ہوم / حقوق/جدوجہد / ختم نبوت اور پاکستان میں تجزیاتی طوفان۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ختم نبوت اور پاکستان میں تجزیاتی طوفان۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ختم نبوت اور پاکستان میں تجزیاتی طوفان۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی
ایک سخن گسترانہ پنجابی تمثیل سے بات شروع کرنی ہے اور اس مثال کو اردو میں ہی بیان کیئے دیتا ہوں کہ جگہ جگہ ترجمے کی کھکھیڑ سے بچا جا سکے۔
کہتے ہیں کہ ایک غریب دیہاتی اپنے ہمسائے کے گھر گیا اور کہا کہ کچھ مہمان آگئے ہیں اس لئے ایک چارپائی چاہئے۔
ہمسائے نے کہا کہ ہمارے گھر تو دو ہی چارپائیاں ہیں۔ ایک پہ میں اور میری ماں اور دوسری پہ میرا باپ اور میری بیوی سوتے ہیں۔ سائل نے جھینپ کر جواب دیا کہ چارپائی نہ دیں مگر سوئیں تو ٹھیک طریقے سے۔!
کل سے سارے ٹی وی چینلز اور "معروف” اینکرز اس بات پہ ادھار کھائے ہوئے ہیں کہ حکومت نے
حلف کی جگہ اقرار کے الفاظ کر دئے ہیں۔۔۔۔۔۔اور
ووٹر لسٹ ایک کر دی ہے۔
اب روائتی کالم کی طرح آپ سرسری ان جملوں سے نہیں گزر سکتے کیونکہ احمدی قارئین کے تو ساتھ بیتی ہے اور وہ اشارے سے ہی ارادہ سمجھ جاتے ہیں لیکن اکثریت نے صرف فیصلے اور تائیدی بیانات یا تکفیری الزامات ہی سن رکھے ہیں اور اپنے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی منافقانہ بیان بازیاں اور ضمیر فروش میڈیائی دانشوروں کی تجزیاتی چھابڑیاں ہی دیکھ رکھی ہیں۔ وہ قادیانی سازش، اور امریکی ایجنڈے کی آوازیں لگاتے چھابڑی فروشوں کی آواز پہ فوری بھاگتے ہیں کہ ” دو روپے والی قادیانی قلفی مجھے بھی دینا بھائی”
کسی نے ۔۔۔۔۔جی ہاں پچھلے پچاس ساٹھ برسوں میں کسی نے بھی پوری بات کبھی نہیں بتائی۔
مرزا غلام احمد قادیانی صاحب بانئ جماعت احمدیہ کا دعوی تو یاد ہے مگر قاسم نانوتوی بانئ دیوبند کے ختم نبوت پر تشریحی فرمودات تو درکنار، اس کا نام تک خود دیوبندی نوجوانوں کو بھی نہیں پتہ ہوتا۔
کافر قرار دیا تھا کا پتہ ہے مگر کسی مائی کے لال نے جرات نہیں کی کہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کو بتا دے کہ میاں۔۔۔۔۔پوری اسمبلی اور تمام علماء نے ساری کاروائی کے دوران ایک دفعہ بھی امام جماعت احمدیہ مرزا ناصر احمد صاحب سے ختم نبوت اور وفات و حیات مسیح کا سوال نہیں اٹھایا تھا اور وہ کافر قرار دینے والا فیصلہ سیاسی مفاد اور انسانی حقوق کی ظالمانہ خلاف ورزی تھی اور بھٹو صاحب نے ملاں طبقے کو ڈی فیوز کرنے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے مذہبی چورن بیچا تھا اور ذاتی طور پر مرزا ناصر احمد صاحب کو حضور کہہ کے مخاطب کرتا تھا اور خود سے بہتر مسلمان کہتا تھا!
کوئی آج کے سمیع ابراہیموں میں سے ہے جو بتائے کہ ضیاء نے افغان جہاد کی دکان لگائی اور سعودی سرمائے سے مذہبی آڑھت میں احمدیوں کو پاکستانی شھری سے اچھوت بنا دیا اور پاکستان سے احمدیت کے کینسر کو ختم کرنے کے دعوے کرتا ہوا پاکستان کو شدت پسندی و تکفیریت کے جہنم میں دھکیل گیا ۔
کوئی نہیں جو بتائے کہ شہباز شریف اور نواز شریف چنگا بھلا احمدیوں کے جان و مال سے کھلواڑ کروانے والے اور بذات خود بد ترین معاند احمدیت کا پروفائل رکھتے ہیں لیکن اس دفعہ بات کچھ اور ہے۔
پہلے تو یہ سوال پوچھیں کہ کیا اس ترمیم کے محرک احمدی تھے؟
کسی نے بھی احمدیوں پہ انگلی نہیں اٹھائی اور احمدیوں کے مطالبے پہ آپ کرتے بھی نہیں۔
پھر یہ کلہاڑی اپنے پیر پہ ماری کیوں؟؟
سمیع ابراہیم نے کلپ چلایا اپنے پروگرام میں کہ سعودیہ میں امریکنوں نے ایسا مرکز قائم کیا ہے جو اس نوعیت کے کام کروائے گا۔
تو پھر ختم نبوت کے ساتھ غداری تو آپ کے سعودیہ نے کروائی ہے ۔ اس کا نام لیتے وقت آپ سب کو موت پڑتی ہے اور قادیانی قادیانی کرتے ہوئے آپ کا پروگرام ختم ہو جاتا ہے۔
سنو صابر شاکر، آپ نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد احمدیوں کے خلاف جذبات ابھارنا نہیں ہے بلکہ تمام اقلیتیں پاکستان کی شھری اور جان و مال کو آئین اور ریاست کا تحفظ حاصل ہے۔
یہ کہہ کر آپ کس کو بے وقوف بنا رہے تھے۔ عارف حمید بھٹی کو؟
عارف حمید بھٹی اگرچہ ہر مسئلے میں بلا جواز اور بے توفیق طور پر کودنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے مگر ان کو بھی مذہبی فیصلے دینے کا چسکا پڑ گیا ہے۔ اور آپ تینوں نے مل کر سنجیدگی اور سوچ سمجھ کر جھوٹ بولا ہے۔ ووٹر لسٹ ایک ہونے پہ آپ کی چیخیں نکل رہی ہیں تو جب سارے پاکستانیوں کی ووٹر لسٹ ایک اور صرف احمدیوں کی علیحدہ لسٹ تھی تو تب آپ کیوں خاموش تھے۔ اور آپ مذہبی طور پر اتنے بے غیرتی پے کیوں اتر آتے ہیں کہ ووٹر لسٹوں کو بھی تحفظ ناموس رسالت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ شرم آنی چاہئے۔۔۔۔۔۔صحافتی اور آئینی دلائل سے بات کریں ۔۔۔۔۔آپ کو انسانوں نے دیکھنا اور سننا ہوتا ہے۔ یا آپ پبلک کو اینٹی احمدیہ فسادات سنہ 2017 کے کئے تیار کر رہے ہیں۔
باخبر بنے پھرتے ہیں تو بتائیں ناں کہ پچھلے ماہ جنیوا میں آپ کے وفاقی وزراء کو یو این کے بین الا قوامی فورم پر خوب رگیدا گیا ہے امتیازی قوانین کے حوالے سے اور وہ موم کی ناک والے وزیر وہاں کہہ آئے تھے کہ ہم کم از کم ووٹنگ سسٹم میں امتیازی سلوک کو تو فوری طور پر ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔
یہ ساری "چول” اس لئے ماری ہے انہوں نے ورنہ احمدیوں کے سگے نہ مسلم لیگ ن والے ناں ق ناں ف۔۔۔۔۔۔الف سے ی تک سب احمدیہ دشمنی میں مسابقت کی روح کے ساتھ آگے آتے ہیں۔
اس لئے میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ ” آپ چارپائی نہ دیں پر سوئیں تو تہذیب سے”
تاریخ اور تجزیئات کرتے وقت خدا تو آپ کو یاد نہیں آتا اور جمیعت نے یہ روح کامیابی کے ساتھ اپنے طلباء میں پھونکی ہے کہ مذہبی مجادلے میں جھوٹ جائز ہے۔ یعنی آپ کا خدا محتاج ہے کہ آپ میڈیاء پر جھوٹ بولیں تو وہ احمدیوں کو نیست و نابود کرے گا ورنہ نہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ و علیہ وسلم کی سچائی کی تعلیم سے انحراف کر کے آپ جیسے مکاروں، بے ایمانوں اور بے ضمیروں سے جس کی ناموس کے تحفظ کا کام لیا جاسکتا ہے وہ عمران خان، عائشہ گلالئی، آصف زرداری یا کوئی فوجی جرنیل اور جج تو ہو سکتا ہے مگر نبئ آخر الزمان کی ناموس کے تحفظ کی عظیم اور مقدس ذمہ داری اول تو اللہ تعالی نے خود لی ہے۔ اور اگر ظلی طور پر فانی انسانوں کو ملنی بھی ہو تو اس کی کوالیفیکیشن یہ ہے کہ سرعام مستقل اور عادی اور اکیڈیمک جھوٹوں کو یہ کام نہیں سونپا جا سکتا۔
ایسا ہو تو یہ اصدق الصادقین کے ساتھ ظلم ہے۔ سچے اور اندر باہر سے ایک جیسے انسان جن کا سینہ بے کینہ ہو ان کو سزاوار ہے کہ وہ عجزو ندامت کے آنسوں سے وضو کر کے اس خدمت کی سعادت پائیں۔ آپ جن کا رزق ہی دو نمبری اور جھوٹ سے بندھا ہے آپ کو ایسے دعوے سے ہی حذر لازم ہے۔
وادئ دل میں پاوں دیکھ کے رکھ والا معاملہ ہے!!!
آپ منسٹروں اور ججوں اور جرنیلوں تک رہیں اور پاکستان کے آئین کے تحفظ کی جھوٹی سچی ڈینگیں مار لیا کریں۔ ٹی وی اینکر کی اوقات اس سے زیادہ نہیں۔ ناموس رسالت کے نام پر ملک اور پبلک کو احمدیہ مخالف یکطرفہ پروپیگنڈے کی آگ میں نہ جھونکیں- احمدیوں نے ایسا کوئی مطالبہ کیا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور ملک کی ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ سنگین سیاسی ابتری اور بحران میں ہمیشہ سہارا قادیانی مسئلے کی آڑ میں ملک گیر فسادات سے لیا جاتا ہے اور پھر بھی اس ڈائن کی پیاس نہیں بجھتی۔
ڈاکٹر مبشر حسن، عبدالمجید سالک، م۔ش، اطہر عباس مرحوم اور ایاز امیر صاحب جیسوں کو تو معلوم ہے مگر شاہد مسعود، چوہدری شجاعت حسین، سراج الحق اور صابر شاکر کو کیسے بتائیں۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ،
معاملہ ہی کیا ہو اگر زیاں کے لئے۔۔۔۔۔!

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

‎غزل ‎الہام ، خواب ، یاد ، اشارہ ، خبر ، خیال ‎مقدور کچھ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend