ہوم / حقوق/جدوجہد / ضیاءالدین یوسفزئی کی پہلی تقریر اور پہلا کالم۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ضیاءالدین یوسفزئی کی پہلی تقریر اور پہلا کالم۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ضیاءالدین یوسفزئی کی پہلی تقریر اور پہلا کالم
یہی آج کل والا اپریل تھا لیکن 2012 کا اپریل اور تھا بھی اسلام آباد پااکستان اور بین الاقوامی ادارے ابھی پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کی دریافت کے سفر پر نکلے ہی تھے کیونکہ چند مہینے پہلے اس لڑکی نے ایک بچوں کی اسمبلی میں سپیکر کا کردار ادا کیا تھا اور ہم بھی ایک ڈاکومنٹری بنا کے سوات چترال سے واپس آئے ہی تھے جس میں ملالہ کا لہجہ خود اعتمادی کے حوالے سے نمایاں تھا۔
خوشحال سکول ضیاءالدین یوسفزئی چلا رہے تھے بلکہ زیادہ درست یوں ہےکہ وہ اس سکول کا پرنسپل ہونا بھگت رہے تھے اور ملالہ کا باپ ہونے کا کشٹ کاٹ رہے تھے۔
اس وقت کا مینگورہ سوات وہ نہیں تھے جو تاریخ میں مذکور اور پوسٹ کارڈز تصاویر میں مشہور ہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔
اک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کی واقعی تصویر اور خان افضل خان کا ہوٹل ایسی پناہ گاہ تھا جو کسی بھی بڑی لہر سے دریا برد ہونے ہی والا تھا اور ہم واپس آئے تو لالہ افضل خان سے دوایک بار ہی بات ہوئی اور انہیں بھی مار دیا گیا۔
وزیر اعظم کا ایوارڈ ملالہ کو دیا جا چکا تھا، بہت سے سکول بلاسٹ ہوچکے تھے، لاشیں چوک میں لٹکائی جا چکی تھیں اور دھمکیاں امر واقعہ کا درجہ حاصل کر چکی تھیں کہ ایک دن ضیالدین آئے اور بچوں کے ہمراہ خوش لباسی کی مہم پر کراچی کمپنی کی مارکیٹ کھنگالنی شروع کی۔
اگلے دن نیشنل لائبریری کے آڈیٹوریم میں امریکن ایمبسی اسلام آباد نے ایک تقریب رکھی ہوئی تھی ۔ اور تعجب ہے کہ اس میں ملالہ نہیں تھی۔ضیاءالدین کو ٹیبل ٹاک میں تو گھنٹوں سنا تھا اور ان کی معمولی لکنت عام گفتگو میں ایسی کھلتی بھی نہ تھی مگر اس دن قبل از ضیاءالدین یوسفزئی امریکن کونسلر نے انگریزی میں جو تقریر کی وہ گویا لنڈن کے تھیئٹر میں شیکسپئیر کے مکالمے ادا کئے۔
اس کے بعد مجھے فکر تھی کہ اب ضیاالدین یوسفزئی کی پشتونی انگریزی پر مستزاد لکنت۔۔۔!
یا اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔ کیا کریں گے ہمارے دوست یوسفزئی صاحب۔
لیکن معاملہ کچھ اسکے برعکس ہوا۔ امریکن کونسلر تو امریکہ سے ہزاروں میل دور اور اسلام آباد ایمبسی سے شمالی جانب کئی سو میل کے فاصلے پر مردم کش اور انسانیت سوز حالات پر ڈپلومیٹک کم ہیومنسٹ نقطئہ نظر پیش کر رہا تھا اور اس وقت کا ضیاءالدین تو آگ میں گھرے ہوئے انسانی مذبح خانے سے نکل کر ابھی کل شام کوہی آیا تھا اور کل صبح اس نے وہیں واپس جانا تھا۔ ساتھ میں دو شرارتی بیٹے ایک متدین مزاج بیٹی اور ایسی بیوی جس کو ان چاروں کے علاوہ کچھ پتہ ہی نہیں تھا اور یہی اس کی کل کائنات تھی اور ایسی کائناتیں تو سوات میں روزانہ بلیک ہول میں بدلتی تھیں۔
ایسے میں ضیاءالدین کی لکنت نے بولنا شروع کیا ہے اور تاثیر نے آڈیٹوریم میں اپنا گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ سامعین کی آنکھیں چمکی ہیں اور جبڑے بھنچے اور ناگاہ اس پشتو شعر نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے۔۔۔۔۔!
چہ پا وینیو کہ کاکڑ شوم
ہالا ستا ڈا ماحفل وار شوم
ترجمہ: میں جب خون میں نہلایا گیا ہوں ۔۔۔۔تب تیری محفل کے لائق ٹھہرا ہوں۔
اس کے بعد مائیک کیفیت اور تاثیر کے ہاتھ میں تھا اور پیشہ وارانہ مہارت خطابت و تقریر کسی کونے میں دبکی پڑی تھی۔ لکنت بول رہی تھی اور طلاقت لسانی کے سر چڑھ کر بول رہی تھی۔
تقریب ختم ہوگئی اور اس کی اتنی ہی عمر تھی۔ میری اور ضیاءالدین کی بات راستے میں چلی اور یگانہ چنگیزی کے اس شعر سے چلی کہ،
بات ادھوری اور اثر دونا
اچھی لکنت، زبان میں آئی
رات بھر چلی اور آج تک جاری ہے۔ ضیاءالدین اب کچھ عرصے سے موقف دینے اور بیان دینے والی منزل سے گذر رہے ہیں لیکن ان کے سامعین اور قارئین کے لئے یہ بات بھی عرض کر دوں کہ ان کو موقف دینا ہی نہیں بلکہ سننا بھی آتا ہے۔
اس دن کے بعد میڈیا اور اخبار اور رائے عامہ اور خدا جانے کیا کیا۔۔۔۔۔۔
درمیان میں کبھی لمبی اور کبھی طویل بات اور کبھی خاموشی۔ ادھر ادھر سے یہ سن لواور وہ پڑھ لو۔ لیکن ملالہ یا ضیاءالدین کے ٹویٹس اور فیس بک سٹیٹس تو بس ایسے ہی ہے جیسے کسی بھی سلیبریٹی کا ٹویٹ۔
اس کو بندہ کب تک پڑھے اور کیوں پڑھ کر سوچتا رہے۔ ٹویٹوں کا تعلق ابلاغ کے کسی درجے سے ہو تو ہو مگر خواب سے ٹویٹس کا کیا لینا دینا۔
ہمارے عزیز دوست سید وحیدالزمان مرحوم کا ایک شعر سلاست اور سادہ پر کاری کی مثال ہے کہ،
تم نے آگ کو جلتے دیکھا
ہم نے آگ میں جل کر دیکھا
اور اب اک زمانے کے بعد جب کل ایک کالم پڑھا تو وہ اسی ضیاءالدین یوسفزئی کا تھاجس نے امریکن ایمبسی کے فنکشن میں تقریر کی تھی۔ اس تقریر کے بعد میں نے صاف گوئی سے ان سے کہا تھا کہ آج سے پہلے میں آپ کا قائل نہیں تھا بس دوست تھا۔۔۔۔صرف دوستی جو کوئی علمی تقاضے نہیں کرتی لیکن اب مجھے آپ سے مستقبل میں کچھ کر گزرنے کی بھی توقع ہے۔۔۔۔بس خدا کے لئے کچھ کئے بغیر ہی ۔۔۔۔۔۔نہ گذر جائیے گا۔
موصوف لکھتے رہتے ہیں لیکن خواب انہوں نے اسی کالم میں بیان کئے ہیں اور خوابوں کی اذیت سے آگاہ ہیں۔ اور شکریہ یوسفزئی صاحب کہ جتنے لوگوں کے نام لے کر آپ نے خواب بیان کیا وہ سارے ہی ڈس کوالیفائی کر گئے ہیں۔ اور اچھا کیا کہ اہل قرار پا کر آپ کے خواب کو آلودہ نہیں کر سکے۔
البتہ آپ نے ان سب کے نام لے کر وہ سارے کام بتادئے جو کرنے ہیں اور جن کو کئے بغیر اس خطہ زمیں پر خواب نہیں بلکہ عذاب ہی اتر سکتے ہیں۔ اپنے خوابوں کے نام کے بین کر کے کم از کم آپ نے شتر مرغوں کے سروں سے ریت تو ہٹائی ہے۔
ہمارے ایک دانشور دوست حفیظ سکندر نے آپ کی تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ
"خواب تو یوسفزئی صاحب نے بہت خوب دیکھا ہے لیکن اسکی تعبیر کے لئے حضرت یوسف علیہ السلام کی فراست اس معاشرے کو درکار ہے”
القصہ یہ کہ آپ نے پتھر پھینک دیا ہے،لہریں بنی ہیں اب اس ارتعاش کو قائم رکھنا ہے۔
پاکستان کا سماجی اور سیاسی منظر نامہ ایسا مایوس کن اور تاریک نقشہ دکھا رہا ہے اور پھوڑا اتنا سخت تکلیف دے رہا ہے کہ اس کے قریب اگر 1953 کی شورش یا 1973 کی دوسری آئینی ترمیم اور ضیاالحقی بلاسفیمک آئین سازیوں کا نام بھی لیں تویہ چیخ و پکار شروع کر دیتاہے اور سارے اصلاح کے مدعیان اور "نحن مصلحون” کے علمبردار ہیں انسانیت تک بھول جاتے ہیں۔ میں نے گذشتہ ایک کالم میں لکھاتھا کہ سر دست آپ احمدیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم اور اس میں ریاست کی واضح شراکت داری اور سر پرستی کو ایک طرف رکھیں۔۔۔۔۔۔موجودہ صورت حال میں یہ کام کسی سیاسی اور فوجی طاقت کے بس میں نہیں ہے اور نہ احمدیوں کو ایسی کسی چوسنی اور لولی پاپ کی ضرورت ہے۔ وہ کائنات کے خالق و مالک سے ہمہ وقت ان مظالم کے خلاف پناہ مانگتے رہتے ہیں اور ان کو وہ پناہ ملی ہوئی ہے۔اور وہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل کا چلتا پھرتا نمونہ ہیں۔ آپ از راہ تکلف ان کا "ذکر خیر” رہنے دیجئے اور کچھ ایسی کوشش کر دیکھیں جس کے نتیجے میں شان تاثیر، علامہ جاوید غامدی صاحب اور خود آپ اور ملالہ پاکستان واپس جا سکیں۔
آپ چاروں کااسلام ہی قبول ہوجائے اس سوسائٹی میں تو بھی سمجھیں کہ ملک بچ گیا اور لوگ زندہ رہ سکیں گے۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے کالم کا عنوان جس شعر سے لگایا تھاوہ شعر سنیں۔۔۔
ہونا تو وہی تھا جو کہ منظور خدا تھا۔۔،
لیکن وہ مرے خواب۔مرے خواب۔مرے خواب۔۔۔۔!
اس لئے میرے بھائی آپ کو خواب مبارک ہو اور اللہ آپ کو اور بڑے خواب دیکھنے کی ہمت اورحوصلہ عطا فرمائے۔
عملی اور تعبیر کی سطح پر یہ عرض ہے کہ اگر پانامہ اور ڈان لیکس کی گرد اور ایک ہفتے میں دو جگہ بلاسفیمی کے واقعات کی دھول اور گردوغبار سے مشال خان کے سانحے کو دھندلانے سے بچا لیں اور سیاسی و مذہبی ڈگڈگیوں کا میلہ ایسی لاشوں پر نہ لگنے دیں اور مشال خاں کے والدین کو قصہ پارینہ کے طور پر بے یا رو مددگار مرنے سے بچالیں اور واقعی اس ظلم کو تاریخ میں اس کا صحیح مقام دلوا سکیں تو سمجھیں کہ رکے ہوئے پانی میں ارتعاش جاری ہے اور تعفن سے پہلے آسمان سے بارش بھی ہو سکتی ہے۔
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔
بہر حال وہ آپ کی پہلی تقریر تھی ۔۔۔۔۔۔
اور یہ آپ کا پہلا کالم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔ملک نجیب احمد فہیم

ہم سے تو دل کا درد سنبھالا نہیں گیا دل کو بھی شہرِ جاں سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend