ہوم / حقوق/جدوجہد / تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

پاکستان کی صورتحال پہ کچھ لکھنے میں روک یہ ہوتی ہے کہ ،
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامن دل کو بچائیں کیا۔۔۔!
لیکن ساتھ ہی کبھی کہیں اقتدار کی راہداریوں سے ایسی مکروہ اور جاہلانہ بات سنائی دیتی ہے کہ اس خاموش اکٹریت کی طرف سے جو چپ رہنا سیکھ گئی ہے، تاریخ کے ریکارڈ کی درستی کے لئے کچھ کہنا بھی پڑتا ہے۔ زیر نظر سطور ایسی ہی ایک صورتحال کا تجزیہ و جواب ہیں۔
بلاول زرداری کی ایک ویڈیو جو ڈان ٹی وی کا کلپ ہے سوشل میڈیاء پر خوب مشتہر ہے جس میں موصوف اپنی روائیتی غلط اردو میں للکارے مار رہے ہیں کہ ہم صدارتی نظام نہیں آنے دیں گے۔۔۔۔۔
ہمیں جیلوں میں ڈال دو۔۔۔۔۔
ہم نے جانیں دی ہیں۔۔۔۔اس ملک اور اس کے عوام کے لئے۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
بہت دیر ایسی غیر سنجیدہ باتیں سننے کے بعد آج کچھ گزارشات ہیں جو بلا امتیاز پارٹی و سیاسی میلان عرض کرنی ہیں۔ جیالے چاہے کسی بھی دھڑے اور پارٹی کے ہوں ان کے لئے یہ کسی کام کی نہیں مگر وہ شرفاء جن کو ملک و قوم کا دیرپا مفاد عزیز ہے ان کے لئے اس میں قابل غور نکات ہیں۔۔۔۔۔سو آئیے کچھ بات کر لیتے ہیں۔
بات بلاول اور اس کی پیپلز پارٹی سے ہی شروع کرتے ہیں۔
اول گزارش تو یہ ہے کہ بلاول آپ تو ابھی کل کے لڑکے ہو اور زرداری سے بھٹو بنائے گئے ہو، اور بریف کی گئی باتیں ایوان اور میڈیا میں کرتے ہو، تمہارا پولیٹیکل وژن اور سوشل وزڈم اگر عدنان رحمت اور امجد بھٹی جیسے واقعی وزڈم رکھنے والے کہیں بھی تو بھی میں ماننے کو تیار نہیں۔ تم نے نہ وہ مار کھائی، نہ وہ بھوک افلاس اور بے روزگاری بھگتی اور نہ تمہارا گھر کا ماحول اور تربیت غریب پرور ہے۔ ایف ایٹ، ستر کلفٹن، بلاول ہاوس اور نوڈیرو کے محلات پاکستان میں اور لنڈن کی اور دبئی کی عیاش زندگی نے تمہیں کون سی غریب پروری اور عوام دوستی سکھائی ہو گی، اس کا مجھے بھی ادراک ہے اور دیگر صاحبان دل بھی خوب جانتے ہیں۔ میں سر دست تم سے تو اتنا ہی کہنا کافی ہو گا کہ اگر میرے بیٹے کی اردو اور پنجابی ایسی ہو جیسی تمہاری ہے تو میں اسے کبھی پاکستان کی سیاست میں عوام کے دکھ درد بانٹنے نہ بھیجوں۔۔۔۔۔لیکن یہ تو ہم مڈل کلاسیوں کی سوچ ہے ، آپ لوگ ہندوستانی فلم راج نیتی کے کردار ہیں۔۔۔۔آپ کی دوستیاں، محبتیں، رشتے داریاں یہاں تک کہ شادیاں بھی سیاسی ہوتی ہیں اور اس میں خدمت کا لولی پاپ دے کر کرسی سے،
وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔۔۔۔
باقی سب اوپر کی کاروائی ہوتی ہے، اس میں پیپلز پارٹی کے بلاول، نون لیگ کے حمزہ و مریم اور ق لیگ کے مونس الہی۔۔۔۔سب ایک ہیں۔
خدمت کرنے والی ذہنیت کو اتنا پیسا چایئے ہی نہیں ہوتا جتنا آپ لوگوں کے پاس ہے، آپ کی دولت اقتدار کی سودے بازیوں کے لئے سٹاک کی جاتی ہے اور ممبر خریدنے، ادارے ہتھیانے اور میڈیاء کے بڑے بڑے نام ہتھیانے کے کام آتی ہے۔
شو پیس کے طور پر آپ سب کے پاس تاج حیدر، فرحت اللہ بابر، سید ظفر علیشاہ، اور اس طرح کے نظریاتی لوگ ہوتے ہیں لیکن اقتدار کہ سیٹیں، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانیوں اور چوہدری نثاروں کے لئے ہوتی ہیں۔
حسن ظفر علیشاہ کو میں نے ایک بار کہا کہ آپ الیکشن لڑنا چھوڑو ، ابھی جوان ہو، دس سال کے لئے ووٹر ایجوکیشن پروگرام شروع کروا کے اس پہ کام کرو۔۔۔۔پیسے کی آپ کے پاس کمی نہیں،
کہنے لگے۔۔۔۔ناں جی بھٹی جی۔۔۔۔کیہہ گل پئے کرنے او۔۔۔۔کس تکے نیں دس سال۔
یہ ہے بلاول صاحب ڈہنیت جو اس وقت پاکستان بھر کے طول و عرض میں پائی جاتی ہے۔ اگر معیار کوئی چیز ہوتی، اور حفظ مراتب کا ترجمہ آپ کو آتا ہوتا تو ۔۔۔۔اعتزاز احسن کا کیا کام تھا کہ وہ آپ کا لیکچر سنتے۔۔۔۔آپ کو تاج حیدر اور اعتزاز احسن کی باتیں ادب سے سننی تھیں نہ کہ وہ آپ کو سنتے۔
باقی رہا سوال جیلوں کا۔۔۔۔۔تو مجھے موقع ملا ہے آپ کے والد کے ساتھ والی بیرک میں کچھ وقت کوٹ لکھپت جیل میں گزارنے کا۔
عزیزم۔۔۔وہاں پر جن کا چرس اور ہیروئن کی ترسیل کا کاروبار ہے وہ اپنی ضمانت نہیں کرواتے۔۔۔۔یا باہر جان کو خطرہ ہو تو ایک بغیر لائیسنس پسٹل خود پہ ڈلوا کے سکون سے اندر بیٹھ کر اپنے باہر کے کام کی نگرانی کرواتے ہیں اور فیصلے وہیں بیٹھ کے کرتے اور کرواتے ہیں۔
اور تو اور پاکستان کے معروضی حالات میں تو اسلام آباد کے سول سروسز کے پولیس افسران اگر سیاسی تھیٹر لگنے والا ہو تو سندھ بلوچستان کے کسی دور کے ضلعے میں تبادلہ کروا جاتے ہیں تا کہ محمد علی نیکوکارہ یا خرم وڑائچ والا حال نہ ہو۔
ان حالات میں آپ کی جیلیں کاٹنا ہمیں اپیل نہیں کرتا۔۔۔۔حقیقت حال تو یہ ہے کہ آپ کی والدہ فوج سے این آر او کر کے ۔۔۔۔بلکہ این او سی لے کے آئی تھیں لندن سے، اور آپ کے والد تو فوج سے مفاہمت کے اچھے کھلاڑی کی شہرت رکھتے ہیں۔ پبلک مفادات آپ کا کبھی بھی مسئلہ نہیں ہوتے اپنے ذاتی مفاد کی غلامی آپ سب دولتانہ سے لے کر آج تک کرتے آئے ہیں اور خدمت کے بل بوتے پر نہ تو نواز شریف اوپر آیا نہ آصف زرداری۔
اور جس زیڈ اے بھٹو کے نام کی سیاسی خیرات آپ آج تک کھاتے آ رہے ہیں اس نے رائٹ ونگ کے سامنے پاکستان کی آئینی تاریخ میں سب سے پہلےگھٹنے ٹیکے تھے اور تہتر کے آئین میں پہلی بار غیر آئینی اور غیر انسانی ترمیم آپ کے نانا کے کمزور سیاسی کردار کی وجہ سے ہوئی اور آج تک اس کا تدارک نہیں ہوا۔
فرحت اللہ بابر صاحب کے زیرو پوائینٹ والے دفتر میں یہ بات آج سے 18 سال قبل میں نے آپ کے سیاسی تایا، سینیٹر تاج حیدر سے کہی تھی اور موصوف اس کا کوئی جواب نہیں دے پائے۔ آپ کے پاس ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کیجئے۔
پاکستان کے سیاسی اور سماجی دھارے کو ملائیت کے جذام سے آلودہ کرنے اور آئین کو انسانوں کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے والا آئین بنانے کا سہرا سب سے بڑے ہر دلعزیز سیاسی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے سر بندھا ہے۔
اب آئیں جان دینے کی طرف۔۔۔۔۔۔
جناب آپ نے جان دی نہیں ۔۔۔۔۔کبھی بھی نہیں دی۔
آپ کی جان لی گئی۔
بھٹو صاحب بین الاقوامی کرداروں کے ناکام ہونے کی وجہ سے پھانسی دئے گئے جس کا ادراک انہیں اس وقت ہوا جب ضیاالحق کی زندگی ان کی موت سے مشروط ہو چکی تھی۔ ورنہ وہ بھی صرف جیل جانے ہی کے لئے جیل گئے تھے ۔۔۔۔۔عوام کے لئے موت کو گلے لگانے نہیں۔
اور بے نظیر بھٹو کو سنائیپر شوٹر نے مار دیا۔۔۔۔وہ تو الیکشن کی آخری تقریر کر کے بس واپس جا رہی تھیں۔ اس کے بعد کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔
جب نواز شریف ڈیل کر کےنکل سکا تو سارا خاندان نکل گیا۔۔۔۔جب نہیں تو سب اندر۔
دیانتدار اور درد دل والے سیاستدان کوئی نہیں اور نہ ہی بے آسرا کا کوئی آسرا ہے۔ فوج آپ پہ چڑھ دوڑتی ہے۔۔۔۔۔
اس لئے کہ آپ کانے ہوتے ہیں، پبلک کے بھی اور فوج کے بھی۔ انٹرا پارٹی میرٹ ہوتا کوئی نہیں تو قومی سیاست میں میرٹ کہاں سے آئے گا۔ کیلکولیٹڈ قربانی دیتے ہیں اور جمہوریت آپ کی رکھیل ہے، کیونکہ ووٹر نہ آزاد ہے نہ با علم۔۔۔۔جو مرضی ہانک کے لے جائے۔ ادارے اسٹیبلش نہیں کئے اس لئے جو اسٹیبلش ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ بن جاتے ہیں۔ پھر آپ روتے ہیں کہ جی ہم سیاستدان۔۔۔یہ چوکیدار ہم پہ مسلط ہیں۔ انڈیا سے جنگ کے نام پہ بجٹ کھا جاتے ہیں۔ تو کریں ناں ایجوکیٹ پبلک کو۔ دیں ناں ان کو حقوق۔ نہ اٹھوائیں ناں ان کی لڑکیاں۔۔۔۔ناں کریں نہ ان کو تھانوں اور کچہریوں میں ذلیل، چنگچی رکشے کے ساتھ اپنی لینڈکروزر کا فرق نہ قائم کریں ، کسی مناسب سی کار پہ راضی ہو جائیں ناں۔۔۔۔جس کو سیٹ مل جائے اسی کو بلٹ پروف کار بھی چاہئے۔۔۔الیکشن سے پہلے آپ کیوں نہیں مرتے۔۔۔۔منتخب ہوتے ہی آپ کی جان کو خطرہ پڑ جاتا ہے۔ اسی لئے فوجی آپ سے ہزار گنا زیادہ مارے جاتے ہیں۔۔۔۔اپنے دفتر میں نہیں،فیلڈ میں، آپ کی سیاسی شہادتیں اتنی نہیں ہیں اور انہوں نے اپنا نام خراب نہیں کیا۔۔۔آپ نے کر لیا ہے۔
اب لانگ ٹرم پلاننگ اور دیرپا دیانتداری سے واپس ملے گا، اینٹ سے اینٹ بجانے والے نعروں سے نہیں۔
باقی ان باتوں کے علم کی وجہ سے ہی حسن نثار جیسے غصیلے دانشور تو کنٹرولڈ ڈیماکریسی کی بات کر رہے ہیں اور صدارتی نظام کا فیصلہ عمران خان کی حکومت بننے سے بھی پہلے ہو چکا تھا جس پر اب عملدرامد ہونا ہے۔۔۔آپ کی اجازت کے بغیر بھی اور آپ گھر رہیں یا جیل جائیں۔۔۔۔کرنے والوں نے اب جو سوچا ہے وہ کرنا ہے۔ امریکہ اور چین صدارتی نظام پہ چل رہے ہیں اور برطانیہ ملکہ کے راج میں مگر سوشل جسٹس اور دیانت داری کا گراف بلند ہے۔ پبلک ایجوکیٹڈ ہے سیاسی سماجی اور تعلیمی حوالوں سے اور احساس تحفظ عام آدمی کی دسترس میں ہے ، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور آئین انسانی حقوق سلب کرنے کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔
یہ سب کچھ پاکستان میں ہونا ہے تو پاکستان نے ایک ریاست کے طور پر رہنا ہے۔ جہاں ریاست اپنا کردار ادا کرے گی صرف وہیں سیاستدان کو اس کے سیاسی حقوق ملیں گے۔ عوام کے انسانی حقوق کے پامال ہونے کے بعد شرم نہیں آتی آپ کو اپنی سیاسی رٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے؟
اس لئے سلیم کوٹر کا شعر پورا سنیں اور آرام سے اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ "چل” کریں۔۔۔۔بڑے آئے عوام کے خیر خواہ۔
تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے
تم تو رستہ نہیں دیتے ہمیں چلنے کے لئے۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔ملک نجیب احمد فہیم

ہم سے تو دل کا درد سنبھالا نہیں گیا دل کو بھی شہرِ جاں سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend