ہم سے تو دل کا درد سنبھالا نہیں گیا
دل کو بھی شہرِ جاں سے نکالا نہیں گیا

اتنے خلوص و پیار سے جاں اس نے مانگ لی
ہم سے بھی اس کی بات کو ٹالا نہیں گیا

میں تو ملال و غم کا سبب پوچھتا رہا
لیکن وہ لب کا کھول کر تالا نہیں گیا

کیا کیا نہ میں نے دشمنِ جاں کا کیا علاج
نفرت کا اس کی آنکھ سے جالا نہیں گیا

سر آ گیا جو سانپ کا پنجے میں وقت کے
پھر زہر اس سے منہ کا نکالا نہیں گیا

دنیا نے میری ذات کو تب تک کیا ذلیل
جب تک کہ شور عالمِ بالا نہیں گیا

میں خوش نصیب ہوں مرے بچوّں کے پیٹ میں
اک بھی حرام والا نوالہ نہیں گیا

ہم جانتے ہیں تم سے بھی اپنی طرح نجیب
سینے کا درد شعر میں ڈھالا نہیں گیا

ملک نجیب احمد فہیم
منڈی بہاؤالدین پاکستان