ہوم / حقوق/جدوجہد / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد سلیم طاہر

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد سلیم طاہر

مہک سکون میں ہے رنگ اضطراب میں ہیں
کسی کے پھول ابھی تک مری کتاب میں ہیں

بس ایک ایڑھ لگانے کی دیر ہے باقی
لگام ہاتھ میں پاؤں مرے رکاب میں ہیں

یہ کون روز نیا آفتاب بھیجتا ہے
یہ کس کے چرچے محبت کےماہتاب میں ہیں

ابھی خرد نے کئی گتھیاں نہیں کھولیں
سوال کتنے ہی تشنہ ترے جواب میں ہیں

بہت سے چہروں کی پہچان ہی نہیں ممکن
بہت سے جاننے والے ابھی حجاب میں ہیں

تمام دِن مجھے گردِش میں جام رکھتا ہے
شرابیں اور بھی شامِل مری شراب میں ہیں

ذرا سی دیر میں کھولوں گا اپنا کھاتہ میں
مُغالطے ابھی کتنے ترے حساب میں ہیں

بس ایک خواہش ِ دیدار میرے دِل میں ہے
ہزار عذر ترے دست ِ اجتناب میں ہیں

محمد سلیم طاہر

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend