ہوم / حقوق/جدوجہد / نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

سنو جاناں
محبت کر تو لیتے ہیں
مگر اتنا سمجھ لینا،
محبت کانچ جیسی ہے

کبھی یہ چاند بن کر وصل کی راتوں میں آتی ہے
کبھی اشکوں میں ڈھل کر ہجر کے صدمے اٹھاتی ہے
کبھی اک آگ بن جاتی ہے، جلتی اور جلاتی ہے
محبت آنچ جیسی ہے

اسے دامن میں بھر لینا
بکھرنے تم نہیں دینا
تمہارے پاس رکھ دی ہے
امانت ہی سمجھ لینا
بچانا سنگ باری سے

محبت کانچ جیسی ہے
محبت آنچ جیسی ہے

مصنف admin

Check Also

کنکاں چھڈ،۔۔۔۔۔کپاہ لینے آں)…..پنجابی غزل، ۔۔۔طاہر احمد بھٹی)

(کنکاں چھڈ ، کپاہ لینے آں) تیرے ساہیں، ساہ لینے آں ساہ کیہڑے نے، پھاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend