غزل

ہم کہ خود اپنے ہی ہونے کا نشاں بھول گئے
اب اسی سوچ میں گُم ہیں کہ کہاں بھول گئے

آج بھی فرصتِ یک لمحہ نہیں تھی لیکن
تو جو آیا تو سبھی تو کارِ جہاں بھول گئے

وہی ناموسِ سخن کے لئے صف بستہ ہیں آج
قصرِ سلطاں میں جو کل اپنی زباں بھول گئے

اک یقیں تھا کہ گماں بنتا گیا صبح تلک
پھر بہت یاد کیا پر وہ گماں بھول گئے

یاد ہے آج بھی ایک ایک ادا اس کی مگر
وہ جو پوچھے تو کہے دینا کہ ہاں بھول گئے

دن بھراک غم کو تبسم میں چھپائے رکھا
شب فغاں یاد رہی وجہِ فغاں بھول گئے

واہ کوتاہ نگاہی! زہے ایمائے حیات!
یہ جو کھلتے ہوئی گل اگلی خزاں بھول گئے

کیا سحر آئی ہےاس بار بھی شب کی صورت
یا سبھی اہلِ حرم وقتِ اذاں بھول گئے

(مدبر آسان، جرمنی)