غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے
​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت کی ہے

​​​​روشنی یونہی نہیں من میں میرئے درآئی
​​​​روز و شب میں نے کئی پہر ریاضت کی ہے

​​​​درد پہ در د ملے کُھلتے گئے باب ِ قبول
​​​​اشک در اشک میرئے دل نے ندامت کی ہے

​​​​کون کرتا ہے کسی غیر سے دل کی باتیں
​​​​آپ کو اپنا سمجھ کر ہی جسارت کی ہے

​​​​میں تہی دست صدا دے کے چلا ہی جاتا
​​​​اُس نے اِس در پہ ٹہرنے کی ہدایت کی

​​​​ناگہاں کس نے محبت سے پکارا مجھکو
​​​​نا گہاں کس نے میرے دل پہ عنایت کی ہے

​​​​ایک پل وصل کا کچھ ایسا غنیمت ٹہرا
​​​​ میں نے ہرلمحہ اسی پل کی حفاظت کی ہے

مرزا محمد افضل، ٹورانٹو، کینیڈا

Sponsers

اپنا تبصرہ بھیجیں