ہوم / حقوق/جدوجہد / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

‎غزل

‎الہام ، خواب ، یاد ، اشارہ ، خبر ، خیال
‎مقدور کچھ نہیں تو ہے جانے کدھر خیال

‎سوچا گیا تجھے تو حقیقت ہوئ عیاں
‎پیدا ہوا ہے تیرے تصور سے ہر خیال

‎نازاں ہوں میں کہ مدحت _ مولا مرا نصیب
‎تائید _ ایزدی سے ہوا معتبر خیال

‎دلدار طے شدہ وہی توصیف طے شدہ
‎لکھے ہوے ہی لکھے گئے بیشتر خیال

‎آتے ہیں مجھ سے مانگنے دوشیزگی کی داد
‎سوکھے ہوے شجر کی طرح بے ثمر خیال

‎لذت تھی گمرہی میں تو منزل تھی بے نشاط
‎ہر آن روکتا رہا ، ہر موڑ پر خیال

‎وحشت میں روز وشب کی عبادت سے بے نیاز
‎جاے تری طرف تو اٹھاے نہ سر ، خیال

‎افسوس میں نے رول دیا عشق میں اسے
‎لاتا رہا تھا ڈھونڈ کے کیا کیا گہر ، خیال

‎چھوڑ آے اس نگر کو جہاں عشق مر گیا
‎جاتا نہیں ہے اب تو ادھر سے ادھر خیال

‎اک نقش _ رہ گزار ہیں، مٹ جائیں گے ہم آپ
‎کچھ تو قدم سنبھال کے چل ، کچھ تو کر خیال

‎سوچوں پہ اختیار ترے بعد جب نہیں
‎لے جاے مجھ کو جانے اڑا کر کدھر ، خیال

‎ساے کی جستجو میں بہت دور تک چلا
‎بادل مگر تھا واہمہ ، لیکن شجر خیال

‎دل گرد _ ہجر میں جو اٹا تو پکار اٹھا
‎میں نے عبث کیا تھا اسے ہم سفر خیال

‎شام آئ تو گریز ، سحر آئ تو گریز
‎اس کا کہ جس کا رکھا تھا شام و سحر خیال

‎آخر ترے خیال کے آگے ٹھہر گیا
‎پہلے بھٹکتا پھرتا رہا در بدر خیال

‎ویسے تو آنے والوں کا تانتا بندھا رہا
‎لیکن وہ تو کہ جس کا رہا عمر بھر خیال

‎بے کل رہا ہمیشہ اسی خشک و تر کے بیچ
‎کوئ خیال خشک تھا اور کوئ تر خیال

‎آخر انہی کی قید میں ٹوٹے تمام خواب
‎دیوار و در کو کرتا رہا میں جو گھر خیال

‎شاید اسی لئے ہوں خیالوں میں گم ابھی
‎آیا نہیں ہے مجھ کو ابھی تک امر خیال

‎اکثر غلط خیال تھے ، اکثر تھے جھوٹے خواب
‎سچ ہوتے کم ہی دیکھے گئے خواب اور خیال

‎بے عشق زندگی تو ہے بے موت مردنی
‎صابر ظفر خیال ارے صابر ظفر خیال

‎صابر ظفر

 

مصنف admin

Check Also

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی دیپ کچھ تھے ، مگر جلے ہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend