ہوم / حقوق/جدوجہد / جسٹس صدیقی کی جیت قائد اعظم کی ہار ہے۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

جسٹس صدیقی کی جیت قائد اعظم کی ہار ہے۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے زخموں سے چور، نڈھال، آدھا کٹا ہوا اور جگہ جگہ سے خون ٹپکا تا ہوا آزردہ و مغموم ۔۔۔۔۔۔سخت تکلیف میں کراہتا ہوا پاکستان قانونی طور پر آئینی موشگافیاں کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں سے جھپٹ کر ختم نبوت اور ناموس رسالت کے محافظوں کے حوالے کر دیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
یاسر لطیف ہمدانی، جبران ناصر، آپ اب جو مرضی کر لیں آپ کو اب یہ خطہ زمین جنت نظیر کوئی نہیں بنانے دے گا۔
آپ کے دائیں بازو کو انتہا پسندی کا کوڑھ ہو گیا تھا اور وہ مذہبی طور پر بدنیت اور خود غرض ہو گئے اور بنام اسلام اور بنام رسول انہوں نے جھوٹ، خیانت اور ظلم کو مباح اور حلال ٹھہرا لیا۔
اور آپ کا بایاں بازو ٹنڈا ثابت ہوا۔ وہ پورے سچ سے پہلے رک جاتا تھا۔
وہ وومین ڈے مناتا رہا، ویلنٹائین ڈے پہ بک بک کرتا رہا، رمشا مسیح پہ موم بتیاں جلاتا رہا مگر ٹاک شوز میں بیٹھ کر احمدیوں پر سٹیٹ سپانسرڈ ، غیر سیاسی، غیر انسانی فیصلوں کو آئینی اور ان بد ترین جہالتوں کو آئین پاکستان کی اسلامی شقیں کہتے رہے اور ۔۔۔۔۔در باطن مطمئن رہے کہ ان کا کیا ہے۔ یہ تو قادیانی ہیں۔ اقلیت۔۔۔۔۔اقلیت۔۔۔۔اقلیتوں کے حقوق۔۔۔۔اسلام میں اقلیتوں کا تحفظ۔۔۔۔۔
یہ رٹ لگاتے رہے اور سنتے رہے اور آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نے آپ کے لبرلزم کے تابوت میں کیل ٹھونک دی۔۔۔۔۔اور یہ آخری نہیں ہے۔
ذرا پہلے یہ وضاحت کر دوں کہ یہ تابوت آپ کا اور آپ کی معاشرت اور ریاستی رٹ ، آئین و قانون اور مقننہ اور عدلیہ کا تابوت ہے۔ یہ احمدیت کا تابوت نہیں ہے۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پنجابی کی مثل ہے کہ ” پہاڑ کولے اور نرم ہوتے تو گیدڑ کب کے چاٹ چکے ہوتے” اس لئے یہ بات تو دیکھی بھالی ہے کہ احمدیت کا مسئلہ ایک ہائیکورٹ کے فیصلے سے اٹکا ہوا نہیں تھا اور نہ ہے۔
یہ آپ کے دیکھتے دیکھتے جو ریاست، جمہوریت اور غیر جانبدار عدلیہ کی ڈگڈگیاں آپ ہر جگہ سنتے تھے ان کے پردے فاش ہو گئے ہیں۔ اور” آدھی حرام دی اور آدھی حلال دی” جو پالیسی چل رہی تھی، کل سے وہ "اک پاسے” لگ گئی ہے۔
سہیل وڑائچ کل اپنی خیالی اور علامتی محبوبہ، جمہوریت کی تلاش میں نکلے تو وجاہت مسعود بڑے وثوق سے کہہ رہے تھے کہ ایک وفادار سپاہی کی طرح مجھے بھی ساتھ لے چلیں۔ یہ مشترکہ مقصد ہے۔
آپ دونوں سینئر اور معزز جرنلسٹ جائیے ۔۔۔۔بصد شوق اور جب آپ اس کو ملیں یا وہ آپ کو ملی تو ایک کالم نما خط لکھ کے ہمیں بھی بتائیے گا۔ آپ تو آپ رہے مجھے تو اب رضا ربانی اور تاج حیدر تک ناکام اور نارسا دکھائی دے رہے ہیں۔
پارا تھرما میٹر دا، سیاست چوہدری طالب دی
چادر جنرل رانی دی ، تے چار دیواری جالب دی۔
آپ علم و فن اور فہم و دانش کے متلاشی اور طالب علم قسم کے سرخے اور لیفٹسٹ ہوتے تو ہم آپ کے فلسفوں پہ مجلسیں لگاتے اور آپ کہیں ملتے تو دو قدم بڑھ کے آپ سے مصافحہ کرتے اور پھر آپ لوگ اکیلے بھی نہ ہوتے اور نامراد بھی نہیں ہوتے۔
پھر تبدیلیاں اور انقلاب آپ لاتے نہ کہ آپ جیسوں کے ہوتے ہوئے "عمرانی معاہدے” کہیں اور ہو رہے ہوتے۔ آپ مولوی اور قرون وسطی کے انکار اور رد عمل کے طور پر دہرئیے ہوئے مگر آدھے۔۔۔۔لولے۔۔۔لنگڑے۔۔۔۔۔یک چشمے، دہر ئیے۔۔۔!

تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے…

کیونکہ آپ لوگوں کی فراریت پسند دہریت کے گھر میں اتنے دانے بھی نہیں تھے کہ آپ لوگ جان ایلیاء ہی بن جاتے۔ اسی لئے آپ ملاں رہے نہیں اور دہرئے بنے نہیں۔ درمیان میں لٹکتے رہے۔
کلچرل اسلام بھی رکھا اور نماز بھی چھوڑ دی۔ اور فیض صاحب اس کو بھانپ چکے تھے جو کہا کہ،

صف زاہداں ہے سو بے یقیں، صف میکشاں ہے سو بے چراغ
نہ وہ صبح وردو وضو کی ہے، نہ وہ شام جام و سبو کی ہے

یہ آج کا مضمون آپ کی نیم دلانا جدو جہد اور واضح اور کھلی کھلی شکست کا نوحہ ہے۔
ادیب آپ کے گئے، شاعر آپ کے اٹھ گئے، مصور اور گلوکار، استاد اور بیوروکریٹ۔۔۔۔سب جھونکے گئے اسی جہنم میں۔
کہاں عبدالمجید سالک اور عبدالماجد دریا بادی اور کہاں حامد میر اور ابصار عالم۔۔۔۔۔لکھاری کو بھی ختم نبوت ہو گئی
کہاں مسعود کھدر پوش اور مختار مسعود جیسے افسران اور کہاں یہ کہ پنجاب ایس اینڈ جی اے ڈی سے ریٹائر ہونے والا افسر اوریا مقبول جان کے نام سے خوب ۔۔۔۔۔شہرت کما رہا ہے۔
مہدی حسن یا غلام علی کو کیا پڑی تھی ان بیانات کی۔۔۔۔یا سلامت علی خان کیوں گواہیاں دیتے۔
مگر ابرار الحق کو باقاعدہ بیان دینے پڑے۔ عمران خان تو ختم نبوت کا نفرنس سے سرٹیفکیٹ لے کر آیا۔ اور تو اور۔۔۔۔۔

مسلح افواج کے آرمی چیف کے لئے آئی ایس پی آر اعلان کرتا رہا کہ۔۔۔۔نہیں جناب، چیف صاحب سرٹیفائیڈ مسلمان اور ختم نبوت پر ایمان کی سند رکھتے ہیں۔

وقت دور نہیں جب آپ کے بچوں کے کان میں اذان کافی نہیں ہو گی۔۔۔۔۔۔ممتاز قادری کے دربار کا تعویذ دھاگا اس نومولود کی مسلمانی کی ضمانت ٹھہرے گا۔ اس لئے وہ جو لکیر واضح ہونی شروع ہوئی تھی اب پوری طرح کھچ گئی ہے اور آپ نے کھینچنے دی ہے۔ اس کا ثواب اب سب کو ملے گا۔ کیونکہ آپ نے یہ کار ثواب مل کے کیا ہے۔
سن انیس سو ستانوے کی جیوڈیشل اکیڈمی کے جج صاحبان ایسے نہیں تھے اور دو ہزار بارہ میں بھی میں نے بھوربن میں ایک تین روزہ کانفرنس میں شرکت کی تھی جو اقوام متحدہ کے ادارے اور پاکستان جیوڈیشل اکیڈمی کی مشترکہ کوشش تھی اور پاکستان بھر کے ججز شامل تھے مگر ۔۔۔۔۔
اب جو میرے ہمسفر ہیں، رفتگاں ایسے نہ تھے۔
لیکن مسئلہ ہی یہ ہے کہ دھیرے دھیرے اترتا عذاب بھی بڑا عجیب اور ہولناک ہوتا ہے۔ اس کا دھیما پن ہی بتاتا ہے کہ آپ چیک میٹ کی طرف جا رہے ہیں۔ کاش کسی نے جج صاحب کو یہ چال نہ چلنے دی ہوتی۔۔۔۔۔وہ جس نے پوری دنیا بنائی ہے وہی ” پرائم موور” ہے اور اس چال پہ اس کی مسکراہٹ اچھی نہیں ہے۔
آپ نے تو کر لیا اسلام نافذ۔۔۔۔ہو گئے آئینی سقم دور اسمبلی کی قرارداد میں سے؟
پرانی سی ایک بات سنیں،
قائد اعظم یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر دو میں آئی۔آر، ہسٹری اور سائنس کے دوستوں کا مجمع ایک کمرے میں لیٹ نائٹ کینٹین سے پراٹھے کھا کے آئے اور اسلام کی نشاة ثانیہ پہ بحث ہو رہی ہے۔ اور جو کچھ ڈاکٹر قاسم زمان کے لیکچر سے یہ سمجھے اس کو مولانا مشرقی، سر سید اور اقبال سے ملا جلا کر ایک فلاسفی گھڑی اور وہ بحث کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ اکثر قائدینز وہ تھے جو راوئینز بھی تھے۔ اور راوین اگر بعد میں قائدینز بھی ہوں تو زیادہ خطرناک اور استرے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک صاحب نے جو آج کل ہسٹری کمیشن کے چیئرمین ہیں نے ڈاکٹر مقبول کو جو ان دنوں فزکس کے ایم فل میں تھے اور رضائی اوڑھے پڑے تھے، کہا کہ ، تسی وی کجھ بولو ایس بارے ۔
مقبول نے رضائی میں سے سر نکال کے ایک جملہ کہا، کہ
"اگر یہ نشاة ثانیہ جو آپ سمجھ رہے ہیں اور بتا رہے ہیں۔۔۔۔۔کبھی قیامت تک بھی ہو گئی، تو ہم جھوٹے اور ہمارا عقیدہ بھی غلط۔”
یہ کہا اور دوبارہ رضائی اوڑھ کر سو گئے۔۔۔۔۔۔وہ کمرے کے لڑکے دو نمبر ہوسٹل سے نکل کر آج
بڑے بڑے عہدوں اور اداروں کے سربراہ ہیں ، مگر اسلام کی نشاةثانیہ کا نام دوبارہ لیتے ہوئے میں نے کبھی نہیں سنا ان کو بلکہ بعض تو ہو ہی دہریہ گئے ہیں۔
مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ جج صاحب کے اس فیصلے سے پاکستان کے آئینی سقم بھی دور نہیں ہونگے اور پارلیمنٹ جس بے وقعتی و بے وقاری کو دیکھ چکی ہے اب عدلیہ نے اس کو اپنی طرف دعوت دے لی ہے۔ البتہ اگر جیوڈیشل اکیڈمی کے کیرئیر جج ہوتے تو شائید اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے اتنا بڑا نام کمانے سے احتراز کر جاتے۔
پاکستانی اس لحاظ سے بد قسمت ہیں کہ اپنی بعض حرکتوں سے اللہ تعالی کے پاس صرف نظر کرنے کا جواز بھی نہیں چھوڑتے۔
بانئ جماعت احمدیہ کا دعوی اگر خدا کی طرف سے آنے کا نہ ہوتا تو خیر تھی۔۔۔۔بات بندوں ، اداروں اور ججوں کے درمیان ہی رہتی مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان کو واقعی خدا نے بھیجا ہے، اور واقعی خدا ہوتا ہے اور وہ درحقیقت زمین پر اپنے فرستادے بھیجتا ہے اور انسانی و مذہبی تاریخ میں یہ سلسلہ واقعی حقیقت ہے تو پھر ۔۔۔۔تو آپ نے یہ بڑا مہلک فیصلہ کیا ہے جج صاحب!!!
اس سے تو پھر آپ نے گیند خدا ئے بر تر کی طرف اچھال دی ہے۔۔۔۔۔۔اور یہ اچھا نہیں ہوا،۔۔۔۔!

قل الھم مالک الملک توتی الملک من تشاء۔۔۔۔وتنزع الملک ممن تشاء۔۔۔۔
اس پر ایمان ہے ناں؟
ہمیں اس پر ایمان ہے اور ہمیں آپ کے فیصلے کی پروا نہیں، اور زمینی ہمدردوں کی احتیاج نہیں۔

الیس اللہ بکاف عبدہ
کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Censorship Never Conceals the Truth! By Waseem Altaf

Fiaz International Festival was held at Lahore from 16-18 November, 2018. Javed Akhtar and Shabana

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend