ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ امینہ شاہ

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ امینہ شاہ

غزل

یہ میری آنکھوں کے جگنوؤں میں جو اک چمک ہے تمہیں نا دے دوں
یہ میرے چاروں طرف جو پھیلی ہوئی دھنک ہے، تمہیں نا دے دوں

زمانے بھر کی ہے خاک چھانی، تھکن کے صحرا میں پاؤں چھلنی
تمہیں نہ پا کر جو دل میں ٹھہری ہوئی کسک ہے، تمہیں نا دے دوں

محبتوں کے تھے جتنے موسم وہ سب تمہارے ہی نام لکھے
دمکتے آنچل، حِنا کی لالی میں جو مہک ہے، تمہیں نا دے دوں

تمہی کو دے دوں یہ چاند تارے، یہ ابر و باراں، یہ رنگ و خوشبو
جو میرے سر پر ہے نیلی چھتری، حسیں اُفق ہے، تمہیں نا دے دوں

وہ خوشبوؤں سے لکھے صحیفے تو غم کی بارش میں بہہ گئے ہیں
جو لوحِ دل پر لہو سے لکھا ہوا ورَق ہے، تمہیں نا دے دوں

(صائمہ امینہ شاہ)

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend