ہوم / حقوق/جدوجہد / انتخاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نجمہ صدیقی

انتخاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نجمہ صدیقی

نجمہ صدیقی صاحبہ نے ضیافت قلب و ذہن کے لئے جو ادبی مائدہ پچھلے برس بھجوایا تھا وہ ہمارے حالات حاضرہ کی یکسانیت کی وجہ سے ابھی تازہ ہے
زندگی سے ڈرتے ہو ؟….
زندگی کلیساء کی
راہبہ نہیں کوئ
جا نماز پر بیٹھی
زاہدہ نہیں کوئ
زندگی ہے اک چینچل
بے حجاب رقاصہ
ہاتھ تھام کے جس کا
رقص گاہِ عالم میں
ناچتا ہے ہر انساں
تم بھی اس حسینہ کو
بازوؤں کے گھیرے میں
لے کے بے قراری سے
رقص کیوں نہیں کرتے؟
نرتکی سے ڈرتے ہو ؟
اس سے تم نہیں ڈرتے
مولوی سے ڈرتے ہو
مذہبی جنونی کی
دشمنی سے ڈرتے ہو
وہ مصوری ہو
یا شاعری و موسیقی
ہر لطیف فن کو وہ
کم نظر فتاویٰ گر
کافری سمجھتا ہے
تم عجب سپاہی ہو
رائفل کی نالی سے
تم کو ڈر نہیں لگتا
بانسری سے ڈرتے ہو
جس سے وہ ڈراتا ہے
تم اُسی سے ڈرتے ہو
زندگی بدن کا رقص
دھڑکنوں کا سازینہ
ساز سے تمہیں نفرت ؟
رقص سے تمہیں نفرت ؟
شعر سے تمہیں نفرت ؟
حسن سے تمہیں نفرت ؟
خوف, نفرتوں کی جڑ
یار! تم اگر اتنا ہی
زندگی سے ڈرتے ہو
مر کیوں نہیں جاتے ؟
خود کُشی سے ڈرتے ہو؟

مصنف admin

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی خود ہی آن بتاوء جی گیان کا بھید اور بھاوء جی من

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend