بے کلی سی رہتی ہے دل کے چار خانے میں
اتنی دیر کیوں کر دی زندگی میں آنے میں؟

دوریوں نے جسم و جاں لخت لخت کر ڈالے
زندگی لگانی ہے ، اب قریب آنے میں

مستقل مزاجی سے کیجئے ستم، جاناں
آپ بھی مزہ لیجے، میرا دل جلانے میں

زندگی تماشا تھی، زندگی تقاضا ہے
خود کو بھول جانے میں، تم کو یاد آنے میں

راہ و رسم الفت کی دقتیں الگ سی ہیں
عمر بیت جاتی ہے، زخم دل چھپانے میں

لفظ بولنے لکھنے، عادتوں کا حاصل ہے
جان کٹنے لگتی ہے، خواب گنگنانے میں

جب سے تجھ محبت کی، میں نے بندگی کر لی
آئینے پریشاں ہیں، اب نگار خانے میں

(صائمہ شاہ)