ہوم / حقوق/جدوجہد / کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں اپنا کلسیاں بھٹیاں کا زمیندارہ اور ڈیرے داری تیاگ کر امریکہ کی ریاست ہیوسٹن میں جا آباد ہوئے۔ کم گو، نفیس طبع اور غور و فکر کر کے بے ضرر مگر دیرپا اثر چھوڑنے والے سوال اٹھاتے تھے اور جواب کو اپنی اتنی ہی بے ضرر مسکراہٹ سے مزین کر کے مجلس میں کھلا چھوڑ دیتے تھے۔دو چار سال بعد پاکستان آتے تو رات کو ڈیرے میں مجلس جمتی اور وہ اپنے دیرینہ دوستوں کو امریکہ کے اپنے سے متعلقہ واقعات سناتے ۔ ایسی ہی ایک شام بتانے لگے کہ ہم نے اپنے علاقے میں احمدیہ مسجد بنائی تو جب اس میں کارپٹ بچھانے کا مرحلہ آیا تو میں نے احمدیہ مشنری صاحب کو تجویز دی کہ فلاں جگہ ہائی وے پر ایک پٹرول پمپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد ہے وہاں میں نے بڑے دیدہ زیب کارپٹس دیکھے تھے ، کیوں نہ ویسے کارپٹس ہی بچھوائے جائیں۔ چنانچہ ہم دو تین لوگ کار میں سوار وہاں گئے اور پٹرول پمپ کے مالک سے ملے۔ موصوف بڑے خوش ہوئے ، اپنی مسجد دکھائی اور کارپٹس کے لئے رابطے کا بتایا اور چائے سے تواضع کی۔ اثنائے گفتگو جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ اتنی بڑی مسجد احمدیہ جماعت کی ہے تو کہنے لگے کہ میں تو بہت عرصہ پہلے یہاں آ گیا تھا اور احمدیوں کے بارے میں سنا تو تھا لیکن کبھی ان کے عقائد کی تفصیل معلوم نہیں ہوئی۔ اب یہ مسجد وغیرہ تو ہمارے جیسی ہے تو پھر کیا فرق ہے۔ یہی سنا تھا کہ آپ لوگ جہاد کے منکر ہیں اور ختم نبوت پر ایمان نہیں۔ تو کیا آپ بتائیں گے کہ جہاد کے بارے میں پھر آپ کا اصل عقیدہ کیا ہے؟
چچا کہتے ہیں کہ میرے جواب دینے سے قبل ہی مربی صاحب نے کہا کہ جناب،
جماعت احمدیہ کا جہاد کے بارے میں سو سال پہلے وہی عقیدہ تھا جو اب آپ سارے مسلمانوں کا ہوتا جا رہا ہے۔ بانی جماعت احمدیہ نے جہاد کے نام پر فساد اور بغاوت کو حرام قرار دیا تھا اور اب آپ سارے بھی جہادی تنظیموں اور جہادی ملوانوں کو بین لگا لگا کر روک رہے ہیں یعنی عملی طور پر حرام قرار دے رہے ہیں۔ مرزا صاحب کی فراست نے خدا کے نور سے دیکھ کر قبل از وقت اس فتنے کو بھانپ لیا تھا اور اس سے دور رہنے کی تلقین اپنی جماعت کو فرمائی۔ آپ سو سال گزرنے اور عالم اسلام اور اسلام پر بہت سے داغ اس جاہل ملائیت کے ہاتھوں لگوانے کے بعد وہی عقیدہ اپنا رہے ہیں۔
ہمیں ساری سزا سو سال قبل سوچ لینے اور دیکھ لینے کی ملی ہے ورنہ منکرین ہم بالکل نہیں ہیں۔
اور کم و بیش یہی حال ختم نبوت کا ہے۔
آج یہ واقعہ یاد اس لئے آیا کہ امریک میں موجودہ وزیر اطلاعات کو پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دیتے دیکھا اور سنا۔ ڈاکٹر کاشف چوہدری نے جو سوال اٹھایا تو وزیر موصوف نے جواب میں کہا کہ اینٹی احمدیہ قوانین اور اقلیتوں بارے جو کچھ پاکستان میں سن 1953 سے ہو رہا ہے اس کا کوئی سیدھا اور کھرا جواب تو نہیں دیا جا سکتا لیکن، ہاں ۔۔۔آپ احمدی مسلمان کے طور پر آئین کی رو سے وزیر صحت بن سکتے ہیں۔ اور یہ بات انہوں نے از راہ تفنن فرمائی۔
راقم کو وزیر اطلاعات کی حس مزاح پر کوئی اعتراض نہیں لیکن فواد چوہدری کل تک ایک دانشور اور تجزیہ نگار کے طور پر ٹاک شوز میں بیٹھ کر ہمارے علم میں اضافے کیا کرتے تھے۔ آج کیوں منہ میں گھنگھنیاں ڈال لی ہیں جناب نے۔؟
گزارش یہ ہے کہ اب بحیثیت وزیر اور حکومت و ریاست کے نمائیندہ کے طور پر پبلک کو ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔
جس طرح پچھلی حکومت اور پھر موجودہ حکومت نے سرعام گالیاں اور مغلظات بکنے والوں کو سیدھا جواب نہیں دیا اور ان کے حوصلے اس حد تک بڑھ گئے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور مسلح افواج کے سربراہ کے قتل کے سر عام فتوے دینے لگے تو ایک رات کے کریک ڈاون سے ہی سانپ پٹاری میں پڑ گئے۔
اب سارے ملک کی عوام اور اقلیتیں تو بیک وقت چیف جسٹس یا چیف آف آرمی سٹاف نہیں بن سکتے۔ ان کے حقوق کا تحفظ تو چیف بنائے بغیر ہی کرنا پڑے گا۔
آپ بندر کے ہاتھ سے بندوق اس وقت تک نہیں چھینتے جب تک اس کی بندوق کا رخ آپ کی جانب نہ ہو۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حقوق کی پامالی کی اذیت صرف عام آدمی کو پہنچتی ہے۔
کبھی سوچا آپ نے کہ چیف جسٹس کو بھی واجب القتل اسی الزام اور دلیل سے قرار دیا گیا لیکن ہاتھ فوری پڑ گیا۔ عام آدمی منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ لیکن ریاست کا بڑا ستون تو عوام ہیں جناب!
ضمنی طور پر یاد آیا کہ جسٹس ایم آر کیانی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ میں ایک دن اپنی کوٹھی کے لان میں ٹہل رہا تھا کہ باہر کسی کے ابکائیاں لینے کی آواز آئی۔ کوئی مفلوک الحال آدمی پیٹ درد اور الٹی سے بے حال ہو رہا تھا ۔ مجھے اس کی مدد کا خیال آیا لیکن چیف جسٹس کے عہدے اور پروٹوکولز کی وجہ سے میں شش و پنج میں تھا اور نوکر کو آواز دینے گیا کہ وہ اس کا پتہ کرے۔ اتنے میں سائیکل پر جاتے کسی عام آدمی نے اس کو سنبھالا دیا اور ساتھ لے گیا۔ اور میں نے سوچا کہ،

ایک عام آدمی اور چیف جسٹس میں بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے!!!

مذکورہ بالا کہانیاں سنانے کا مقصد یہ تھا کہ عدل و انصاف اور حقوق کی فراہمی کے لئے سمجھوتوں اور کیٹگریز سے باہر نکلنا پڑے گا۔ یہی خادم رضوی، اور دیگر یاوہ گو اس سے پہلے بھی روز گالیاں دے رہے تھے، بغاوت اور فساد پر انگیخت کر رہے تھے لیکن ہاتھ ڈالنے اور ان پر بغاوت اور فساد کے مقدمات قائم کرنے کے لئے یہ کیوں ضروری تھا کہ پہلے ان کی آگ کی لپٹیں دو چیف صاحبان کے نام تک پہنچیں؟
یہاں سے آپ امتیازی قوانین اور سیلیکٹڈ جسٹس کا راستہ کھولتے ہیں جس کو بند کرنے کے لئے پھر دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔
حضرت فواد چوہدری صاحب ، وزیر اطلاعات و نشریات، آپ سے دو حکومتیں قبل قمر الزمان کائرہ بھی یہی کچھ ہوا کرتے تھے جو ان دنوں آپ ہیں۔ موصوف کو ہم نے سی۔ پی۔ ڈی۔آئی کے ایک سیمینار میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا۔ تو اب تو آپ جانتے ہی ہیں کہ وزیر اطلاعات کو کس کس طرح حکومت کے سچ جھوٹ کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ سو کائرہ صاحب نے وہ سماں باندھا کہ آپ ان کے سامنے کیا بیچتے ہیں۔ آپ کے تو چہرے پہ شرم اور حجاب سا آ جاتا ہے مگر کائرہ صاحب تو جہاندیدہ منسٹر تھے۔ آخر پر فرمانے لگے کہ آپ لوگوں کی کوئی تجاویز ہیں تو بتائیں۔
میں نے ہاتھ کھڑا کیا تو بڑی خوشدلی سے کہا، جی بھٹی صاحب، فرمائیں۔
عرض کیا کہ جناب ایک ہی تجویز ہے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس وقت چھوٹے بڑے ملا کہ ساٹھ سے کچھ اوپر وزیر تو ہیں وفاقی کابینہ میں۔
کہنے لگے، جی درست۔
میں نے عرض کی کہ، ان میں سے صرف ایک وزیر۔۔۔۔۔۔جناب صرف ایک، انفارمیشن منسٹر ہی عوام کو دے دیا جائے۔ باقی سب حکومت اپنے پاس رکھے مگر ایک تو ہمیں دیں ۔ کم از کم ایک تو ہماری زبان بولے، ہمارے مسئلے سمجھے اور ہمارے لئے بولے۔ کائرہ صاحب آپ تو حکومت کے وکیل ہیں۔ ہمیں بتائیں ہمارا کون ہے؟
تو جناب فواد چوہدری صاحب، آج ان سطور کے ذریعے میں اپنا مطالبہ دہراتا ہوں کہ پی ٹی آئی حکومت ایک وزیر تو عوام کو دے۔ باقی سب اپنے پاس رکھے۔ آپ کل تک عوامی تھے تو اب عوام کے ہی رہیں۔ تا کہ پیروں کا پیغام سر تک پہنچ تو سکے۔
آپ نے سن 53 والی دولتانہ کی سرپرستی میں چلنے والی احرار موومنٹ اور اس پر پنجاب حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ ایک وکیل کے طور پر بھی پڑھی ہوئی ہے، اور پھر 1974 کی اسمبلی اور ضیاء آرڈیننس کے ما لہ اور ما علیہ سے بھی واقف ہیں۔ اب آہستہ آہستہ پبلک سے چھپانے کی بجائے بتانے کا راستہ اپنائیں اور کھل کے بتائیں کے احمدیوں کو سزا سو سال آگے کی سوچ رکھنے، جناح کے پاکستان کی معاونت کرنے اور ہر ظلم کے باوجود اپنی پاکستانیت اور وطنیت کی حفاظت کرنے کی مل رہی ہے، ورنہ ،
ایہہ بندے تے ایڈے ماڑے نئیں نیں۔۔۔۔۔
اختتام پہ قابل اجمیری کے چند اشعار، جن کے مفاہیم اس مضمون سے لگا کھاتے ہیں سن لیجئے تا کہ باتوں کی تلخی کا دف مر جائے

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے؟

ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن
تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے؟

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے؟

 

Sponsers

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

آئینے پریشاں ہیں، اب نگارخانے میں۔۔۔۔۔۔غزل، ،۔۔صائمہ شاہ

بے کلی سی رہتی ہے دل کے چار خانے میں اتنی دیر کیوں کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend