غزل

ہوا رہے گی مرا نقشِ پا نہیں رہنا
مجھے خبر ہے مرے بعد کیا نہیں رہنا

خمارِ عشق نشے کی طرح اترتا ہے
سدا کسی نے یہاں مبتلا نہیں رہنا

تجھے خبر بھی ہے شائستہِ بہارِ چمن
کسی شجر نے ہمیشہ ہرا نہیں رہنا

یہ کس گمان کی اے چشمِ ناز تو ہے اسیر
کوئی حسین کوئی خوش ادا نہیں رہنا

نشیبِ مرگ سے ہو کر ہمیں گزرنا ہے
پھر اِس کے بعد طلسمِ فنا نہیں رہنا

چلیں گی ایسی تغافُل کی آندھیاں ہر سو
یہاں کسی کا کوئی آشنا نہیں رہنا

سبھی کا وقت بھی حد بھی یہاں مقرر ہے
کسی نے بھی یہاں حَد سے سوا نہیں رہنا

زمیں سے تا بہ فلک بَس یہی منادی ہے
کہ اس زمین پہ جو بھی رہا نہیں رہنا

یہی بتایا گیا ہے مرے خدا مجھ کو
کہیں پہ کچھ بھی ترے ماسوا نہیں رہنا

اُسی کے حسن کی حیرت کا آئنہ ہوں ندیم
مجھے بھی حُسنِ ازَل سے جدا نہیں رہنا

( رشید ندیم۔ کینیڈا )