ہوم / حقوق/جدوجہد / تارکین وطن اور تعلیم از قلم ، حافظ احمد۔ سپین

تارکین وطن اور تعلیم از قلم ، حافظ احمد۔ سپین

تارکین وطن اور تعلیم

دُنیابھر کے تمام معاشرے تعلیم کو زیور اور ترقی کا اہم زینہ سمجھتے آئے ہیں اگرچہ کبھی کبھار جدید علوم اور سائنس کو مذہبی عقائد سے متصادم قرار دے کر مذہبی پنڈتوں نے نہ صرف مخصوص طبقے بلکہ پوری کی پوری قوم کو تعلیم سے دور رکھا اور اندھی عقیدت اور جہالت کے ثمرات سے مستفید ہوتے رہے، المیہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک بشمول پاکستان اسی رویے کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں تعلیم نہ ریاست کی ترجیح ہے اور نہ کئی نسلوں سے ان پڑھ افراد نئی نسل کو علم کی روشنی دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ بنیادی بات وسائل کی کمی کی بھی ہوسکتی ہے یقیناًریاست ہی غربت میں اضافے اور تعلیم کیلئے بہتر حکمت عملی نہ ہونے کی ذمہ دار ہوسکتی ہے تو دوسری جانب کچھ لوگ تعلیم کو بہتر روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہوئے سماج میں اس کے کردار کو محدود کردیتے ہیں۔
ہنر مند اور کاروباری افراد اپنی اولاد خصوصا بچوں کو کاروبار یا ہنر منتقل کرتے ہیں اور یوں وہ روزگار کے حصول کے معاملے میں ایک تحفظ محسوس کرتے ہیں جبکہ بدلتی دُنیا کے اُن تمام تقاضوں اور معاملات سے بڑی حد تک محروم رہتے ہیں جو محض تعلیم کی بدولت ہی ممکن ہیں۔ پاکستان سے دُنیا بھر کے ممالک کی کئی یونیورسٹیز میں کچھ طلباء و طالبات تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں یہ وہ چند خوش نصیب ہیں جن کے والدین اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ جدید اور اعلیٰ تعلیم ہی بہتر فرد بناتی اورمعاشی مستقبل کو محفوظ کرتی ہے یا پھر وہ ایسے افراد ہیں جو خود اس سچائی سے آشنا ہیں یہ ایک قابل ستائش بات ہے کہ ہم دُنیا بھر سے عصری تعلیم اور مہارت سیکھ کر اپنے ملک کو اس سے مستفید کرکے بدلتی دُنیا کے برابر دیکھ سکیں۔
تارکین وطن والدین کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ ان ممالک میں ہونے کے باوجود بھی اپنے بچوں کو میزبان ریاست کی طرف سے دی گئی ترغیب اور سہولیات کے ہوتے ہوئے بھی اعلیٰ اور بہتر تعلیم دلوانے میں کم دلچسپی رکھتے ہیںیا پھر وہ ایسے حالات سے گذر رہے ہیں جہاں اُن کی اولاد کو جلد از جلد کوئی ملازمت کرکے معاشی بوجھ بانٹنا ہوتا ہے۔
بالخصوص سپین میں پاکستانی والدین کی اکثریت ایسی ہے جن کے بچے پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں اور والد ہی واحد کفیل ہے ایک پورا پس منظر ہے کہ والد سے دور ماں کی لاکھ کوششوں کے باوجود ان بچوں کی اکثریت پاکستان میں تعلیم یا سکول سے باغی رہی ہوگی کیونکہ انہیں یہی گماں مطمئن کرتا رہا ہوگا کہ اُنہوں نے سپین چلے جانا ہے۔ یہاں پہنچ کر سولہ سال سے کم عمر بچوں کو تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے اُس وقت مشکلات پیش آتی ہیں جب زبان(کتلان، سپینش) انگریزی اور اُردو میڈیم اداروں سے آئے بچوں کیلئے کڑا امتحان ثابت ہوتی ہے یہ دلبرداشتہ ہوکر سولہ یا سترہ سال کی عمر میں کام کی اجازت ملتے ہی محنت مزدوری شروع کردیتے ہیں۔
کم آمدنی والے والدین کی اکثریت کیونکہ خود چاہ رہی ہوتی ہے کہ اُن کی اولاد جلد از جلد اُن کا معاشی سہارا بنے اور یوں ایک اور نسل تعلیم کے حصول سے محروم رہ کر خود کو معاشرہ کے فعال افراد بنانے، بہتر اور باوقارروزگار کی بجائے محدود اور کٹھن رستہ چن لیتی ہے۔
اس کے برعکس کچھ والدین اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس مشکل وقت میں جب کم آمدنی میں معاشی ضروریات پوری کرنا مشکل ہے اور اُن کے بچے نئے معاشرے کے تعلیمی نظام میں زبان اور دیگر کئی مسائل کا شکار ہیں تو بچوں کی تعلیم ہی کو ترجیح سمجھتے اور کامیابی کا راستہ جانتے ہوئے اس سلسلے کو ٹوٹنے نہیں دیتے۔
بدقسمتی سے یہاں پر بھی والدین کی اکثریت اپنی بچیوں کو اس تعلیمی نظام میں شامل ہونے سے محروم رکھتی ہے بھلے اُن کی بچیاں جتنی مرضی باصلاحیت اور تعلیمی قابلیت کی حامل ہوں یہ ایک ایسا رویہ ہے جس نے اکیسویں صدی میں بھی عورت کو تعلیم جیسی نعمت سے محض اس لئے محروم رکھا کہ ہمارے اپنے اندر کا خوف اور مفروضے اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تارکین وطن والدین کو نہ صرف سپین بلکہ باقی ممالک میں بھی اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہئے یہ اُن کے بہترین معاشی مستقبل، خوشگوار زندگی کے ساتھ ساتھ اُنہیں صحت مند شہری بنانے اور اپنے آبائی وطن پاکستان کے تشخص اور وقار کے لئے بھی ضروری ہے تاکہ یہ بچے پاکستانی کمیونٹی کی سیاست کے ایوانوں سمیت تمام شعبہ جات میں نمائندگی کرتے نظر آئیں۔

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend