پہنچی وہیں پہ خاک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورنگزیب ظفر خان

شبنم ایک خوبصورت بنگالی اداکارہ تھی۔ ملک ٹوٹنے کے بعد پاکستان میں رہنا پسند کیا۔ ضیاء الحق کے زمانے میں فاروق بندیال اور اس کے تین ساتھیوں نے شبنم کے شوہر اور بیٹے کو رسیوں سے باندھ کر انکی آنکھوں کے سامنے گینگ ریپ کیا۔ کیس ثابت ہوا اور مجرموں کو سزائے موت ہو گئی۔ شبنم اور اسکے خاندان پر دباوء ڈال کر راضی نامہ کیا گیا۔ (دنیا کے کسی مہذب ملک میں اس قسم کے کیس میں راضی نامہ نہیں ہوتا) شبنم ملک چھوڑ گئی۔ ادکاری چھوڑ گئی۔ فاروق بندیاں کو ہماری مستقبل کی حکمران سیاسی جماعت پی ٹی آئی کا ٹکٹ مل گیا ھے۔ اسے وزیر خارجہ بنایا جانا چائیے۔

فاروق بندیال، جس نے فلمسٹار شبنم کا ریپ کیا تھا، تحریک انصاف میں شامل..
فاروق بندیال فلم سٹار شبنم گینگ ریپ اور ڈکیتی کا بڑا ملزم. یہ بگڑے شہزادے نامور اداکاراؤں کو اغواء کرتے جو مال دولت سونا لوٹتے اور ہیرا منڈی جا کر لٹاتے انہوں نے فلم سٹار زمرد کا بھی گینگ ریپ کیا تھا. جس زمانے میں ہم لوگ ضیاالحق مارشل لا کے قیدی تھے اور کوٹ لکھپت جیل میں تھے، یہ فاروق بندیال جیل کی بی کلاس وارڈ میں تھا. ہمارے پاؤں میں بیڑیاں تھیں اور یہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ عام قیدیوں کو بڑے فخر سے بتاتا تھا شبنم کی ایک چھاتی چھوٹی دوسری بڑی تھی۔ انہوں نے شبنم کے خاوند روبن گھوش کو باندھ کر اس اور اس کے بیٹے کے سامنے گینگ ریپ کیا تھا۔ تمام ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی۔ سننے میں آیا تھا کہ مڈل ایسٹ کے ملک کی سفارش پر ان کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ شبنم نے انہیں معاف کر دیا۔ جیسے پاکستان میں معافی دلوائی جاتی ہے سب کو پتا ہے۔ چلو یہ بھی لانڈری میں دھل گیا۔ اس کا باپ ایف کے بندیال سمیت تمام ملزمان اعلی خاندان اور بیورکریٹس کی اولاد تھے۔
سلام ہے آصفہ بھٹو زرداری کو جب عرفان اللہ مروت نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تو آصفہ بھٹو زرداری نے سخت احتجاج کیا کہ اس نے وینا حیات کا ریپ کیا ہے ہمیں قابل قبول نہیں تو اسی وقت پاکستان پیپلزپارٹی نے عرفان اللہ مروت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اورنگ زیب ظفر خان

اپنا تبصرہ بھیجیں