قدم آہستہ آہستہ سیڑھی پر رکھے جا رہے تھےگویاکشمکش میں ہوں ایک دل کچھ کہتا ہے اور ایک دل کچھ۔ ایک وقت تھا جب اُسکی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اوپر والے کمرے میں دلہا کےدوستوں نے خوبصورت مسہری بنائی تھی ساتھ ساتھ کرکے پورے بیڈ کے گرد اتنی سنہری لڑیاں لگائیں تھیں کہ بیڈ اور اس پر بیٹھا وجود پوری دنیا سے بے خبر ہو گیا تھا۔ اس کی ساری دنیا اس مسہری میں سمٹ گئی تھی اسے کاغذ پر اپنا نام لکھنے کے عوض ہی عشق کی سلطنت مل گئی تھی اور اب اس سلطنت کی چار دیواری اس مسہری نے کر دی باہر کیا ہے کیوں ہے یہ تو وہ بھول ہی گئی تھی خوشیوں کی ہنڈولے تھے اور وہ تھی دن میں ستر دفعہ وہ یہ فقرہ دہراتی مجھے تم سے عشق ہے یہ عشق کا دوپٹہ اس کے گلے کے ہار بن رہا تھا کہ پھندہ۔۔۔۔یہ خبر تک نہ تھی وہ بانسری تھی کہ تان ۔۔۔ محبت کے گلاب سے گلقند بناتی ۔۔۔عشق کی پینگیں چڑھاتی قوس قزح پر جا پہنچتی۔ بادلوں میں اٹھکیلیاں کرتی نشہ اترتا ہی نہیں تھا تب یہ سیڑھیاں چڑھنے والا جیسے جیسے ایک ایک سیڑھی چڑھتا گویا سوکھے دھانوں میں جان پڑتی جاتی وہ گنتی جاتی سات ۔آٹھ ۔نو ۔دس ۔گیارہ اور ساتھ ہی کمرے کا دروازہ کھول کر آنے والے کے گلے کا ہار بن جاتی ۔۔۔۔تمہیں کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں ہوں اگر کوئی اور ہوتا تو ۔۔۔وہ خوامخواہ کا غصہ کرتا ۔۔۔۔ہوہی نہیں سکتا تھا میرے دل کے سگنل کبھی غلط نہیں ہوتے جناب ۔۔۔۔عشق کرتی ہوں عشق ۔۔۔عشق میں کرتی ہوں اور خوشبو آپ سے پھوٹتی ہے ۔۔بہنیں سہیلیاں شکوہ کرتی رہ جاتیں کہ وہ کبھی اکیلی نہیں آتی گھنٹہ دو گھنٹہ کے لیے آتی اور چلی جاتی ۔۔۔میری سانس رکتی ہے اگر میں اس کے بغیر رہنے کا سوچوں بھی کبھی مچھلی کو جل کے بغیر جیتے دیکھا ہے ۔۔ شادی کے دس سال گذر گئے خالی گود لیے جو آتے ہیں وہ بھی سانس لیے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں ۔۔۔اسکی ساس ہر آئے گئے کو بیٹے کے دوسری دلہن ڈھونڈنے کا کہنے لگی ۔۔۔۔اور اب جب اسکی دوسری شادی کو بھی سال بھر ہونے والا تھا اور بیٹا بھی دو ماہ کا تھا ۔۔۔وہ اسی طرح کھلی رہتی اسکے بیٹے کو باہوں میں بھرتی چلو شوہر تو سمجھ آتا ہے یہ تو پورے سسرال بلکہ سوتن کی بھی عاشق ہے ۔لوگ کہتے اور وہ مسکرا دیتی ۔۔۔۔
’’میرا لوں لوں منکا بن جاوے تیرا عشق کرے کم ڈوری دا‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔روزانہ کالج کی جاب سے واپسی پر اس کی بیوی کے لیے گجرے اور بچے کے لیے کھلونےلانا نہ بھولتی اور ساس اور بیوی حیران ہوتیں کبھی ایسا بھی ہوا ہے ضرور کوئی جادو ٹونہ کرتی ہے ۔۔۔۔۔جو رات شوہر کے بغیر ہوتی کروٹوں پر کروٹیں بدلنے پر بھی صبح نہ ہوتی صبح ناشتے پر شوہر کو دیکھتے ہی سکون چہرے پر آجاتا ۔۔۔۔اور اب آج جو قدم سیڑھیوں پر رکھے جا رہے تھے وہ قدم لگتا دل پر پڑ رہے ہیں وہ سچ کہتی تھی کہ تمہارے معاملے میں میرے دل کے سگنل کبھی غلط نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔آخری سیڑھی طے کرتے ہی دروازہ تو آج بھی کھل گیا تھا مگر لگتا مقتل کا دروازہ کھلا قاتل اندر آیا اس نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تم اپنی امی کے گھر چلی جاو اصل میں میری ماں اور بیوی کو یہ شک ہے کہ تم تعویز کرتی ہو اور میری بیوی کہتی ہے کہ جب تم بچے کو چھوڑ کر اوپر آتی ہو تو اسے اتنا درد اٹھتا ہے کہ وہ رو رو کر پاگل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔عشق کا اظہار تو مرد بھی کرتا ہے مگر وہ عورت جیسا تھوڑا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنا بیگ پیک کر لو میں انتظار کر رہا ہوں نیچے آ جانا تمھیں چھوڑتا ہوا آفس جاوں گا ۔۔۔۔۔۔۔اس نےکیا کہا کیا نہیں عشق کی سوئی توچھوڑتا پر اٹک گئی ۔۔۔۔لیکن عشق انکار تو نہیں کر سکتا وہ بیگ تیار کر رہی تھی ۔۔۔ہر وقت اوپر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں تھوڑی ملتی ہیں کبھی کبھی ننانوے کا سانپ بھی کاٹ جاتا ہے ۔۔۔۔پہلی سیڑھی اترتے ہاتھ کلیجے پر پڑا ۔۔۔یہ سیڑھیاں چڑھتے وقت وہ خود کو ملکہ تصور کرتی تھی ۔۔۔۔۔ایک اور سیڑھی نیچے اتری ۔۔۔وقت لگتا تھا تھم گیا ہے ۔۔۔سانس بے ربط تھی اور پوری سیڑھیوں پر صرف کھینچ کر سانس لینے کی آواز آتی تھی ۔۔۔۔۔دیکھو تم نے اتنی تعلیم حاصل کی ہوئ ہے تم میرا ساتھ دو تو ہم جلد ان فرائض سے فارغ ہو سکتے ہیں لیکچرار کی جاب ہے اتنی مشکل بھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔پاوں سیڑھیوں پر پڑ رہے تھے کہ دل پر ۔۔۔سانس آ رہی تھی کہ رکی تھی ۔۔۔چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں تین کی ابھی شادی ہونے والی ہے ابھی بچے افورڈ نہیں کرسکتے یہ گولیاں استعمال کرو ۔۔۔۔۔۔۔دم بہ دم نیچے کو سفر کرتے قدم ساکت ہوتے تھے پھر اٹھتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔دیکھیں آپ نے اتنا عرصہ جو یہ میڈیسن استعمال کیں ہیں ان کی وجہ سے اب آپ کے بچے سانس نہیں لے پاتے اور اب دوسری دفعہ ابارشن ہونے کے بعد آپ کبھی ماں نہیں بن سکتیں ۔۔۔۔۔قدم رواں تھے اور سانس رک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔دیکھو بیٹی مجھے تم سے کبھی کوئ شکوہ نہیں رہا تم نے میرے بیٹے کا بہت ساتھ دیا لیکن ہم بھی مجبور ہیں میرا ایک ہی بیٹا ہے اور میرا صحن بچے کی کلکاریوں کو ترس رہا ہے اور ڈاکٹر کی راے تم نے سن لی ہے مجھ پر رحم کرو ماں کا دوپٹہ پیروں میں آجائے تو کون اپنا دھیان پلٹ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔دو قدم کا فاصلہ کاٹنا کتنا مشکل تھا ۔۔۔۔۔۔میری بہن قصور تمہارا اکیلی کا تو نہیں ان کا بیٹا بھی برابر کا قصور وار ہے تم انہیں بتاتی کیوں نہیں تمہیں عقل نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔باجی عشق دلیلیں کب مانتا ہے ۔۔۔۔اپنے ہاتھوں اپنی صلیب اٹھا کر مقتل تک پہنچنا آسان کب ہوتا ہے آخری چند سیڑھیاں اترنا قیامت ہو رہا تھا ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔سانس بے ربط تھی ۔۔۔۔عشق کا دوپٹہ گلے میں پھندے کی طرح لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔نیچے آخری سیڑھی کے پاس کھڑا مرد کوفت سے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھ رہا تھا ۔۔۔وقت رکا تھا کہ چل رہا تھا ۔۔۔انہیں دیر ہو رہی تھی ۔۔۔کبھی معشوق کو بھی انتظار کروایا جاتا ہے ۔۔۔وہ تیزی سے آگے بڑھی ۔۔۔۔یہ دیکھے بغیر کہ کتنی سیڑھیاں ابھی باقی ہیں ۔۔۔۔اس مرد کے قدموں میں سجدے میں گری لہو لہان عورت پڑی تھی یا عشق ۔۔۔۔۔

سعدیہ تسنیم سحر