ہوم / حقوق/جدوجہد / ولا تنابزو بالالقاب کے حکم کی خلاف ورزی۔۔۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید

ولا تنابزو بالالقاب کے حکم کی خلاف ورزی۔۔۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید

ولا تنابزو بالالقاب کے حکم کی خلاف ورزی۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید
آئینہ ابصار میں شائع شدہ ایک مضمون میں اس قرانی حکم کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی جو پاکستان میں احمدیوں کو قادیانی کہنے سے لازم آتی ہے، کے بارے میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ مزید گزارشات ہیں۔
مسلمانوں کو اہل مکہ "صابی” کہتے تھے اور اصرار کرتے تھے کہ مسلمان خود کو یہی کہیں کیونکہ مسلمان اچھا نام ہے اور آپ جیسے لوگوں کو یہ حق نہیں کہ اپنا نام خود رکھیں۔ آپ کو نام ہم دیں گے اور آپ کو خود کو وہی کہنا ہوگا۔
اس زمانے میں پھر قوم کو اجتماعی طور پر اس بے لذت گناہ میں جھونک دیا گیا ہے اور عامتہ الناس کو یہ شعور نہیں کہ اس بچوں کی طرح چڑانے والی حرکت سے قرآن کریم کے ایک واضح حکم کی اجتماعی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
اس سے مماثل ایک اور اجتماعی جرم کی تفصیل بھی سن لیں اور واقعہ خود میرے ساتھ گزرا ہے اس لئے روائیت کے کمزور ہونے کا سوال ہی نہیں۔
یہ سن 1984 کی بات ہے۔ میں نائیجیریا میں تھا اور دل میں خیال آیا کہ پاکستان واپسی براستہ سعودی عریبیہ سے ہو تا کہ زیارت حرمین کا موقع مل جائے۔ پاسپورٹ لینے پاکستان ایمبسی گیا تو انھوں نے ایک فارم دیا کہ اس پہ بھی دستخط کرنے ہیں۔ اس کے مندرجات میں یہ بھی تھا کہ میں کسی مصلح، مہدی یا ریفارمر کی آمد کا قائل نہیں ہوں۔ میں نے افسر سے پوچھا کہ کیا آپ مسلمان ہیں؟
کہنے لگے۔۔جی
تو میں نے پوچھا کہ کیا امام مہدی یا عیسی نہیں آئیں گے؟
بولے ، وہ تو آئیں گے لیکن اس پہ دستخط ضروری ہوتے ہیں۔
میں نے کہا کہ یہ دستخط تو مجھے ان کی آمد سے قبل ہی ایڈوانس میں منکر بنا دیں گے، میں نہیں کروں گا۔
موصوف نے سخت غصے میں مجھے پاسپورٹ پر احمدی لکھ کے دے دیا۔
میں نے کہا کہ بھائی میں احمدی نہیں ہوں لیکن یہ فارم میرے مسلمان کے عقیدے کے مطابق نہیں ہے اس لئے میں اس پہ دستخط نہیں کروں گا۔ ساتھ کھڑے شخص نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا تو موصوف نے احمدی کا لفظ کاٹ دیا۔
میں حیران و پریشان واپس آیا کہ احمدیوں سے اختلاف تشریح نے نوبت یہاں تک پہنچا دی ہے کہ اب دستاویزی طور پر ہمارے ہاتھ میں عقیدہ ہی نیا تھما دیا گیا ہے۔
اس پرانے واقعے کی بنیاد پر میری گزارش ہے کہ ختم نبوت کے شوروغل میں بنیادی قرآنی تعلیمات اور اسلامی آداب معاشرت تو ہاتھ سے نہیں دینے چاہئیں۔ یہ ایک معاشرتی حق اور اسلامی حکم ہے کہ احمدیوں کو احمدی کہا جائے۔ قادیانی وہ خود کو نہیں کہتے تو معاشرے کو ان کے حق شناخت کا احترام کرنا چاہئے۔ بصورت دیگر آپ کو یہ ہٹ دھرمی اور ضد اولین دور کے منکرین مکہ اور عمائدین قریش کی صف میں کھڑا کر دے گی۔۔۔
پھر نہ کہنا۔۔۔۔۔ہمیں خبر نہ ہوئی۔

مصنف admin

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی خود ہی آن بتاوء جی گیان کا بھید اور بھاوء جی من

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend