ہوم / حقوق/جدوجہد / جج صاحب، رہنے دیجئے یہ پتھر بھاری ہے۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

جج صاحب، رہنے دیجئے یہ پتھر بھاری ہے۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

پنجابی کی ایک مثل ہے کہ،
"مجھ دے کے گھوڑی لئی، دودھ پینوں گئے، لد سٹنی پئی”
ترجمہ یہ کہ بھینس دے کر گھوڑی لی، دودھ پینے سے بھی گئے اور الٹا روز گھوڑی کی لد صاف کرنی پڑی۔
پہلے تو چند گزارشات اولی الا بصار کے لئے ہیں، جن میں جج صاحب اس لئے شامل نہیں کہ وہ تو ان دنوں خود منبع بصیرت بنے بیٹھے ہیں اس لئے ان سے کیا عرض کریں۔ آج تک تو عدلیہ کی اخلاقیات میں کیس سے پہلے فیصلہ کبھی بھی اور کہیں بھی اچھا نہیں سمجھا گیا ۔۔۔۔۔لیکن

کاش کچھ اقدار ہوتیں، جو نہیں
پھر بھلا جی کیا جلانا، فارہہ۔۔۔۔۔!
بات یہ ہے کہ آپ کے ارباب اختیار نے پیش آمدہ کٹھ ملائیت کے آگے ناواجب طور پر یہ سودے بازی کی کہ پاکستانیوں کے ایک گروہ کے عقیدے پہ سرکاری حکم جاری کر کے ان کو ریاست میں "قانون اور آئین” کی اغراض کے لئے ناٹ مسلم قرار دے دیا۔
مجھ دے دی اور گھوڑی لے لی، ملائیت لے کے احمدیت کی بلی چڑھائی۔
سن تہتر کی اس آئین سازی کے بعد، معاشرتی امن، سیاسی استحکام، آئین کے تقدس، قانون کے احترام، نظام کے انصرام اور ریاست کے قیام و استحکام کے دودھ سے آپ محروم ہو گئے۔ ایک خطہ زمین میں بندر بانٹ اور گیدڑ ٹپوشیاں قومی منظر نامے پہ ابھر آئیں۔ وزیر اعظم کو پھانسی دینے سے گھوڑی کی لید شروع ہوئی، پھر اکثریت کے وہ سیاسی حقوق سلب ہوئے جن کے بل بوتے پر اقلیت سے کھلواڑ کیا تھا۔ ضیاء نے جونیجو دیا ۔۔۔۔۔جو وزیر اعظم کیا تھے بس چوسنی ہی تھے۔ پھر پال پوس کے نواز شریف دیا۔۔۔۔عمران خان کا ظہور ہوا۔۔۔۔بے نظیر منظر سے ہٹی اور آصف زرداری معرض وجود میں آیا۔ کہیں ایم کیو ایم اگی کہیں جہاد پنپا۔ لیکن معقولیت، سیاسی وضعداری اور ریاستی نظام کی چھاوں دوبارہ دیکھنی نصیب نہیں ہوئی۔ پہلے نو ستارے اور نظام ۔۔۔۔۔ملاں، پھر جہاد، پھر مفتی محمود کی انتہائی شکل فضل الرحمن، ادھر سمیع الحق اور شیرانی و آشرفی۔۔۔۔جھنگوی لکھوی اور مرید کے والے حافظ سعید۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ لیاقت بلوچ اور منور حسن قسم کی جماعت اسلامی جو کس کو شہید اور کس کو مردہ کہے۔۔۔۔۔۔
یہ ساری لید اس گھوڑی کی ہے جو آپ کو پینتالیس سال سے اٹھانی پڑ رہی ہے۔۔۔۔۔اور معاشرے کو امن و آشتی، مل جل کر رہنے، جیو اور جینے دو یا آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت اور صحت و سلامتی کا دودھ دوبارہ نصیب نہیں ہوا۔
البتہ موٹر وے، اورنج ٹرین، میٹرو اور سی پیک جیسے مانگے تانگے اور مقروض بلکہ گروی رکھنے والے منصوبے ایک چوسنی کی طرح بلکتے روتے بچے کے منہ میں ٹھونس دی گئی اور بچے کے جبڑے تھک گئے اور کمزوری سے ہڈیاں نکل آئیں پر دوبارہ دودھ نصیب نہیں ہوا۔
لیکن خیر۔۔۔۔ابھی بچہ مرا نہیں اور ڈھانچہ گرا نہیں تھا کہ یہ ایک اور مصیبت ٹوٹ پڑی۔
ایک ہائیکورٹ کے فاضل جج نے سب کام چھوڑ کر احمدیوں کو واحد مقصد بنا لیا ہے۔
جب کوئی بات سارے ملکی اخبارات کی ہیڈ لائن بن جائے۔۔۔پھر بی بی سی پہ آ جائے تو عمومی طور پر وزیر اعظم، صدر، سینٹ کے سربراہ ، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کے راڈار میں الارم ہو جاتا ہے اور ڈی جی آئ ایس آئی اور آئ بی کے ڈی جی تک ایسی ڈویلپمنٹس پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور داخلی طور پر خطرناک باتوں کو روکنے کا بھی طے شدہ میکنزم ہوتا ہے اور سیکشن آفیسر تک کے لوگوں کو بھی حساسیت اور معاملے کی نزاکت کا پورا شعور ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس وقت سارے کے سارے مچلے کیوں بنے ہوئے ہیں؟؟؟

دوسرا سوال یہ کہ جج صاحب نے ان سب کو پیچھے لگایا ہوا ہے یا ان سب نے جج صاحب کو آگے ؟؟؟
یہ احمدیت پاکستان میں کوئی نصاب سے باہر کا سوال نہیں ہے۔ دو واضح طبقے ہیں۔ ایک مولوی اللہ وسایا قسم کے لوگ جو ایک سو تیس سال سے احمدیت کا قلع قمع کرنے کے بے وسائل اور ناقابل عمل ڈھکوسلوں پہ زندہ ہیں اور رات کو سوتے وقت روز احمدیت کا قلع قمع کر کے سوتے ہیں۔ وہ اپنی جنت میں مگن ہیں ۔۔۔۔۔اور رہیں، ہمیں ان سے کیا لینا دینا۔
دوسرے ہیں آپ کی اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کے ادارے اور ان کی ملکی اور بین الاقوامی ہائی کمان۔
وہ پوری بصیرت سے جانتے ہیں کہ احمدی، اور احمدیت۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ تو پاکستان مخالف ہیں اور نہ ہی اسلام دشمن
نہ ہی یہ پاکستان میں کسی کے ایجنٹ ہیں اور نہ دیگر ملکوں میں۔
نہ یہ کسی کا لگایا ہوا پودا ہیں اور نہ ہی خود ساختہ یو خود کاشتہ ہیں۔
نہ علم مخالف ہیں اور نہ ہی خود جاہل ہیں۔
نہ ملحد و بے دین ہیں اور نہ ہی بے عمل مقلدین ہیں۔
نہ نظام و انتظام کے مخالف اور باغی اور نہ خود غیر منظم اور بے مہار۔
رہن سہن اور تعلیم صحت اور سماجی معاشی و معاشرتی قدروں کو خون جگر دے کر پروان چڑھانے والے مہذب اور متحمل انسان ہیں جن کو آپ سے اسلام کے سرٹیفکیٹ کی نہ پاکستان میں حاجت ہے اور نہ دنیا کے کسی اور ملک میں۔
مسقبل کا پورا وژن اور ماضی و حال کا بھر پور ادراک رکھتے ہیں۔
اور عزت اور وقار رکھنے والی لیڈرشپ کے پیچھے چلنے والے صوم و صلوت کے پابند لوگ ہیں۔
زندہ خدا اور جاری فیضان نبوت سے پیدا ہونے والی روحانیت کے قائل اور پروردہ ہیں۔

اس میں میڈیا کے تمام بڑے اداروں، ملک کے دفاعی اداروں ، سینٹ اور پارلیمنٹ کے سربراہان اور اسٹیبلشمنٹ کو رتی برابر بھی شک نہیں۔
تو پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کیا کھوجنے لگی ہے اور مسئلہ کیا ہے؟
کیونکہ جو کچھ احمدیوں اور احمدیت کے ساتھ کیا جا چکا ہے، ( اور جس سے احمدیت کا درحقیقت کچھ بھی نہیں بگڑا) اس سے زیادہ کچھ کرنا اس زمانے میں ممکن نہیں۔
جج صاحب اگر احمدیوں کا قتل عام ممکن ہوتا تو آپ سے پہلے زیادہ بڑے فورم یہ فیصلے کر کے عملدرامد بھی کر چکے ہوتے۔
خدا کو مانتے تو یہ کہا جاتا کہ خدا ایسا نہیں ہونے دے گا۔ لیکن معاشرے کی عمومی حرکات اور اہل اختیار کے فیصلوں کا مزاج بتا تا ہے کہ خدا کا خوف کیا ہو، آپ لوگ خدا کو مانتے ہی نہیں۔ بغض و عناد اور نفس کی پرستش کر رہے ہیں اور دنیا کو ہی خدا اور آخرت سمجھ رکھا ہے۔
تو جناب۔۔۔۔۔۔دنیا اب اس منزل پہ ہے اور دنیا کے رائج سسٹم میں کئی لاکھ انسانوں کو مرتد قرار دے کر ریاستی انتظام کے تحت قتل کرنا اس وقت قابل عمل نہیں ہے۔
اس کے لئے آپ کو پہلے پاکستان کو ائ ایس آئی ایس اور افغانستان نما انتہا پسندی اور طالبانائزیشن کے جہنم میں جھونکنا پڑے گا۔ صرف یہی ایک صورت ہے ان غیر انسانی، غیر اسلامی اور غیر سیاسی فیصلوں اور شقوں کے نفاذ کی اور پاکستان کی جیو پولیٹیکل صورتحال اس کی متحمل نہیں ہے۔ اس لئے اس پتھر کو نہ اٹھائیں۔۔۔۔۔یہ بھاری بھی ہے اور ۔۔۔۔۔

یہ کونے کا پتھر بھی ہے۔
آپ نے قیام پاکستان سے لے کر ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ آپ بصد شوق ملاحظہ فرمائیں۔
لیکن قیام پاکستان سے لے کر آج تک احمدیوں کے عقائد میں سر مو تبدیلی بھی نہیں ہوئی اور انحراف بھی نہیں ہوا۔ اور احمدی کسی بھی یارڈ سٹک سے ناپ لیں۔۔۔۔۔۔مسلسل ترقی پذیر ہیں ۔
اور تہتر کی اسمبلی کے بعد سے آپ اور آپ کی سوسائٹی بھی ناپ لیں۔۔۔۔۔مسلسل تنزل کا نمونہ ہے۔
آپ کے ہر طبقے کو اور ہر ادارے کو عدم برداشت اور انتہا پسندی کا جذام ہوا ہے اور خود آپ کا ادارہ عدلیہ بھی اس میں شامل ہے۔
آپ کی ان کوششوں سے گھوڑی کی لید کا تعفن اور پھیلے گا اور ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ چالیس سال پہلے کی ریاستی حماقتوں کا خمیازہ تین نسلیں بھگت رہی ہیں۔ آپ اگر اسمبلی کے احمدیہ مخالف سقم دور کروانے لگے ہیں تو اگلی تین نسلیں بھی دم گھٹ کے مریں گی۔
اگر آپ اکیلے یہ کرنے لگے ہیں تو کوئی آپ کو سمجھائے کہ یہ آپ کا دائرہ کار نہیں۔
اور اگر یہ سب کی ملی بھگت ہے۔۔۔۔تو پھر
احمدیت کا خدا اور کائنات کا خدا آپ سب پہ حاوی ہے،

وسع کرسیہ السموات والارض۔۔۔۔۔۔

خدا پہ ایمان رکھنا اور ریاستی گٹھ جوڑ سے ڈر کر ایمان سے پیچھے ہٹ جانا، دو متضاد باتیں ہیں جو ایک سینے میں اکٹھی نہیں ہو سکتی ہیں۔

ہمیں یقین ہے، اوپر بھی اک عدالت ہے
اسی کے فیصلے، چلتے ہیں اور چلنے ہیں

البتہ اگر حذر فرمائیں تو یہ پاکستان کی موجودہ اور آئیندہ نسلوں پہ احسان ہو گا۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Censorship Never Conceals the Truth! By Waseem Altaf

Fiaz International Festival was held at Lahore from 16-18 November, 2018. Javed Akhtar and Shabana

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend