ہوم / حقوق/جدوجہد / ایک پرانا مکتوب بنام ظفر معراج۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ایک پرانا مکتوب بنام ظفر معراج۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ظفر معراج صاحب،
پنگ پانگ کی گیند سے مرغی کا بچہ نہیں نکل سکتا بھلے آپ اسے بیس دن تک جاوید چوھدری صاحب کی سٹڈی میں رکھ دیں۔
مسئلہ یہ ھے کہ۔۔۔
صف زاہداں ہے سو بے یقیں صف میکشاں ہے سو بے چراغ
نہ وہ صبح ورد و وضو کی ھے نہ وہ شام جام و سبو کی ھے
ہماری اجتماعی بد قسمتی کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر طرف کڑوے دودھ والے آک کے پودے ہیں جن میں کہیں اگر ہرنولے کا بوٹا اگا ہو تو ہمارے لئے وہی پردھان ہے۔ لکھ کون رھا ہے؟
مختار مسعود اور بوڑھے ہو گئے، مشتاق یوسفی صاحب پہ بے دلی طاری ہے۔
سلیم کوثر بولنے سے معذور و لا چار۔۔۔۔۔تو پھر یہی ہو گا۔آپ کو اور آنے والی نسلوں کو ادب، تاریخ اور تنقید اب جاوید چوہدری، سلیم صافی یا پھر حامد میر سے ہی پڑھنا ھے۔ ان لوگوں نے مولوی کی طرح اپنی لاوڈ سپیکر writt قائم کر لی ہوئی ھے اب ان کو چپ کر کے سنیں اور سنتیں پڑھ کے چپ چاپ گھر چلے جایا کریں.
جس طرح بعض بیو رو کریٹس کو شوق ہوتا ھے کہ وہ میڈیا کی گدی بھی سنبھال لیں اسی طرح بعض میڈیا کے لوگ خواری اور تذلیل کا ذائقہ چکھے بغیر ادب اور جمالیات پر محاکمہ کرنے کی حماقت کر بیٹھتے ھیں۔لیکن سیانے بھی لوگ ہیں ان میں، مثلا” میں نے کبھی نجم سیٹھی صاحب کو ادب بھگارتے نہیں سنا۔
نہ ہی ڈاکٹر شاھد مسعود کو۔۔ایاز امیر بہت شستہ ذوق رکھنے کے باوجود گیلی منڈیر پر پاوءں نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔و علی ھذ القیاس
اس لئے مجموعی طور پر ادبی اور جمالیاتی ذوق عام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ لوگ گڑ گھوٹے ہوئے شیرے کو شھد کے طور پر خریدنے سے اپنی ذاتی پہچان کی بنیاد پر انکار کر دیں اور دوسرا اخبارات کو چاہئے کہ وہ ادب کے ڈیلر ہونے کی بجائے ادب پرور کا کردار ادا کریں۔
اگر آپ ظفر معراج نہ ھوتے تو ایسا اچھا جواب دنیا اخبار نے اتنی اچھی جگہ نہیں چھا پنا تھا!
ایسی کئی کمزوریاں ہیں جو معاشروں میں رائج ہو جائیں تو منٹو ہی نہیں علم و فضل کی ہر صنف کنارا کر جاتی ہے۔
آخر پہ عرض ھے کہ نمل یونیورسٹی میں ھمارے داخلے کے وقت ایک جارحانہ انٹرویو پینل نے ہم سے پوچھا کہ حبیب جالب کو آپ کہاں رکھتے ہیں؟
ھم نے اسی رو میں جواب دیا کہ۔
"وہ میری اور آپ کی ریٹنگ کی مدد کے بغیر ہی اردو ادب کی تاریخ میں جالب کے طور پر خود کو منوا چکے ہیں۔”
مگر ہمارے استاد یاسر عرافات تھے جو اس جواب کو خندہ پیشانی سے پی گئے اور ہمیں داخلہ مل گیا۔
منٹو اس فلم ، فلم کے تماش بینوں، سوشل میڈیا کی ہڑبونگ اور جاوید چوھدری صاحب کے کالم کے بغیر ہی اردو ادب میں اپنا مقام طے کروا چکا ھے۔۔۔۔۔
اور قاتل کی سزا یہ بھی کہ میں زندہ ھوں۔۔۔!!!

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Censorship Never Conceals the Truth! By Waseem Altaf

Fiaz International Festival was held at Lahore from 16-18 November, 2018. Javed Akhtar and Shabana

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend