ہوم / حقوق/جدوجہد / پروفیسر عبدالسلام پر صفدری زبان درازیاں۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

پروفیسر عبدالسلام پر صفدری زبان درازیاں۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آج پھر دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں اور میڈیاء میں ہا ہا کار مچی ہے کہ جی وہ فزکس کے سنٹر کا نام پھر ڈاکٹر عبد الاسلام کے نام سے بدل کر کچھ اور رکھ دیا ہے۔
پاکستان کا لبرل تشخص خراب ہو گیا ہے۔ اقلیتوں کے لئے برداشت کی فضاء نہیں رہی۔ عبدالسلام پاکستانی تھے۔ کیا ہوا جو وہ قادیانی تھے۔ وہ تو ایک سائنسدان تھے۔۔۔۔۔اور بس۔
اور سائنس تو قادیانی نہیں ہوتی ۔ وہ محب وطن تھے۔ ان کا دنیا میں بڑا نام تھا ۔ علی ھذ القیاس۔۔۔۔۔معذرت خواہانہ احتیاط کے ساتھ جو کچھ لکھا اور بولا جا سکتا ہے وہ لکھا اور بولا جا رہا ہے اور زیرو سے لے کر سو تک کوئی کسی جگہ آتا ہے تو دوسرا ذرا آگے جا کے مرتا ہے مگر لائن پہ ہاتھ کسی کا نہیں پڑ رہا۔ کھال بچا کے بات کرنے اور تجزیاتی دانش بگھارنے سے حاصل بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ جملے بازیاں اور پھبتیاں تو مل جاتی ہیں لیکن تعمیری مکالمے اور حقیقت پسندانہ تحقیقی فضاء ایسے بزدل اور تماش بینوں کے نصیب میں نہیں ہوتی اور ایسے لولی پاپ اور چوسنیوں کی پروردہ عوام اور آئیندہ نسلیں بڑے فیصلے تو درکنار ، معقول اسمبلی ممبر تک نہیں چن سکتے کیونکہ ان کی تربیت میں بے ضمیری، بزدلی اور سفلی منافقت کے خمیر کی آمیزش ہوتی ہے اور چاک پہ چڑھ بھی جائیں تو منافق انگلیوں اور کم ظرف ہتھیلیوں سے ہی ان کی صورت گری ہو رہی ہوتی ہے۔ بعد میں بنانے والے ہاتھ اور بننے والے کھلونے دونوں ہی احساس زیاں کے جہنم میں جلتے اور اپنی کم مائیگی میں پختہ ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
اس علامتی اور ادبی تمہید کے بعد کچھ معروضی حقائق پیش کر رہا ہوں جن کو سامنے رکھ کر قارئین اس بے سوادی اور کم نظری کے فیصلوں کو پرکھ تو لیں۔ تبدیلی تو خیر۔۔۔۔۔جب آئے گی تو دیکھی جائے گی۔ ایک حسب حال سے شعر سے پہلے منہ کا ذائقہ بدلئے تو بات آگے بڑھاتے ہیں، کہ
ابھی تاروں سے کھیلو ، چاند کی کرنوں سے دل کو بہلاوء
ملے گی اس کے چہرے کی سحر ، آہستہ۔۔۔آہستہ۔۔۔
یہ سلسلہ اور تماشا نیا نہیں ہے۔ کم از کم تین دہائیاں ہونے کو آئی ہیں کہ عبدالسلام نام کے چاند پہ تھوکتے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔واپس قوم کا چہرہ گندا کرتے ہیں۔
بیس برس قبل لاہور میں ایک بڑی تقریب تھی ایک فائیو سٹار ہوٹل میں جس کی صدارت سیدہ عابدہ حسین کر رہی تھیں جو ان دنوں فیڈرل منسٹر برائے سائینس و ٹیکنالوجی تھیں اور مہمان خصوصی علامہ اقبال کے صاحبزادے جناب جسٹس جاوید اقبال تھے۔ عبدالسلام سنٹر ٹریسٹے اٹلی سے ڈاکٹر فہیم حسین مرحوم خصوصی نمائیندے کے طور پر شامل ہوئے اور اسی قائد اعظم یونیورسٹی سے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی مقررین میں شامل تھے۔ اور یہ وہ دن تھے جب ڈاکٹر قدیر خان کو پروفیسر سلام کے متبادل بلکہ ان سے بڑے مرتبے کے ساتھ پروموٹ کیا جا رہا تھا اور پی ٹی وی کے خبرنامے میں صدر، وزیر اعظم کے بعد ان کی خبر چلتی تھی۔
ڈاکٹر پرویز ہود بھائی تب بھی ایسے ہی دلیرانہ خطیب تھے جیسے اب ہیں۔ تو ان کی تقریر کی ابتدائی لائینیں کچھ یوں تھیں کہ،
"جب حالیہ ایٹمی دھماکوں کی گرد بیٹھ جائے گی اور چند دہائیوں کے بعد اگلی صدی میں سائینس کا مورخ اپنی پرسکون سٹڈی میں بیٹھا اس صدی کی سائنس کی تاریخ لکھ رہا ہو گا تو وہ میکسویل کے بعد کوانٹم اور اس کے بعد آئین سٹائین کے بعد صرف اور صرف ڈاکٹر سلام کا ذکر کرے گا اور اس پوری صدی میں فزکس کی تاریخ میں ان چاروں کے مرتبے پہ کسی اور کو نہیں رکھ سکے گا۔ "
یہ الفاظ ڈاکٹر ہود بھائی کے ہیں اور وہ ان کی تصدیق کے لئے ابھی زندہ ہیں۔ مذہب کو وہ بھی نہیں مانتے مگر پروفیسر سلام کے احمدی اور خدا پرست مواحد ہونے کا انہیں خوب علم ہے لیکن ان کی اس حیثیت سے ہود بھائی ان کے سائنسدان کے مرتبے کا انکار نہیں کرتے۔
کانفرنس کے اختتام پر ہال میں موجود حاضرین سے استدعا کی گئی کہ وہ ہاتھ کھڑا کر کے ووٹ دیں کہ قائد اعظم یونیورسٹی کا فزکس ڈیپارٹمنٹ عبدالسلام کے نام سے منسوب کیا جائے۔
حاضرین کے ووٹ سے پہلے میں نے اجازت چاہی کہ کچھ عرض کروں جو عابدہ حسین صاحبہ نے مرحمت فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ نئی جگہوں اور مراکز کا نام ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر رکھنا مشکل اور ناقابل عمل سا کام ہے اور آپ اس پتھر کو نہ اٹھائیں۔ البتہ اگر آپ اس کار خیر میں سنجیدہ اور مخلص ہیں تو آپ اس شھر کا نام اس کے مکینوں کی مرضی کے خلاف تبدیل نہ کریں جہاں پروفیسر سلام نے دفن ہونے کی وصیت کی تھی اور جہاں اب ان کی آخری آرام گاہ ہے۔ جسٹس جاوید اقبال اس پہ وہ شرارتی ہنسی ہنسے جو ان کی پہچان تھی اور بولے کہ آپ کا تعلق لگتا ہے اسی شھر سے ہے۔
یہ اس وقت کے جگادری صحافی اور ڈاکٹر سلام کے ہمدرد ابھی اپنے ٹاک شوز کے ذریعے معرض وجود میں نہیں آئے تھے کیونکہ ابھی یہ ٹی وی چینل ہی نہیں تھے جن کے ذریعے کاشف عباسی، سلیم صافی،ڈاکٹرشاہد مسعود، حامد میر، اور اس قبیل کے دیگر اہل دانش معتبر قرار پائیں۔
اب آپ سے چند سوال ہیں اور اس کے بعد کچھ گزارشات ہیں۔
اول تو یہ کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو یہ ساری سزا تو ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے مل رہی ہے اور ان کے لواحقین بجا طور پر جماعت احمدیہ اور ان کی اولاد ہوئے۔
ان کی طرف سے تو آج تک کسی فورم پہ اس طرح کا مطالبہ کیا نہیں گیا۔ آپ لوگوں کو خود ہی نام رکھنے کی سوجھتی ہے اور پھر خود ہی بدل دینے کی ۔ تو اول تو یہ کہ اس واہیات پنے سے احمدیوں اور ڈاکٹر عبدالسلام کے اہل خانہ کو سروکار نہیں۔
دوسرا یہ جو کالم نگار لکھتے ہیں کہ ان پہ الزام ہے کہ وہ قادیانی تھے۔
او بھائیو۔۔۔۔ان پہ الزام نہیں تھا۔ وہ درحقیقت احمدی تھے۔ پابند صوم و صلوات اور نظام وصیت تک میں شامل اور خلافت احمدیہ کے بدل و جان پیروکار تھے اور ان کی زندگی میں ایک دن بھی ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے کسی منصب اور مفاد کی خاطر اپنی اس شناخت کو چھپایا یا اس عقیدے سے ایک انچ بھی قدم پیچھے ہٹایا ہو۔
شھزاد احمد مرحوم جو پاکستان کے معروف شاعر اور ڈاکٹر سلام کی کتاب کے مترجم تھے، انہوں نے مجھے کہا کہ میں عبدالسلام صاحب کی اردو سوانح کے کام کے سلسلے میں خط و کتابت کے لئے اپنا نام استعمال نہ کیا کروں کیونکہ احمدی کی وجہ سے لوگ شائید رابطہ رکھنا پسند نہ کریں۔
ان کو بھی میرا یہی سوال تھا کہ کیا خود ڈاکٹر سلام نے کبھی ایک بار بھی زندگی میں ایسا کیا؟
کہتے ہیں۔۔۔نہیں، انہوں نے تو کبھی نہیں کیا۔
تو پھر میں کیوں کروں گا۔ وہ مجھ سے پہلی نسل تھے۔ اور اس نسل نے ہمیں یہ سبق نہیں دیا جو آپ دے رہے ہیں۔ اور ہمارے احمدی ہونے کی شناخت سے اللہ کی تائید اور نصرت بڑھ تو سکتی ہے ، کم نہیں ہو سکتی۔
میرے اس جواب سے ان کو وقتی تکلیف ہوئی لیکن تعلق قائم رہا، کیونکہ حقیقت ہے ہی یہی کہ ہم جو ہیں، وہ ہیں۔ معاشرے کا ہم سے اپنی شناخت بدلنے کا مطالبہ جرم اور گھٹیا پن ہے، ہمارا اپنی شناخت پہ قائم رہنا ، نہ جرم ہے اور نہ غداری۔
ضیاالحقی اسلام نے آپ لوگوں کی سوچ کو جذام اور کوڑھ زدہ کر دیا ہے اور اب روز نام رکھنے اور بدلنے کا تماشا لگا کے بیٹھ جاتے ہیں۔
وہ لوگ پیدا کریں جن کو دنیا تسلیم کرے اور اپنے ادارے ان کے ناموں سے موسوم کرے۔
آپے میں رجی پجی تے آپے ای میرے بچے جیون
والا حال ہے آپ کا۔ اس سے باہر نکلیں۔ ربوہ کا نام بدلا، ہمارا تشخص بدلا، ہماری ووٹر لسٹ الگ کی،
ہوسٹلوں میں احمدی طلباء کے برتن الگ کئے، الغرض تذلیل کا ہر حربہ استعمال کر چکے ہیں۔
لیکن نہ ہمیں اسمبلی سیٹوں کی مار پڑی، نہ احمدی طلباء تعلیمی میدان میں پیچھے رہے، اور ہماری ووٹر لسٹیں الگ کر کے آپ نے چنا کیا؟
کیپٹن صفدر عرف داماد اعلی۔
آپ کے انتخابات کیا اور آپ کی دی ہوئی عزت کی اوقات کیا ؟؟
جناب آپ اپنے ادارے اور ان کے نام اپنے پاس ہی رکھیں بلکہ فزکس سنٹر کو "صفدر سنٹر ” کہا کریں جو یاد دلائے کہ جب ہم آپ کے سماجی اور سیاسی نظام سے باہر رکھے گئے تو اندر کیا کچھ جمع ہو گیا تھا۔
جب تک ملائیت سے گٹھ جوڑ کر کے، مذہب کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے والی سیاست اور ریاست رہے گی، ہمیں کسی ادارے کا نام عبدالسلام کے نام پہ رکھوانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ لبرل ڈاکٹر سلام کے ہمدرد تو کیا ہیں، ۔۔۔۔۔۔
معاشرے میں ملائیت کے فروغ سے عام طبقات کو اپنی موت دکھائی دے رہی ہے جس پہ ماتم کرنے اور بین ڈالنے کے لئے ڈاکٹر عبد السلام کا نام استعمال کرتے ہیں ورنہ چور کی ماں کو پکڑیں کہ جہاں سے آئین نے غیر آئینی کام کیا اور اکثریت کے نام پر انسانیت اور سماجی و سیاسی قدروں کو پامال کیا ہے وہیں سے بنیاد پڑی کہ کیپٹن صفدر جیسے ٹٹھ پونجئے ڈاکٹر سلام کے قد و قامت رکھنے والوں پہ اسمبلی کے فلور پہ زبان درازیاں کریں۔

گمنام سہی، مرکزی کردار تو ہم تھے
پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Censorship Never Conceals the Truth! By Waseem Altaf

Fiaz International Festival was held at Lahore from 16-18 November, 2018. Javed Akhtar and Shabana

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend