جنرل مشرف کو غداری مبارک ہو……..طاہر احمد بھٹی

جنرل مشرف کو غداری مبارک ہو۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

متحدہ پنجاب کے ایک پسماندہ تر پنڈ کے ایک پسماندہ ترین گھرانے کی بہو کچھ مشکوک کردار کی تھی اور ساتھ سینہ زور بھی تھی، چنانچہ اپنے خاوند سے تو تکار کے دوران کہنے لگی کہ بس ٹھیک ہے جی،۔۔۔اگر میں اچھی نہیں تو آپ لوگ مجھے طلاق دے دیں۔
سسر جو چپ کر کے کھانا کھا رہا تھا اور میاں بیوی کی لڑائی میں دخل نہیں دے رہا تھا، اس جگہ بول پڑا اور بہو سے کہا،
واہ نی کڑئیے۔۔۔۔۔پھرن نوں سارا پنڈ تے طلاق اسیں کلے دئیے!
جہاں جہاں جاتی ہو وہاں سب سے لکھوا کے لے آتی تو آخر پہ اپنے حصے کے چند حرف ہم بھی ڈال دیں گے۔
سابق آرمی چیف اور سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے ساتھ بد چلن ریاستی اداروں نے یہی کیا ہے کہ، باقیوں کو نظر انداز کر کے ایک کو طلاق لکھ دی۔ سب اپنا حصہ پاتے اور آخر پہ مشرف کی باری آتی تو سمجھا جاتا کہ تاریخ رقم ہونے لگی ہے۔ یہ تاریخ رقم نہیں ہونے جا رہی بلکہ ریاست کے منہ پر کالک ملنے جا رہے ہیں اور شتاب کاروں کو اپنی گیدڑ ٹپوشیاں مارتے ہوئے عواقب نظر نہیں آ رہے۔
پنجابی کے ایک مصرعے کے مطابق،
بیڑی کاغذاں دی، باندر ملاح ہویا، تے انھاں چلیا پور لنگاونے نوں
ترجمہ۔۔۔۔۔کاغذ کی کشتی پر بندر ملاح ہے اور اندھا پار لگنے کا راستا بتا رہا ہے۔
ٹیک اور تو ایوب خاں نے بھی کیا تھا اور بھٹو اس کی گود میں ہی پل کر جوان ہوا تو اس پہ فیصلہ دیتے۔
پھر مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھٹو کی ہٹ دھرمی اور سیاسی مفاد کی خاطر آئین پاکستان کے ساتھ بد ترین کھلواڑ جس نے ایک پورے طبقے کو غیر مسلم ہی نہیں غیر پاکستانی قرار دینے کی بنیاد رکھ دی اس بھٹو کو پھانسی تو کسی اور وجہ سے ہو گئی مگر غداری کا سرٹیفکیٹ اگر ترتیب سے دیتے تو اسے بھی دیتے۔ پھر جنرل ضیاء اپنی سندات سفارش کون سے آئین سے لے کر آیا اور سارے اداروں کو اسلام کے نام پر قعر مذلت میں جھونک گیا۔ وہ آگ کا ایندھن بن کے بھی شہید ہی ٹھہرا، آفیشل غداری کی سند اسے بھی نہیں ملی۔زرداری کے اور نواز ، شہباز کے مفاد پرست اور کرپٹ ہونے کے لئے تو دو جملے لکھنا بھی اضافی ہے۔ وہ تو اپنی ذات و صفات کے لئے،
I am, that i am
کے مقام پر فائز ہیں اور ہر حالت میں سودے بازی کرنے اور کروانے کا سٹیٹس لئے پھرتے ہیں۔
تو پھر سنگل آوٹ کر کے مشرف کو پھانسی کی سزا سنا کر ثابت کیا کرنے لگے ہیں۔ آپ جدھر جانے لگے ہیں وہ ملکی اور ریاستی مفاد کی تباہی کا ایسا راستا ہے جس کا یا تو آپ کو شعور نہیں ۔۔۔۔۔یا پھر دوسرا خطرناک ترین آپشن یہ ہے کہ آپ کو اس کا شعور ہے۔ اور آپ اس گڑھے تک قوم کو اور ملک کو صرف پہنچانے اور چھوڑنے کے لئے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ نواز شریف اور شہباز شریف وہ بندریاں ہیں جن کے پیر جلنے لگیں تو بچے پیروں تلے رکھ لیں۔ اب وہ ایک ایسی خود مختار بلکہ خود سر عدلیہ کو ملک میں بالا دست بنانے چلے ہیں اور پیپلز پارٹی اور دیگر Political Not Haves کے اشتراک سے یہ کھیل کھیلنے لگے ہیں کہ جس سے پارلیمنٹ کی سپریمیسی کے نام پر سچ مچ کی سپریم پاور ، جو اس وقت کے پاکستانی زمینی حقائق کے مطابق فوج ہے، اس کو بے وقار اور گندا کر کے رکھ دے۔ اور عدلیہ ایسا کرے گی سیاسی یتیموں کی اخلاقی مدد اور طاقت کے لئے بھوکے وکیلوں کی مدد سے۔
جسٹس صاحبان، ایسے تاریخیں رقم نہیں ہوتی ہیں بلکہ وقار مسخ ہوتے ہیں۔
چھوٹی عدالتوں میں کرپشن کو بھول جائیں گے آپ کیونکہ جسٹس افتخار سے آگے تو اعلی اور عظمی لیول پہ کمپرومائزڈ جیوڈیشری دیکھنے کو مل رہی ہے۔
اور ریاستی بد قسمتی کی ابھی مزید بہت سی جہتیں اور تہیں ہیں۔ میرے ان سطریں لکھنے سے پہلے آپ متعدد مرتبہ یہ سن چکے ہیں کہ پاکستان میں واحد ادارہ جو فعال اور مستحکم ہے وہ فوج ہے۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ واحد مستحکم اور فعال ادارہ۔۔۔۔۔۔یہ سب ہونے دے گا؟
سچ بول اور سچ کو تسلیم کر کے آگے چلیں تو تدریجی تبدیلی آسکتی ہے لیکن جھوٹ پر خود فریبی اور خود پرستی کے نعروں کا محل تعمیر کر کے آپ بحیثیت قوم اور ملک منہ کے بل گریں گے۔ اس لئے عدلیہ کو وہ وقار درکار ہے جو جسٹس کیانی اور جسٹس منظور قادر جیسے لوگ اپنی شخصیتوں، علمیتوں اور دور اثر نیتوں سے دیتے ہیں۔ وہ نہیں جو آج سیٹ سے ہٹ جائیں تو اگلے دن ارسلان افتخاروں کے بینک اکاونٹس پہ چالو ہو جائیں۔
ایک لائن یہ کہ آپ کے جوان جز وقتی لڑاکے اور پارٹ ٹائم وفادار ہیں جب کے فوج کے جوان کل وقتی لڑاکے اور فل ٹائم وفادار ہیں اور ان کے اوپر ہسپتالوں پر حملے کرنے کا داغ بھی نہیں۔ ان کی وردی صرف خاکی ہے، کالی نہیں ہے۔
اور دوسرا مسئلہ یہ کہ آپ کو مقننہ سے طاقت ملتی ہے، آپ نے ان کو قانون سازی کے لئے ڈکٹیٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اور موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع والی گیند ہی بہت غلط کھیلی گئی تھی ، تس پہ آپ نے سابق آرمی چیف کو غدار قرار دے دیا۔۔!
پبلک اور آپ کو ایک مشترکہ غلط فہمی ہے اور وہ یہ کہ مہذب ملکوں میں آرمی ایسا نہیں کرتی اور مارشل لاء کا راستا بند تو فلاں اور ڈھمکاں۔
اوئے اللہ کے بندو،۔۔۔۔۔ مہذب ملکوں جیسا ووٹنگ سسٹم، الیکشن کمیشن، دیانتدار بیوروکریسی، انسانی حقوق کا بلا امتیاز مذہب و ملت تحفظ کرنے والا دستور اور اس دستور کا ہر سطح پر احترام کرنے والی پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام کی عزت و حرمت کو حرز جان بنانے والے سیاستدان تو لائیں پہلے،
پھر فوج دخل دے یا سر پر سوار ہو تو ایسی فوج کے چیف کو نہیں ساری فوج کو ہی غدار قرار دے لیں ، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ابھی تو آپ تانگے کو گھوڑے کے پیچھے کی بجائے آگے جوت رہے ہیں۔ ایسا کیسے چلے گا!!
ممکن نہیں ہے ایسا۔۔۔۔۔!
سماجی اور قومی ترقی مربوط، بتدریج اور ایک پیکج ڈیل کی طرح ہوتی ہے، اس میں آپ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اور ایک طبقے کو باہر رکھ کر آگے چل ہی نہیں سکتے۔ بس ذرا سی دیر لگتی ہے مگر رزلٹ آتا ضرور ہے۔
اب کچھ احساس ہوا ہو گا کہ غدار نہ ہو کر غدار کہلانا اور سننا کتنا مشکل لگتا ہے۔
جب مالا کنڈ سے شریعت اتر کے پنڈی اسلام آباد میں آ کر نافذ ہونے لگی تو ریڈیو پاکستان اسلام آباد کی کینٹین پر ہمارے ایک پروڈیوسر بڑے روہانسے اور دلگیر ہو کر بیٹھے تھے،
اوہ یار۔۔۔۔ہن کی بنے گا؟۔
میں نے کہا کہ مزے سے چائے پئیں، راستے میں ویسٹرج اور کینٹ بھی تو آتا ہے۔ تو وہاں کے فوجی اپنے اور اپنے بیوی بچوں پہ یہ نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ بات ان کی سمجھ میں آ گئی اور وہ کھل اٹھے۔
مرنا سب نےہی ہے ایک دن اور ایک کمانڈو افسر کے طور پر پرویز مشرف مرنے سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔نہ گولی لگنے سے ناں گلا گھونٹ کر مگر جس نے زندگی بھر ملکی مفاد کو اولیت دی ہو اس کو غدار کا لقب ملے تو یہ موت سے بڑھ کر ہے۔ پرویز مشرف اپنے ویڈیو پیغام میں اس لئے آبدیدہ ہوا اور اسی وجہ سے آواز رندھ گئی ورنہ اعصاب کو کچھ نہیں ہوا تھا۔ ضمنی طور پر اگر کسی کی سمجھ میں آ جائے تو بڑی بات ہے کہ
جب سر ظفراللہ خان کو یا
ڈاکٹر عبدالسلام کو یا دیگر احمدی سیاسی، سماجی اور سب سے بڑھ کر مذہبی پیشوایان کو اسلام اور پاکستان کا غدار کہا جاتا ہے تو دل پر کیسے آری چلتی ہے۔ مگر ان سب پر تو احمدی ہونے کی وجہ سے بانئ جماعت احمدیہ کے اس مصرعے کی ٹھنڈی چھاوں رہتی ہے کہ،

دل قوی رکھتے ہیں ہم، دردوں کی ہے ہم کو سہار۔

مگر جنرل پرویز مشرف بیچارے تو احمدی بھی نہیں ہیں۔ اللہ ان کے دل کو غدار سننے کی اذیت سہارنے کی توفیق دے۔ اور ریاست کو اس حماقت کو سہارنے کی طاقت، کیونکہ اب پتھر سرکنا شروع ہو گئے ہیں۔ اندھی سلائیڈنگ کب دیکھتی ہے کہ جن کے سروں پر بلا امتیاز یہ سب کچھ گرے گا ان میں ۔۔۔۔۔
لیڈنگ رول کس کا تھا، ہمنوائی میں کون کون تھا اور تماشائی کون تھے۔
رب کل شئی خادمک، رب فاحفظنا، وانصرنا، وارحمنا۔۔۔۔آمین