھے ہوئے زمانے سے
تم منا لو کسی بہانے سے
دُور جاتے ہو پاس آنے سے
پاس آتے ہو دُور جانے سے
باز آتے نہیں ستانے سے
حُسن کی بجلیاں گرنے سے

’’ وطن کی محبت بھی راجہ صاحب کے من میں فروزاں ہے۔ ایک عرصہ سے یورپ میں مقیم ہونے کے باوجود اُن کا احساسِ تنہائی آج بھی زندہ ہے۔ آپ اِسے یوں بیان کرتے ہیں:

موسمِ گل اور جینا تنہا
گھونٹ غموں کے پینا تنہا
ساری عمر بہایا ہم نے
اپنا خون پسینہ تنہا
تنہا مرنا بھی مشکل ہے
مشکل تر ہے جینا تنہا

’’ تشنگی ‘‘ کے یہ قلمکار ، راجہ یوسف، ملک کی موجودہ حالتِ زار سے بھی مطمئن نہیں ہے۔ نیرنگیٔ سیاست اُن کے لئے کسی خوشی کا باعث نہیں ہے۔ وہ اس صورتحال پر یوں نوحہ کناں ہیں:

آسیب زدہ صحنِ گلستاں کی فضا ہے
اس شہرِ ستمگار میں کچھ ہونے لگا ہے
اربابِ سیاست میں فقط کبروریا ہے
کردار میں عظمت ہے نہ آنکھوں میں حیا ہے
یہ طوق جو اس قوم کی گردن میں پڑا ہے
کچھ اور نہیں جرمِ ضعیفی کی سزا ہے

’’ تشنگی ‘‘ کو میں اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ سمجھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ راجہ یوسف کے اس شعری مجموعے کو اردو ادب کی دنیا میں بھرپور پذیرائی حاصل ہو گی۔ میں مالکِ حقیقی سے دعا گو ہوں کہ وہ راجہ یوسف کی عمر دراز فرمائے اور اُن کے چمنِ زیست میں بہاروں کا دور دورہ رہے۔ آمین۔‘‘

مقالات کے بعد ایک بہت ہی خوش گلو نوجوان عزیزم کمال احمد نے راجہ یوسف صاحب کی ایک غزل ترنم سے پڑھی اور بھرپور داد پائی۔ اس غزل کے چند اشعار درج ذیل ہیں:

پھر مجھے خواب خواب کر ڈالا
دل نے جینا عذاب کر ڈالا
اُس نے گلشن پہ اک نظر ڈالی
سار ا منظر شراب کر ڈالا
ضبطِ گریہ تو خیر کیا کرتے
اپنا چہرہ کتاب کر ڈالا
رُت جو بدلی تو ہم نے بھی یوسفؔ
زخمِ دل کو گلاب کر ڈالا

اِس کے بعد راجہ یوسف صاحب کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنا کلام سنائیں۔ راجہ صاحب نے ڈائس پر آکر تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ وہ آج کی تقریب میں شریک ہوئے اور نہایت توجہ سے مقالات سنے۔ انہوں نے بالخصوص ڈاکٹر محمد مطیع اللہ صاحب کا ذکر کیا کہ وہ یہاں پر اپنے ہم وطنوں اور دیگر مقامی اور غیر مقامی افراد کی خدمت کر رہے ہیں، اور اپنی بے انتہا مصروفیات کے باوجود آج کی تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ سے آنے والے شعرا اورشاعرات اور مقالات پڑھنے والے دوستوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مکرم طاہر بھٹی صاحب اور مکرم محمد انیس صاحب سے اپنے دیرینہ ذاتی تعلق کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مکرم پرویز زیدی صاحب کے دلنشیں اندازِ تحریر کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ’’ تشنگی ‘‘ پر ایک خوبصورت مضمون لکھا۔

اِن تمہیدی کلمات کے بعد راجہ صاحب نے اپنی غزلِ مسلسل ’تشنگی‘ سنائی اور خوب داد پائی۔ اِس غزل کے چند اشعار درج ذیل ہیں:

دیکھ سکتا ہوں جہاں تک، ہے وہاں تک تشنگی
آئینے میں جلوہ گر نقشِ رواں تک تشنگی
پوچھنا ہے کچھ اگر تو بادِ صحرائی سے پوچھ
کس طرح صحرا سے پہنچی گلستاں تک تشنگی
جب مقدر ہو درِ میخانہ پر دم توڑنا
کھینچ کر لاتی ہے میکش کو وہاں تک تشنگی
تشنگی کے سب مراحل، فکر کی بے چینیاں
بندگی، ایماں، یقیں، وہم و گماں تک تشنگی
تشنۂ دیدارِ گل مرتے ہیں اِس امکان سے
مار ڈالے گی فروغِ گلستاں تک تشنگی
بند ہم پر ہے درِ میخانہ تو کچھ غم نہیں
لے کے جائیں گے زمیں سے آسماں تک تشنگی
دسترس میں جس کی ہے آبِ بقائے جسم و جاں
دیکھتا رہتا ہے پھیلی ہے کہاں تک تشنگی
تشنۂ دیدار یوسفؔ ہے سراپا انتظار
کوئی تو پہنچائے میرے مہرباں تک تشنگی

تقریب کے اختتام سے پہلے صدرِ مجلس مکرم شمشاد احمد قمر نے ڈائس پر آ کر حاضرین سے خطاب کیا۔ آپ کے خطاب کے چند حصے درج ذیل ہیں:
’’ پیاس صرف پانی کی ہی نہیں ہوتی۔ ایک غریب الوطن انسان جب وطن کی مٹی کی خوشبو کو ترستا ہے، اُس کی آنکھیں اپنے عزیزوں، رشتہ داروں، پیاروں اور دوستوں کو دیکھنے کو ترستی ہیں، دل اور دماغ کے اندر وطن کی محبت موجزن ہوتی ہے لیکن صرف خبریں ہی سن سکتے ہیں وطن کی جھلک نظر نہیں آتی تو یہ تشنگی اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اِس کا احساس صرف اُس کو ہوتا ہے جو اس کرب سے گزر رہا ہوتا ہے۔ محترم راجہ صاحب نے اپنی غزل میں ان کیفیات کو سنایا بھی ہے اور اس کتاب میں اس درد کا بہت خوبصورتی سے اظہار بھی فرمایا ہے۔‘‘
’’ پہلے سیشن میں اردو زبان پر بات ہوئی ہے۔ ہمارے بزرگ محترم زرتشت منیر صاحب نے اردو زبان کی اہمیت کے بارے میں بتایا ہے۔ ہم یورپ کے اندر جس ماحول میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے اردگرد چھوٹے چھوٹے گروپ ہیں۔ ہر ایک کی اپنی زبان ہے، ہر ایک کو اپنی زبان پر ناز ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں مقامی زبان پر بھی دسترس ہونی چاہیے، ہمیں دوسری زبانیں سیکھنی چاہئیں مگر اپنی زبان بھولنی نہیں چاہیے۔ اردو ایک انتہائی پیاری اور خوبصورت زبان ہے۔ اس سے ہماری مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ دوسری زبانیں ضرور سیکھیں مگر اپنی زبان کی ترقی اور ترویج کی کوشش کو بھلانا نہیں چاہیے۔ جیسا کہ ابھی بتایا گیا ہے، ہمارے بزرگ اردو بولتے بھی ہیں اور لکھتے بھی ہیں مگر بچوں میں اس کا فقدان نظرآتا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اُن کو اردو کی طرف لائیں‘‘
’’ محترم عرفان خان صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہمارے جیسے کمزور سستی کر جاتے ہیں اور یہ ہمیں بار بار کھینچ کر یہاں جمع کرتے ہیں اور یہ چیز ہمیں اک نئی روشنی دکھاتی ہے کہ ہم اپنی زبان کی طرف توجہ کریں اور اِس کی خدمت کریں۔‘‘
’’ آج محترم راجہ یوسف صاحب کی کتاب کی رونمائی ہے۔ یہ کتاب بھی اردو ادب کے اندر ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ راجہ صاحب سے پاکستان میں بھی ملاقات ہوتی تھی مڈل ایسٹ میں بھی رہے ہیں اور اب جرمنی میں مقیم ہیں۔ جہاں بھی رہے ہیں، اِن کا اور اردو کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ جب ہمیں ان کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملا بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ شعروسخن کی بہت سی باتیں ان سے ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا زورِ قلم اور زیادہ کریں۔ وہ تمام دوست جو یہاں بیٹھے ہیں اور وہ بھائی جو اردو کی ترویج کی کوشش کر رہے ہیں، میری دعائیں اور نیک تمنائیں اُن سب کے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو برکتیں عطا فرمائے اور ان کی کاوشوں کو کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے۔‘‘
آخر پر صدرِ مجلس نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اس خوبصورت تقریب کے اختتام کا اعلان کیا۔

*******

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

One comment

  1. ماشاللہ۔ یہ مرحلہ بھی ببخوبی طے ہو گیا۔

    یہ طوق جو اس قوم کی گردن میں پڑا ہے ؎
    کچھ اور نہیں جرمِ ضعیفی کی سزا ہے

    ضعیفی کو جرم قرار دئیے جانے کو بقائے اصلح کے وضع کردہ قاعدے کے تحت اقبال نے بھی درست قرار دے کر استعمال کیا ہے۔ جبکہ بنظر دیگر دیکھا جائے تو ضعیفی جرم نہیں ہے۔ ضعیفی بھی قوت پنہاں ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend