ہوم / تعارف / زاویہ نگاہ۔۔۔۔۔۔از، سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

زاویہ نگاہ۔۔۔۔۔۔از، سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

ادب پارہ
کچھ دن پہلے رضا علی عابدی کی کتاب "جرنیلی سڑک "پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔جس میں وہ سڑک کنارے سفر کرتا ہوا جب اختتام تک پہنچا اور اس نے ایک بابا جی سے پوچھا کہ کیا یہاں جرنیلی سڑک ختم ہوتی ہے؟ تو باباجی نے جوا ب دیا کہ نہیں یہاں سے تو جرنیلی سڑک شروع ہوتی ہے ۔اسی طرح ہم بھی نہیں دیکھتے سوچتے کہ جہاں ہماری سوچ کا اختتام ہوتاہئےوہاں سےکسی کا آغازہو سکتا ہے ۔ میز کے دونوں طرف انسان ہمیشہ ایک سے ہوتے ہیں لیکن انکے دیکھنے کا انداز ہمیشہ جدا ہوتا ہئے-جو دیوار میزکے ایک طرف بیٹھنے والے کے سامنے ہوتی ہے وہی دیوار دوسری طرف والے کے پیٹھ پیچھے ہوتی ہئے- جسے چاہے تو وہ منہ پیچھے کر کے دیکھ لے اور چاہے تو کہہ دے کہ یہاں کوئی دیوار ہے ہی نہیں -زندگی میں یہ بات اہم ہے کہ کسی کی بات کو رد کرنے سے پہلے ایک دفعہ اسے دوسرے کی نظر سے بھی دیکھ لینا چاہیے ۔لیکن یہ بات سمجھتے سمجھتے زندگی کا سفر ختم ہو جا تا ہے انسان کی میں ختم نہیں ہوتی -سب کچھ میں ہی میں ہوں باقی سب تو جاہل مطلق ہیں یہ فی زمانہ ایک چلن بن گیا ہے کوئی اور کچھ کرتا ہے تو غلط بھلا کبھ ایسابھی ہو تا ہے ہم نے تو کبھی نہیں سنا بھی اگر آپ کے پاس بینای نہیں تو سب آنکھ رکھنے والے جھوٹے تو نہیں لیکن کیا کیا جاے کہ یہی دستور ہے آج اصل میں کچھ ایسا ہوا کہ یقین آگیا زندگی بھر اگر آپ کنوین کے مینڈک بنے رہیں اور سوچیں کہ آسمان بس اتنا ہی ہے جو مجھے نظر آرہا ہے تو کسی دوسرے کنوین کا مینڈک بھی کچھ ایسا ہی سوچ رہا ہوتا ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ نائلہ جب بیاہ کر سسرال گئی تو اُسے راوایتی سا خوف نہیں تھا – ایسا اس لیے نہیں تھا کہ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ وہ باقی ہر چیز میں بھی ایکسپرٹ تھی کیا چائیز اور کیا تھائی ہر قسم کے کھانوں میں اوّل بہن بھائی اداس ہوتے کہ اب اتنے مزے کے کھانے کون کھلائے گا؟ اور ماں پریشان کہ اب گھر کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟ سسرال میں پہلی دفعہ چنا چاٹ بنائی بہت شوق سے گنگناتے بے فکری سے خوبصورت سر پوش سے ڈھانکا ٹرے سجائی اور جب سارے گھر والوں کی موجودگی میں سرپوش اتارا تو ہاہائے کی اونچی آواز گونجی”امی بھابھی نے چاٹ میں دھنیا ڈال دیا ہے‘‘نند کی آواز سننا تھا کہ ہرسمت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی سب اکٹھے بول رہے تھے کہ ہم نے تو کبھی چاٹ میں دھنیا ڈالتے نہیں سنا کوئی بھی نہیں ڈالتا- یہ کہتے ہوے اواز مین ایسا یقین ہوتا کہ مانو حدیث می ایا ہے پتہ نہیں انہوں نے کس کتاب میں پڑھ لیا ؟دیورکی استہزائی آواز بھی سنائی دیتی اور وہ ہر دفعہ منمناتی فلاں آنٹی فلاں گھر والے فلاں۔ شیف لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز سنتا ہی کون ہے۔ہنستے ہنستے ساری چاٹ ختم ۔اب ضائع تو نہیں کرنی نا پتہ نہیں کہاں قسمت پھوٹ گئی بھائی کی ساری زندگی اب کیا کرے گا؟ ماں باپ نے کچھ نہیں سکھایا بس پڑھا کر ہمارے متھے مار دی ہے۔ اسی طرح دائرے کا سفر شروع ہوا اور چار سال تک اسی طرح سنتی رہی اور کڑھتی رہی تاوقتیکہ اسکی نند جس کو ماں باپ بہت کچھ سکھا کر بھیج رہے تھے اپنے سسرال چلی گئی -ایک دن وہ اپنی ساس کےساتھ اپنی نند کے گھر گئی چونکہ اس کو اطلاع کردی گئی تھی اس لیے مرکزی دروازہ کھلا دیکھ کر وہ لوگ اندر چلے گئے طویل صحن کو عبور کرتے ہوئے ان کے کانوں میں اپنی نند کی ساس کا واویلا گونج رہا تھا کہ “ہا ہائے بہو یہ کیا چاٹ دھنیے کے بغیر ؟ایسے کون بناتا ہے؟ ہم نےتو کبھی نہیں سنا کہ دھنیے کے بغیر چاٹ بنے کچھ ماں باپ نے سکھایا نہیں “ از سعدیہ تسنیم سحر جرمنی

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend