ہوم / حقوق/جدوجہد / مخبوط الحواس قوم اور کشمیری تکفیریت قسط سوئم۔۔۔۔چوہدری اصغر علی بھٹی

مخبوط الحواس قوم اور کشمیری تکفیریت قسط سوئم۔۔۔۔چوہدری اصغر علی بھٹی

مخبوط الحواس قوم اور کشمیری تکفیریت قسط سوئم
غالب مرزا حاتم علی بیگ مہر کو ایک خط میں لکھتے ہیں
’’ سنو صاحب ! شعراءمیں فردوسی،فقراءمیں حسن بصری اور عشاق میں مجنوں یہ تین آدمی تین فن میں سر دفتر و پیشوا ہیں ۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ فردوسی ہوجائے ۔فقیر کی انتہا یہ ہے کہ حسن بصری سے ٹکر کھائے اور عاشق کی نموو یہ ہے کہ مجنوں کی ہم طرحی نصیب ہو ‘‘ مولانا نیاز فتحپوری یہ عظیم فقرہ درج کرکے لکھتے ہیں ’’ اس میں اگر اضافہ کر دیا جائے کہ ایک صداقت پرست ، ایک حق شناس ،اور ایک بے لاگ تنقید کرنے والے کی انتہا یہ ہے کہ وہ کافر و مرتد بنا دیا جائے ۔ ملحد و بے دین کے نام سے پکارا جائے تو میرے لئے اس سے زیادہ فخر کا موقعہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آج میں بھی اسی منزل میں ہوں اور ناشکری ہو گی اگر اس سے زیادہ کوئی اور سعادت طلب کروں۔۔ آج سےکئی صدی قبل جب قرآن کا مفہوم ایک مولوی کے مواعظ و ارشادات سے بلند تھا تب کفر اور الحاد کا مفہوم بھی کچھ اور تھا مگر آج غزالی اور رازی بھی زندہ ہوتے تو ان کا دامن بھی مولوی کے ہاتھ میں ہوتا۔لائو ساری دنیا کی بے دینی مجھے دے دو ،تمام عالم کا ارتداد میرے حوالے کردو اور کائنات کے ہر گوشے کا الحاد میرے قلب میںبھردو کہ اس دولت کے ساتھ تو مجھے جہنم بھی اس فردوس سے زیادہ عزیز ہے جہاں ایک مولوی مسلمان کو کافر بنائے بغیر نہیں جا سکتا۔‘‘
سابق وائس چانسلر جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورہ جناب الشیخ عبد المحسن العباد صاحب نے ایک موقعہ پر فرمایا تھا کہ ’’ اگر دشنام طرازی اور سوقیانہ پن ہی روحانی عظمتوں کی دلیل ہو تو پھر ایسی روحانی عظمتوں کی حامل شخصیتیں عام بازار میں ایک ڈھونڈیں تو لاکھ ملتی ہیں ‘‘ آج کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ایک منہ زور وزیر اعظم جماعت احمدیہ پر تبرا بازی کرتے ہوئے انہیں ملحد و کافربنانے میں مصروف تھا تو مجھے نیاز فتح پوری صاحب کا یہ نعرہ مستانہ ثاقب صاحب کی آواز میں کشمیری وادیوں میں کچھ یوں گونجتا ہوا محسوس ہوا
میں فدائے دین ھدیٰ بھی ہوں در ِ مصطفےٰ کا گدا بھی ہوں
میری فرد جرم میں درج ہو میرے سر پر ہیں یہ گناہ بھی
آزاد کشمیر کے قانون ساز و یاد رکھو ہم مجر م ہیں واقعی ہم مجرم ہیں اور ہمیں اپنے اسی جرم پر ناز ہے ۔ ہمیں اپنی خو مبارک اور تمہیں اپنے افعال
بعد ا ز خدا بعشق محمدﷺ مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
۔ مشہور اہل حدیث عالم دین جناب عبدالغفور اثری صاحب مصنف حنفیت اور مرزائیت حضرت پیر غلام فرید صاحب آف چاچڑا ں شریف کے الفاظ میں احمدی جرائم کو یوں درج فرماتے ہیں
’’مرزا صاحب تمام اوقات خدا کی عبادت،نماز یا تلاوت قرآن شریف میں گزارتے ہیں۔اس نے دین کی حمایت میں کمر باندھی ہوئی ہے یہاں تک کہ اس دنیا کی ملکہ جو لندن میںرہتی ہے کو بھی دین محمدی ﷺ کی دعوت دی ہے اور روس فرانس وغیرہ کے بادشاہوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ہے اور اس کی تما م محنت وکوشش یہی ہے کہ تثلیث اور صلیب کا عقیدہ مٹائے جو سراسر کفر ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرے ۔علماء وقت کو دیکھو کہ مذاہب باطلہ کو چھوڑ کر ایسے شخص کے درپے ہوگئے ہیں جو بڑا نیک مرد اور اہل سنت وجماعت سے ہے اور صراط مستقیم پر ہے اور ہدایت کی تلقین کرتا ہے اس پر کفر کا فتوی لگا رہے۔اس کا عربی کلام دیکھو جس کا مقابلہ کرنا انسان کی طاقت سے باہرہے اور اس کی تمام کلام حقائق ومعرفت وہدایت سے بھری ہوئی ہے اور وہ اہل سنت وجماعت کے عقائد اور ضروریات دین کا ہرگزمنکر نہیں ہے‘‘۔(ارشادات فریدی حصہ سوم صفحہ69-70 مطبوعہ اگرہ1320ھ بحوالہ حنفیت اور مرزائیت از عبدالغفور اثری صفحہ48-49) جرم تو ہے پھر سزا تو بنتی ہے
تو ایک دوسرے مشہور دیوبندی عالم دین اور مرکزی راہنما تحفظ ختم نبوت موومنٹ جناب مولانا یوسف بنوری ایڈیٹر البینات احمدی جرائم کو یوں یاد کرتا ہے’’قادیانی نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور کلمہ گو ہیں بلکہ انہوں نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق ایک صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنے طریقے پر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا جوکام خاص کر یورپ اورافریقی ممالک میں کیا اس سے باخبر حضرات واقف ہیں۔اور خود ہندوستان میں جو تقریباً نصف صدی تک اپنے آپ مسلمان اور اسلام کا وکیل ثابت کرنے کے لیے عیسائیوں آریہ سماجیوں کا انہوں نے جس طرح مقابلہ کیا تحریری اور تقریری مناظرے کئے وہ بہت پرانی بات نہیں…پھر ان کلمہ…ان کی اذان اور نماز وہی ہے جو عام امت مسلمہ کی ہے زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں ان کے فقہی مسائل قریب قریب وہی پیش ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں لیکن اثنا عشریہ(شیعہ) کا یہ حال ہے کہ ان کا کلمہ الگ ہے۔ان کا وضو الگ ہے ان کی نماز اور اذان الگ ہے زکوۃ کے مسائل بھی الگ ہیں۔نکاح اور طلوق وغیرہ کے مسائل بھی الگ ہیں حتیٰ کہ موت کے بعد کفن دفن اور وراثت کے مسائل بھی الگ ہیں‘‘۔(ماہنامہ البینات کراچی جنوری فروری1988ء صفحہ96 )
ایک شیعہ شیعہ ذاکراور عالم دین عرفان حیدری صاحب احمدی جرائم کی روداد پر یوں سیخ پا ہے
’’ صرف قادیانیوں کے نام مسلمانوں جیسے نہیں ہوتے ان کا کلمہ بھی مسلمانوں جیسا ہوتا ہے ٭ان کی آذان بھی مسلمانوں جیسی ہوتی ہے٭ ان کا فقہ بھی وہی جو سارے مسلمانون کا اعظم فقہ ہے ٭ان کا طریق نماز بھی وہی ہے جو سارے مسلمانوں کا ہے ٭ان کا روزہ کھولنے کا وقت بھی وہی ہے ٭ان کی نماز بھی ویسی جو سارے مسلمانوں کا طریقہ نماز ہے ٭ان کے قرآن پڑھنے کا انداز بھی وہی جو سارے مسلمانون کا انداز قرات٭ان کا روزے کھولنے کا وقت بھی ویسا ۔ جو سارے مسلمانوں کا وقت ہے ٭ان کے ارکان حج بھی وہی جو سارے مسلمانوں کے ہیں٭ان کا نصاب زکوٰۃ بھی وہی جو سارے مسلمانون کا ہے ٭ان کی توحید بھی وہی ۔ان کا لاالہ الا اللہ بھی وہی جو سارے مسلمانوں کا ٭ان کا خدا بھی تخت پر بیٹھتا ہے ٭ان کا خدا بھی مسکراتا ہے ان کا خدا بھی روتا ہےتوجب مسئلہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمدنے کوئی نئی فقہ نہیںدیا اسی فقہ پر چل رہا ہے وہ بھی مقلد ہے۔وہی شریعت دے رہا ہے کوئی نئی شریعت نہیں لایا ۔وہی طریقہ نماز دے رہا کوئی نئی طریقہ نماز نہیںلایا ۔وہی قرآن پڑھ رہا ہے کوئی نیا قرآن لیکر نہیں آیا۔اسی آیت سے استدلال کررہا ہے جس سے تمام مسلمان خاتم النبیین کا استدلال کرتے ہیں ۔اسی سورۃ سے استدلال کرتا ہے ما کان محمدابا احداِِمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ مرزا غلام احمد یہی کہتا ہے کہ میں کب خاتم النبیین کا انکا رکر رہا ہوں ۔ میں تو تمہارے ہی بتائے ہوئے طریقوںسے استدلال کر رہا ہوں۔ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اگر انگوٹھی ہیں اس انگوٹھی کا نگین، خاتم میرا رسول ہے وہ میں بھی مانتا ہوں‘‘
(مولانا عرفان حیدری صاحب کی یہ ویڈیو تقریربر موضوع ’’شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ضروری ہے‘‘ you tubeپر Qadiyani And Non Qadiyani with Allama Irfan Haider Abidi part1,2,3 presented by shiamajlis اس تقریر کو شبیر کیسٹ ہاؤس نے ریکارڈ کیا ہے )
ہاں پھر سے کہتا ہوں کہ واقعتاً تمہیں احمدیوں کو اپنے سے ایسے ہی الگ کرنا چاہئے تھا کیونکہ عشق رسول ﷺ کے مخموروں اور قصور کے نعت خوانوں کی دنیا بھی اور ہے اور ان کے گناہ بھی اور۔ کرگس کا جہاں اور ہوتا ہے اور شاہین کا اور۔ جنگل میں ناچتے ہوئے مور اپنے پاوں کو دیکھ کر کیوں روتا ہے وہ عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کی زبانی بھی سنئے’’یہ اسلام جو تم نے اختیار کررکھا ہے کیا یہی اسلام ہے جو نبی نے سکھلایا تھا؟کیا ہماری رفتاروگفتار کردار میں وہی دین ہے جو خدا نے نازل کیا تھا؟یہ روزے اور نمازیںجو ہم میں سے بعض پڑھتے ہیںاس کے پڑھنے میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔جومصلے پر کھڑا ہے وہ قرآن سنانا نہیں جانتا اور جو سنتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ کیا سن رہے ہیں اور باقی23گھنٹے ہم کیا کرتے ہیں؟میں کہتا ہوں کہ گورنری سے لیکر گداگری تک مجھے ایک ہی بات بتلائو جو قرآن اور اسلام کے مطابق ہو پھر میں کمیونزم سے کیوں لڑوں؟ہمارا نظام کفر ہے قرآن کے مقابلے میں ہم نے ابلیس کے دامن میں پناہ لے رکھی ہے قرآن صرف تعویذ اور قسم کھانے کے لیے ہے‘‘۔(احراری اخبار آزاد9دسمبر1949ء)
مسجد الحرام کے خطیب الشیخ محمد بن سبیل جن کے آقائوں نے جماعت احمدیہ کی عصمت و ایمان سے نمرودی خونی ہولی کھیلنے کے لئے دراہم و دینار میں ادائیگیاں کیں تھیں آج دامن پر لگے خونی دھبے دیکھ کر بیت اللہ شریف کے سایہ میں کھڑے ہوکر بڑبڑا رہے ہیں
’’آج اکثر بلاداسلامیہ کے مسلمانوں کی کیفیت سخت الم انگیز ہے مسلمان آنحضرتؐ اور صحابہؓ کی روش کا مخالف ہوچکا ہے۔کیا اکثرمسلمان ممالک میں ہمیں ایسے لوگ نظر نہیں آتے جو اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور اپنے تئیں مسلم کہتے ہیں اور بایں ہمہ ان کا اسلام انہیں بڑے بڑے جرائم سے نہیں روکتا۔ان کا اسلام انہیںسود اور لوگوں کے اموال کھانے اور فجور سے نہیں روکتا ان کا اسلام انہیں کذب بیانی اور جھوٹی گواہی سے نہیں روکتا اور نہ ہی رقص گاہوں اور شراب خانوں سے منع کرتا ہے۔نہ اُن کا اسلام انہیں مسلمانوں کے معاملات میںدھوکا چالبازی اور فریب دہی سے باز رکھتا ہے۔نہ ان کا اسلام انہیں نماز وروزہ کے چھوڑنے سے روکتا ہے ۔ وہ حق کو نفرت انگیز القاب کے ذریعہ بعض سادہ لوح لوگوں کے سامنے بدنما بتاتے ہیں۔اُن کا اسلام قرآن اور احادیث نبویہ کو پس پشت ڈالکر خودساختہ قوانین کے فیصلہ سے بھی انہیں نہیں روکتا اور ان کا اسلام انہیں اس بات سے بھی نہیں روکتا کہ شریعت اسلامیہ کو عیوب اور نقائص کا تختہ مشق بنائیں۔وہ اشتراکی مذہب رکھتے ہیں۔وہ دہریوں کی مدد کرتے ہیں۔ اور خدا کے دین اور خدا کے مومن بندوں سے بیگانگی اختیار کئے ہوئے ہیں‘‘۔(اخبار العالم الاسلامی 15شعبان1394ھ مطابق3ستمبر1974ء صفحہ13تا16)
پنجابی میں کہتے ہیں روندی یاراں نوں لے کے بھرواں دا ناں۔ یعنی مکار عورت روتی اپنے عاشقوں کےلئے ہے لیکن دہائی اپنے بھائیوں کے نام کی دے رہی ہوتی ہے۔ آج کی تاریخ میںمولوی مخبوط الحواس نہ ہو تو کیا کرے وہ مولوی جس کی برادر ی ،جس کی اولاد اور جس کی قوم سب ہی بقول مودوی صاحب مسلمان شرابی، مسلمان زانی، مسلمان جواری، مسلمان نمرود، مسلمان فرعون،مسلمان سودی ،مسلمان ڈاکو،مسلمان سوشلسٹ اور مسلمان مشرک بن چکی ہیں۔ایسے میں ’’ تمام اوقات خدا کی عبادت،نماز یا تلاوت قرآن شریف میں گزارنے والا‘‘ ’’دین کی حمایت میں کمر باندھے ہوئے‘‘ ’’ جس کی تما م محنت وکوشش یہی ہے کہ تثلیث اور صلیب کا عقیدہ مٹائے جو سراسر کفر ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرے‘‘ ’’بڑا نیک مرد اور اہل سنت وجماعت سے ہے اور صراط مستقیم پر ہے اور ہدایت کی تلقین کرتا ہے‘‘ ایسا شخص اور اس کی جماعت زہر نہ لگے تو اور کیا لگے۔ایسے مخبوط الحوس لوگ قابل بحث نہیں قابل رحم ہو اکرتے ہیں۔ بات کو حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ اور مولانا جلال الدین رومی کے اقوال سےسمیٹتا ہوں آپ نے فرمایا تھا ’’حق کا پرستار کبھی ذلیل نہیں ہوتا چاہے سارا زمانہ اس کے خلاف ہوجائے اور باطل کا پیروکار کبھی عزت نہیں پاتا چاہے چاند اس کی پیشانی پر نکل آئے‘‘اور حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کا یہ کہ ’’جس کے افعال شیطان اور درندوں جیسے ہوتے ہیں کریم لوگوں کے متعلق اسی کو بدگمانی ہوتی ہے‘‘ سو وزیراعظم آزاد کشمیر صاحب آپ کو اپنی یہ بد گمانی مبارک ہو۔
جے کر دین علم وچ ہوندا تے سر نیزے کیوں چڑھدے ہو
اٹھاراں ہزار جو عالم ہے سن اوہ اگے حسین دے مردے ہو
جے کجھ ملاخطہ سرورؐ دا کردے تے خیمے تمبو کیوں سڑدے ہو
جے کر مندے بیعت رسولی تاں پانی کیوں بند کردے ہو
ہے صادق دین تساںدے باہو جیہڑے سر قربانی کردے ہو

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend