ہوم / حقوق/جدوجہد / سیالکوٹ شہر مسلمان ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

سیالکوٹ شہر مسلمان ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

بات کے تین حصے ہیں اور ہر ایک کا الگ عنوان ہے، ڈوبتی کشتی میں ایک شگاف اور ہو گیا ہے اور بے خدا معاشرے، حکومت اور انتظامیہ نے مل کر خانہ خدا مسمار کیا، بنے گھر کو توڑنے کے لئے قانونی آڑ میں بد ترین لا قانونیت کا مظاہرہ کیا اور حکومت اور انتظامیہ نے مل کر احمدیوں کے شہری حقوق پر کتے چھوڑ دئے اور میڈیا خاموش تماشائی بنا رہا۔ اقلیت اقلیت کھیلنے کو پچھلے ہفتے بساط بچھائی گئی اور چوبیس مئی کی رات کو سیالکوٹ شہر کے کشمیری محلے میں واقع مسجد مبارک اور ملحقہ مکان مسمار کرنے کا جہاد سحری تک جاری رہا۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق جو وجوہات گھڑ کے پیش کی جا رہی ہیں وہ یہ ہیں،

مکان کی تعمیر نقشے کے مطابق نہیں تھی اس لئے گرایا گیا

پہلے سیل کیا گیا تھا بعد میں قانونی کاروائی کرتے ہوئے گرایا گیا

ڈی پی او انکوائری کروا رہے ہیں

اقلیتوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے

ٹی وی پر مصطفی نواز کھوکھر اور فواد چوہدری دکان لگائے بیٹھے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ ابھی حقائق سامنے نہیں ہیں کہ آیا انتظامیہ کا اقدام درست تھا یا غلط، البتہ اقلیتوں کے جان و مال کا تحفظ ہونا چاہئے۔
دونوں جھوٹ اور منافقت سے کام لے رہے تھے اور معاملے کی سنگینی سے پہلو تہی کر رہے تھے۔

وسعت اللہ خان ، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی اپنے بے ضرر انداز میں اس واقعے پر تعجب اور بے بسی کا اظہار کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ احمدی کیا احسن اقبال سے زیادہ طاقتور ہیں۔۔۔؟
جب وہ محفوظ نہیں تو انتظامیہ کیا کرے بے چاری، ان کو بھی تو اپنی جان عزیز ہے۔ وہ احمدیوں کے جان و مال کا تحفظ کیسے کریں؟

وجاہت مسعود صاحب نے رات گئے خبر لگائی اور فجر کے قریب اظہار افسوس کیا اور تلخ تحریر لکھنے سے گریز کی نصیحت کی کہ اس سے پاکستان میں آپ کے احمدی بھائیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ ( پہلے تو احمدی جنت کے ماحول میں رہ رہے ہیں)
قریب چھ ماہ پہلے ایک قریبی دوست نے جو سیالکوٹ میں ہی تعینات ہیں، فہمائش کی تھی کہ کوئی ادبی اور شاعرانہ موضوعات پہ لکھا کریں۔ یہ کیا مذہبی ایشوز پہ لکھ رہے ہیں۔
کل کے واقعے پہ ان کو بھی پیغام لکھا کہ ماشاللہ آپ تو ضلعی انتظامیہ کے ذمہ دار افسر ہیں۔ بڑے ادبی اور شاعرانہ اسلوب میں آپ نے مسجد مسمار کروائی ہے۔ جزاک اللہ( اب جیسی جزاء اللہ چاہے۔۔۔۔۔! مگر دے گا ضرور)
اور یاد آیا کہ چند ماہ قبل ہماری ایک یونیورسٹی فیلو کا فون آیا۔ رسمی طور پر ہی پوچھا کہ کیا کر رہی ہو؟
بولیں کہ سی ایس ایس کی تیاری کر رہی ہوں۔
میں نے روا روی میں جملہ کسا کہ ، اچھا۔۔۔۔مطلب یہ کہ جب تک میں پاکستان آیا تو آپ اس وقت تک اسٹنٹ کمشنر بن کر کسی شہر میں احمدیہ مسجد کے مینار گروا رہی ہونگی؟
بے چاری روہانسی سی ہو کر کہنے لگیں کہ، میں تو ایسی نہیں۔ آپ تو جانتے ہیں!
آج مجھے خیال آیا کہ یہ دوست بھی ایسے نہیں تھے اور کئی بار امام جماعت احمدیہ کے خطبات میرے ساتھ سنے اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی خطابت کے بڑے فین تھے۔ مگر یہ سلیم الفطرتی بس یونیورسٹی کے زمانہ طالبعلمی تک ہی چلتی ہے۔ پھر سیاستدان، ملائیت اور بیوروکریسی کا مکروہ گٹھ جوڑ ان کی فطری سعادت کو مسخ کر کے ان کی جگہ جھوٹے اور مکار ضلعی افسران لے آتا ہے۔
خیر یہ جملہ معترضہ ہی تھا۔

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو ضیاالدین یوسفزئی نے اس واقعے پہ افسوس کرنے کے لئے فون کر دیا اور دن بھر کی تلخی میں نے ان کی سماعت میں گھول دی۔
میرا اصرار تھا کہ اب پرائیوٹ تعزیت بند کریں۔ اور بات پہلے اور ابتدائی ظلم سے شروع کریں ، اگر ریاست کا جانبدار ہو کر اپنے شہریوں کے عقیدے کے حق پر حملہ جائز تھا اور آئینی ترمیم سیاسی اور سماجی لحاظ سے ٹھیک تھی تو پھر یہ حملہ اور احمدیوں کے شہری حقوق سے کھلواڑ پہ آپ سطحی افسوس رہنے دیں ۔ایک بے خدا معاشرے اور دہریہ حکمرانوں اور منافق سوشل فگرز سے ہمیں کسی طرح کی ہمدردی اور اشک شوئی کی حاجت نہیں ہے۔ اور ہم خدا کو بھی مانتے ہیں اور اس زمانے میں اس کے فرستادے پہ ایمان لائے ہیں ۔ اب اگر وہ ہمارا تحفظ نہیں کرے تو آپ کی مشروط ہمدردی ہم نے چولہے میں جھونکنی ہے؟
اور تعلقات کو خود فیصلہ کر کے رکھیں یا چھوڑ دیں۔ ملاں کو بیچ میں مت لائیں۔ اس سے تو کنویں کا پانی پلید ہو جاتا ہے تو باہمی محبتیں کیسے قائم رہیں گی؟ بے چارے سخت سست چپ کر کے سنتے رہے۔ اللہ انہیں بھی جزاء دے۔
ایک سینیٹر قراہ العین مری نے سینٹ میں کچھ جملے بولے اور چئیر مین صاحب کی سمع خراشی کا سبب بنی، اللہ ان کو بھی آواز بلند کرنے کی جزاء دے۔
عام قارئین کے لئے یہ عرض کر دوں کہ،
مسجد اور ملحقہ عمارت سواسو سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔ اور اس میونسپلٹی کے دودھ کے دانت نکلنے اور ان ضلعی افسران کے دادا سے بھی پہلے کی تعمیر شدہ عمارتیں ہیں۔
بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ان جگہوں میں رہائش رکھی اس لئے ان قدیم عمارات کو احمدی اپنے لئے مقدس تاریخی یادگار سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے ان کو قدیم طرز تعمیر کے انداز میں ہی اپنی آئیندہ نسلوں کی زیارت گاہ کے طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اسی لئے اس کو گزشتہ برس مرمت اور تزئین و آرائش سے محفوظ بنایا گیا۔
اس سے ان” لبیکیوں ” اور سفلے مقامی اسلامسٹوں کے جذبات مجروح ہوئے اور ایک ہفتے سے اس کے خلاف تقاریر جاری تھیں اور ضلعی انتظامیہ نے بلوائیوں کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں اور ان کی ڈوریاں سیاسی فوائد کے حریص لیڈروں کے ہاتھ میں تھیں جو اب احمدیت دشمنی میں ایک دوسرے کو پچھاڑ کر اپنا سیاسی مستقبل بچانا چاہتے ہیں۔
اس میں کیپٹن صفدر، نواز لیگ، عمران خان اور اس کے لوٹے سب یہ ثابت کرنے کی دوڑ میں ہیں کہ وہ دوسروں سے زیادہ قادیانیوں کے دشمن ہیں اور اس دوڑ میں فوج بھی جنرل باجوہ کے احمدی الزامات کے داغ دھونے میں لگی رہتی ہے۔
سارے احمدی ریاست کی ناک کے نیچے تہ تیغ ہو جائیں پر کسی پہ ختم نبوت کے منکر ہونے یا مرزائی نواز ہونے کا الزام نہ آئے۔ یہ وہ بے ایمانیاں ہیں جو آئینی اور قانونی جبے پہن کر ملک بھر میں ناچ رہی ہیں اور احمدی ۔۔۔۔۔۔۔۔

آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
اور کبھی اپنے امام کو اذن طلب نظروں سے دیکھ کر پھر مالک کائنات سے فریاد کناں ہیں۔
پچھلے چوبیس گھنٹوں میں دنیا بھر کے احمدیوں نے اس دعا پہ بہت زور دیا ہے کہ،

‏اَللّٰھُمَّ مَزِّقْھُمْ کُلَّ مُمَزِّق وَ سَحِّقْھُم تَسْحِیقًا

اے اللّٰہ ان دشمنوں کو پارہ پارہ کر دے اور ان کی خاک اُڑا دے اور ان کو پیس کے رکھ دے اور ریزہ ریزہ کر دے۔
مگر آپ لوگوں نے تو شائد یہ کبھی سنی یا پڑھی ہی نہ ہو مگر احمدی یہ دعا بہت کر رہے ہیں۔
اگر آپ خدا کو ماننے والے ہوتے تو آپ اس دعا اور مستجاب الدعوات خدا سے ڈر بھی جاتے۔۔۔۔۔۔مگر آپ تو خدا کو مانتے ہی نہیں تو آپ اس سے کیسے ڈریں ؟
اور احمدی۔۔۔۔۔۔۔چونکہ خدا کو مانتے ہیں ، اسلئے اب وہ آپ سے کیسے ڈریں۔؟؟؟
یہ ہے اصل مسئلہ صاحب،

یہ ہے فیکٹ شیٹ اور باقی یہ کہ اقلیت ہیں جی۔
تعمیر کا نقشہ غیر قانونی تھا۔
انکوائری کروا رہے ہیں، اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے گا۔
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔یہ باقی سب جھوٹ، منافقت، ملمع سازی، کمینگی، سفلہ پن اور بکواس ہے!!!
جاتے جاتے کلام طاہر سے تین دہائیاں قبل کے چار مصرعے سنتے جائیں،
لگتا ہے کہ اب انہی کا وقت آ گیا ہے

کرو تیاری بس اب آئی تمہاری باری

یونہی ایام پھرا کرتے ہیں باری باری

ہم نے تو صبرو توکل سے گزاری باری

ہاں مگر تم پہ بہت ہو گی یہ بھاری باری

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Censorship Never Conceals the Truth! By Waseem Altaf

Fiaz International Festival was held at Lahore from 16-18 November, 2018. Javed Akhtar and Shabana

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend