ہوم / حقوق/جدوجہد / طے شدہ مسئلہ۔۔۔۔۔۔۔۔از قلم ارشاد عرشی ملک

طے شدہ مسئلہ۔۔۔۔۔۔۔۔از قلم ارشاد عرشی ملک

"طے شدہ مسئلہ”‬

‎( ایک مسئلہ جو سن چوہتر تک نوے سالہ مسئلہ کہلاتا تھا،اب طے شدہ مسئلہ کہلاتا ہے)

‎ارشاد عرشیؔ ملک

‎مَت کہو مہرباں،طے شُدہ مسئلہ
‎ہے مسائل کی ماں  ،طے شُدہ مسئلہ

‎لب پہ مہرِ خموشی لگائے ہوئے
‎رہ گیا بے زباں ،”طے شُدہ مسئلہ

‎سالہا سال تک کیوں چھپاتے رہے؟
‎قوم سے قصہ خواں ،طے شُدہ مسئلہ

‎بات کرنےکی اُس پر اجازت نہیں
‎پھر بھی وِردِ زباں ،طے شُدہ مسئلہ

‎بنتا رہتا ہے ،وقتا ًفوقتاً یہاں
‎دین کا امتحاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎اُن سے کیا بات ہو عقل اور فہم کی
‎جن کا زورِ بیاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎مولوی کا چراغِ الہ دین ہے
‎اُس کے دیں کی ہے جاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎بغض و نفرت ،تعصب کے اظہارکی
‎ایک چلتی دُکاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎اُس جگہ اَب مسائل کا انبار ہے
‎حل ہوا تھا جہاں، طے شدہ مسئلہ

‎تم یہ سمجھے ،تمہیں کامیابی ملی؟
‎جگ میں ہے کامراں ،”طے شُدہ مسئلہ

‎کلُ جہاں میں بڑی شان سے کر گیا
‎چرچائے قادیاں،طے شُدہ مسئلہ

‎وہ جو اک اور 72 میں اشکال تھیں
‎کر گیا سب عیاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎ایک پھندے کی صورت ہے لٹکا ہوا
‎بخت کے درمیاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎کاٹ سے اِس کی بچتا نہیں طعنہ زن
‎ایک تیغِ بُرآں ،طے شُدہ مسئلہ

‎دار تک اپنے ہیرو کو لے کر گیا
‎بن کے عبرت نشاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎ایک آمر پہ جا کر فضا میں گرا
‎بَن کے برقِ تپاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎بھوت بن کر ڈراتا ہے شام و سحر
‎ہائے آسیبِ جاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎جب ضرورت ہو باہر نکل آتا ہے
‎دفعتا ً ،ناگہاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎دفن ہو کر اسمبلی کے ایوان میں
‎ہو گیا لا مکاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎دیں کے تاجر ،اِسی سے کریں بوہنی
‎سب کے زیبِ دُکاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎پھول کھلنے کی رُت روند کر بن گیا
‎اِک مسلسل خزاں ،طے شُدہ مسئلہ

‎چند شعروں میں عرشیؔ سمٹتا نہیں
‎اب ہے اِک داستاں ،طے شُدہ مسئلہ
‎۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

‎غزل ‎الہام ، خواب ، یاد ، اشارہ ، خبر ، خیال ‎مقدور کچھ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend