ہوم / حقوق/جدوجہد / آخر الامر آہ کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آخر الامر آہ کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آخر الامر آہ کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی
اساتذہ میں سے میر درد کا مصرعہ ہے۔ پورا شعر خیال کے کچھ اور دریچے بھی کھولتا ہے۔کہ،
آخر الامر آہ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوگا
کچھ تمہارے بھی دھیان پڑتی ہے۔
ابھی وسعت اللہ صاحب کا خیال انگیز شذرہ دیکھا تو سوچا کہ اپنی بھی چند کوڑیاں نظر قارئین کر دوں۔ ذہنی اور سماجی بند گلیوں کی بھول بھلیاں جب اتنی وسعت پکڑ جائیں جتنی پاکستان کی مذہبی سیاسیات نے پکڑ لی ہے تو سانس لینے کو دیواروں سے اوپر اور چھتوں پہ جا جا کے لمبے لمبے سانس لینے پڑتے ہیں۔
بات کو کھولتے ہیں اور مکروہ مناظر کو دیکھتے ہوئے کوئی پگڈنڈی تلاشتے ہیں جو اس گھٹن اور حبس سے دور لے جائے۔ بھلے وہاں کوئی بھی نہ ہو، مگر ایسا دھڑکا تو نہ ہو۔کہ
جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی۔
بغرض موازنہ کچھ حالات کو پیش منظر میں لانا ضروری ہے۔
سنہ ہو گا 1935 اور عطاللہ شاہ بخاری کا جوش خطابت اور ہجوم وہ جو مولوی نذیر دھلوی اور ثناللہ امرتسری کا تربیت یافتہ۔ اور ٹوٹے پڑے ہیں قادیان پر کہ آج اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
اگر اس وقت کامیاب ہو گئے تھے تو اسی مجلس احرار کو تحفظ ختم نبوت کے ساتھ بلینڈ کر کے اور ممتاز دولتانہ کی سیاسی پشت پناہی کے ساتھ 1953 والے فسادات کی کیوں ضرورت پیش آئی جو بالاخر مارشل لاء اور عبدالستار نیازی و سید ابو الاعلی مودودی کی گرفتاریوں اور سزائے موت سنائے جانے پہ منتج ہوئے۔
اگر 1953 والی تحریک کامیاب رہی تو 1974 والے جلوسوں اور آئینی تکفیر والے ہنگاموں کی کیا احتیاج تھی۔
پھر اگر 1974 میں مقاصد اسلام حاصل ہو گئے تھے تو 1984 کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اجراء اور کلمہ طیبہ پڑھنے یا لکھنے پر ہزاروں احمدیوں کو جیل میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھے۔
اور اگر وہاں تک کے غیر انسانی قوانین سے بھی کامیابی آپ کو مل گئی تھی اور احمدیوں کی جبری جلاوطنی سے مقصد پورا ہو گیا تھا تو آج کل کے فیض آباد دھرنے کی کیا حاجت؟؟؟
آج کی تحریک میں مزید آگ اور ایندھن ڈالنے سے پہلے ایک بات تسلیم کر کے آگے چلیں کہ پچھلے 130 سال میں آپ کو احمدیوں اود احمدیت کو تباہ و برباد کرنے کے مقصد عظیم میں تا حال کوئی قابل ذکر کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ اور اگر ہوئی ہے تو بتائیں اور ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں۔
پاکستان میں پون صدی ہونے کو آئی اور تحریکوں پہ تحریکیں اس اقلیت اور اقلیتی نبوت کے دام تذویر کا توڑ کوئی نہیں کر پائیں۔ جائے حیرت ہے کہ متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے انگریز گورنر کی چشم پوشی، پھر پاکستان کے پنجاب کے وزیر اعلی ممتاز دولتانہ کی مکمل پشت پناہی، پاکستان کے ہر دلعزیز جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی اسمبلی کے تاریخ ساز فیصلےکے بعد طاقتور فوجی آمر ضیاالحق اور اس کے بد نام زمانہ آرڈیننس کے اجراء کے باوجود اگر آج تک احمدیت کا ایک تحریک کے طور پر کچھ نہیں بگڑا تو سوال یہ ہے کہ یہ مغلظات اگلتا بے ہنگم ہجوم جو چند دنوں سے چند ہزار کی جمیعت کے ساتھ ملک کو دنیا بھر میں تماشا بنائے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کا مذاق اڑا رہا ہے اور وفاقی وزراء اور وفاقی حکومت کو ننگی گالیاں دے رہا ہے، یہ اب کیا بگاڑ لے گا۔؟
جن "قادیانی کیڑوں مکوڑوں” کو آپ وزراء کو پھانسی دے کر پیغام دینا چاہتے ہیں ان کا رد عمل اور رویہ بانئ جماعت احمدیہ کے متفرق اشعار کی صورت میں ملاحظہ فرما لیں جو میں نے ان کے منظوم کلام درثمین سے اخذ کیا ہے۔

عدو جب بڑھ گیا شوروفغاں میں
نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں
اور
کافرو ملحدو دجال ہمیں کہتے ہیں
نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے
یا یہ کہ،
گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاو انکسار
اور یہ رویہ ماضی اور بانئ جماعت تک محدود نہیں بلکہ موجودہ امام جماعت احمدیہ کا طرز تخاطب ایک معتدل توجہ دلانے اور دعائے خیر کے ساتھ پر درد انتباہ اور نصیحت سے متجاوز نہیں ہوتا۔ ہر چند کہ بعض اہل بغض بیمار طبائع پر وہ بھی گراں گزرتا ہے۔
اب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو روایات سن رکھی ہیں آخری زمانے کی بابت۔ ہر دو میں علماء ہی کا ذکر ہے مگر دو مختلف انداز میں۔
ایک جگہ فرمایا کہ،
علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل
اور دوسری جگہ ارشاد ہے کہ،
علماءھم شر من تحت ادیم السماء
اب آج کے زمانے کے وہ خوش قسمت عوام الناس جو ان روایات کو موتی سمجھ کے چنتے اور غور کر کے ان پیش خبریوں کی خارق عادت سچائی سے حظ اٹھاتے ہیں اور اہل حدیث اور اہل قرآن کے تفرقے کے سیلاب میں روحانی طور پر غرق نہیں ہوئے وہ تو اس زمانے میں ان خوش خبریوں کے مصداق ڈھونڈتے ہیں۔ اس تلاش میں وہ جب آپ کے دھرنوں سے ابلتی گالیوں اور کف اڑاتی غیر انسانی چنگھاڑوں کو سنتے ہیں تو ان سعید فطرت مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں رہتا کہ وہ یہ تسلیم کر لیں کہ یہ دریدہ دہنی اور مبتذل طرز تخاطب آپ کو نعوذباللہ آنحضور صلی اللہ و علیہ وسلم کی تعلیمات نے سکھایا ہو گا۔
ان کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں رہتا سوائے اس کے کہ وہ آپ کو "علماھم” کے زمرے میں ڈال کر اسلام اور قرآن کو آپ کی دریدہ دہنی کے مکروہ سائے سے محفوظ رکھیں۔
آپ عوام الناس کو بیوقوف بناتے ہوئے لہک اور چہک کے بتاتے ہیں کہ دیکھو جی۔۔۔۔ختم نبوت پہ ڈاکہ پڑ گیا، ختم نبوت پر حملہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا۔۔۔۔۔۔اوئے فلانو اور اوئے ڈھمکانو۔۔۔۔۔۔تہاڈی فلاں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کیا لکھیں اور کیا چھوڑیں۔ اس سب بکواس کے نمونے سوشل میڈیا ویڈیوز میں ٹکے ٹوکری ہیں۔
تو نبیوں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے تو وجود نبوت پہ حملوں کا فتنہ درپیش تھا۔ پھر کیا وجہ کے ان کے اخلاق اطوار اور طرز کلام اصل اور جڑھ پر حملے کے وقت بھی پایائے وقار سے نیچے نہیں اترے اور تم لوگوں کو فرع اور شاخ پہ حملے کے وقت عام انسانی وقار نصیب نہیں؟
یہ "علماھم” کا انذار ہے جو تمہارے وجودوں میں متمثل ہو گیا ہے اور وہ "علماء امتی” کا فیضان ہے جو سکینت بن کر ایک ایسی اقلیت اور ان کے امام کے چہروں سے پھوٹ رہا ہے جن کی بربادی اور نیست و نابود کرنے کے آپ درپے ہیں اور جن کی جان و مال اور ان کے بانئ مذہب کی عزت و حرمت کو تم چوک میں گالیاں دے کر تاراج کرنا چاہ رہے ہو۔
اس سوا سو سال کے سفر میں یہ دیکھ لیں کہ آپ کے ہاتھ کیا آیا۔
آپ کے پاس سو سال قبل ابوالکلام آزاد، محمد حسین بٹالوی، ثناللہ امرتسری، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علیخاں اور ابو الاعلی مودودی جیسے لوگ تھے اور آج پاکستان میں امت کے پاس فخر کرنے کے لئے خادم رضوی اور اس کی مغلظات رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
سن 2001 میں مجھے منو بھائی کے گھر ان کا ایک انٹرویو ریکارڈ کرنا تھا۔ تو بعد از ریکارڈنگ غیر رسمی گفتگو میں ملاں اور احمدیہ دشمنی کا ذکر آیا۔ تو وہ منو بھائی جو اچھے خاصے سرخے اور لبرل، کہنے لگے کہ احمدی ایسے ہی کھپتے ہیں ان کے ساتھ۔ ایک اخبار کے دو اندر کے صفحے خرید کر ان میں ایک طرف ان سارے مولویوں کی تصویریں اور سامنے والے صفحے پر اپنے خلفاء کی تصاویر چھپوا دیں۔ اور نیچے کچھ بھی نہ لکھیں تو لوگ چہروں کی متانت اور وقار سے ہی پہچان لیں گے۔
پر اب تو وہ زمانہ بھی لد گیا۔
بے ایمان اشرافیہ نے چار دہائیاں ایک کمزور اور نہتی جماعت کے پاکستانی شہریوں کے جان مال اور آبرو کا سودا کئے رکھا۔
اسلام نافذ ہوتا رہا اور مالی بد عنوانی کھل کھیلتی رہی۔ ووٹ خریدا جاتا رہا اور ذہنی و سماجی دیانت کا استحصال جاری رہا، شھری حقوق کے تحفظ کرتے وقت ووٹر لسٹوں کی طرح دو لسٹیں بن گئیں۔ احمدی کے حقوق اور دیگر شھری۔
اب مکافات کا کھیل شروع ہوا ہے اور اپ سائیڈ ڈاون ہو گئی۔
اب یہ ڈائن وفاقی وزراء کا خون مانگتی ہے۔ اب یہ سپریم کورٹ کے فیصلے رد کرتی ہے۔ اب اس کا ایجنڈا اور ہے۔
پچھلے پچاس سال حکومتیں بچانے کے لئے احمدیہ ایشو استعمال ہوتا تھا۔ آج فیض آباد چوک میں حکومت گرانے کے لئے احمدیہ ایشو اور ختم نبوت کا کارڈ استعمال ہو رہا ہے۔ سعودیہ نے اپنی ترجیحات بدل لیں۔ بین الاقوامی مسائل ایک یکسر مختلف منظر نامہ لئے ہوئے ہیں اور اسلام آباد میں یہ مذہب آلود مکروہ سیاسی قلابازیاں ایک ناقابل عمل محاذ آرائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ طوائف میڈیا اس کو قادیانیت اور مرزائی فتنے پر فیصلہ کن وار قرار دے رہا ہے۔ اور یکطرفہ موقف سن سن کر اب ان ضمیر فروشوں کی شکلیں دیکھ کر ہی ابکائیاں آتی ہیں۔
ایسے میں احمدی ایک الہام اور امام کے پیچھے کھڑے ہیں۔ الفاظ یہ ہیں۔
انی مہین من اراد اہانتک۔۔۔۔و انی معین من اراد اعانتک۔
ترجمہ۔ میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا خواہاں ہو گا اور اس کی مدد کروں گا جو تیری اعانت کا خواہاں ہو گا۔
اور امام وہ جو ان کے لئے اس زمانے میں صاحب اذن ہے اور ڈھال ہے۔
آپ کا ایک کریڈینشل تو گالیاں اور بد زبانی ہے جس کا مظاہرہ آپ گذشتہ تیرہ دن سے فیض آباد دھرنے میں اور 1953 سے تسلسل کے ساتھ پاکستان بھر میں کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن مقصد کو پانے کے لئے جو اتحاد، تنظیم اور یقین درکار ہے وہ آپ کے پاس نہیں۔ امت مسلمہ آپ ضرور کہلاتے ہیں مگر امت واحدہ آپ بالکل نہیں ہیں۔
احمدی ملت واحدہ ہیں۔
احمدی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر منظم ہیں۔
احمدی اس یقین پر قائم ہیں کہ اللہ تعالی ان کو ہر دور میں ہر طرح کی آگ سے محفوظ رکھے گا اور وہ امام کو وہ حبل اللہ جان کر اس سے چمٹے ہیں اور کسی بھی جوش اور ابتلاء میں اس ڈھال سے آگے نہیں آتے بلکہ اس ڈھال کے پیچھے رہ کر صاحب اذن کی طرف دیکھتے ہیں۔
جہاں تک اس بازاری زبان درازی کا تعلق ہے تو وہ تو گلیوں کے آوارہ لونڈوں اور اوباشوں میں بودو باش رکھنے سے بڑی آسانی سے آ جاتی ہے لیکن تحمل اور بردباری کے ساتھ مستقل آگے بڑھنے اور زمانوں کی کایا پلٹنے کے لئے جس عزم، استقلال اور یقین محکم کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کے ہاں عنقا ہے اور احمدیوں کی صفوں میں ارزاں ہے۔
ریڈیو پاکستان میں کوئی پندرہ سال پہلے ایک مشاعرہ ہوا اور ایک شعر نشریات سے حذف کر دیا گیا۔ آج وہ یاد آیا ہے، سن لیجئے۔ کہ
اس نے بہت تلقین کی۔
ایمان کی اتحاد اور تنظیم کی
ہم نے بہت توہین کی۔
اور خاص کر ان تین کی۔۔۔۔۔!
مولوی صاحبان ۔۔۔۔۔۔آپ نے آج کے پاکستان کو اس شعر کی تصویر بنا کے رکھ دیا ہے۔ اور ان کرتوتوں کے ساتھ اگر آپ خود نیست و نابود ہونے سے بچ جائیں تو سمجھیں کہ سستے چھوٹے، ان زندگی کش اطوار کے ساتھ آپ احمدیوں کو نابود کر سکیں گے؟ یہ ایک وہم ہے اور بس۔
ضمنی طور پر عرض کر دوں کہ،
ارشاد حقانی جماعت اسلامی کے تھے۔
نذیر ناجی اہل تشیع اوریجن رکھتے ہیں۔
عبادت بریلوی تو نام سے ہی ظاہر ہے۔
زاہد الراشدی اہل حدیث
اور دیگر سب لکھنے پڑھنے اور بولنے والے بھی کچھ نہ کچھ ہوتے ہی ہیں۔
اس چکر میں پڑنے کی بجائے بات کو تولا کریں۔ اگر بات باون تولے پاو رتی پوری اترے تو اس سے غرض نہ رکھیں کہ "ایہہ کدھرے مرزائی تے نئیں”
اور اگر بات اور سوال صرف اتنا ہو کہ ایک سلیم فطرت انسان کے دل میں جو تصور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا موجود ہے وہ خود سے ایک سوال کرے کہ کیا رسول پاک اور ان کے صحابہ کے انداز اور طرز کلام اس خادم رضوی اور دھرنے کے شرکاء جیسی ہو گی؟
اکیلے میں سوچیں کہ اس طرز عمل کو ذرا سی نسبت بھی ہو گی آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کے انداز و اطوار سے؟
اور اگر نہیں۔۔۔۔۔اور یقینی طور پر نہیں تو کوئی اس وقت کے عاشقان کو اتنی سی بات تو کہے کہ،
اسی زبان سے اسی وقت گند بک بک کر
خدا کا نام نہ لو ظالمو!….۔۔۔۔۔خدا کے لئے

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Censorship Never Conceals the Truth! By Waseem Altaf

Fiaz International Festival was held at Lahore from 16-18 November, 2018. Javed Akhtar and Shabana

9 تبصرہ

  1. ماشااللہ بہت خوب لکھا ھے حیرت ھے آج کے عاشقین رسول کے دعوے داروں کی زبان پر کہ ھر ایک کو غلیظ گالیوں سے نواز رھے ھیں انکے مقابل بازاری لونڈے بھی میڈیا یا پبلک میں سر عام اس طرح کی زبان بولتے ھوئے شرم محسوس کرتے جیسی یہ محبان رسول بول رھے ھیں۔ اللہ تعالی سے دعا ھے کہ قوم کو عقل دے کہ ان فریب کاروں کے چنگل سے نجات پائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend