دین اور مذہب کی لفظی بازیگری پر علمی استدلال۔۔۔۔۔۔جمشید اقبال

آج کوئی پچیس برس بعد غلا احمد پرویز کی انگریزی کتاب ’اسلام اے چیلنج ٹو ریلیجن‘ پڑھی تو حیرت ہوئی کہ کسی دور میں یہ کتاب مجھے بے حد پسند رہی ہے اور کسی سنجیدہ  پر شاید میرے زیر ِ مطالعہ رہنے والی پہلی انگریزی نان فکشن کتاب تھی ۔

حیرت اس لئے ہوئی کہ میں نے اس کتاب میں پہلی بار پڑھا تھا کہ دیگر مذاہب مذاہب ہیں مگر اسلام مذہب نہیں دین ہے اور اسی لئے یہ سب سے افضل ہے کیونکہ یہ پوجا پاٹ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی ، معاشی نظام اور ضابطہ حیات ہے ۔

اگر یہیں پر بریک لگ جاتی تو آج بہت سوں کی طرح ہم بھی یہی رٹ لگا رہے ہوتے مگر بعد میں کئی دیگر تحاریک اور اُس فلسفہ مغرب و مشرق کو براہ راست اور تنقیدی انداز میں پڑھنے کے بعد جس کے پرویز صاحب حوالے دیتے تھے پتہ چلا کہ اسلام مذہب نہیں دین ہے کی اختراع سب سے پہلے ان اسلامی جماعتوں نے پیش کی جنہوں نے سیاسی اسلام ، بنیاد پرستی اور بعد اذاں اتنہا پسندی کو جنم دیا ۔ ان میں حسن البنا ، سید قطب ، مولانا مودودی اور ڈاکٹر اسرار احمد وغیرہ سب شامل ہیں اور ان سب نے اسلام کو پہلی بار دین کے طور پر پیش کیا وگرنہ قرآن لکم دینکم ولی دین والی آیت میں دیگر مذاہب کو بھی دین ہی کہتا ہے ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں