غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

خود ہی آن بتاوء جی
گیان کا بھید اور بھاوء جی

من میں رم جھم اشکوں کی
تم بھی بھیگ ہی جاوء جی

نین کٹورے جل تھل ہیں
برکھا۔ اب تھم جاوء، ری

پریت ہے کرپا مالک کی
سر آنکھوں پہ بٹھاوء جی

دل کی دلی سونی سی
تم اس میں بس جاوء جی

کانچ رکھا ہے سینے میں
پتھر ناں برساوء جی

گتھی سلجھی جیون کی
کس کارن الجھاوء جی ؟

سپنوں کی منڈیروں پر
آس کی بیل چڑھاوء جی

دل جب گھر ہی آپ کا ہے
کاہے کو۔۔۔۔شرماوء جی۔۔؟

سر پر چھایا رحمت کی
پھر کیونکر۔۔۔گھبراوء جی؟

ہم نے پار اترنا ہے
تم ، پلٹو یا آوء جی

نفرت کے اندھیارے میں
پیار کے دیپ جلاوء جی

مرہم سی کوئی بات کرو
گہرا ہو گیا۔۔۔۔گھاوء جی

(طاہر احمد بھٹی۔۔۔ جرمنی)