خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

دیپ کچھ تھے ، مگر جلے ہی نہیں
دید کے سلسلے ، چلے ہی نہیں

کیسی قوس قزح ہے آنکھوں میں
ہم تو اس شوخ سے ملے ہی نہیں

آئینے دم بخود تحیر میں۔۔۔!
شیشہ رو کے یہ مسئلے ہی نہیں

چشم ساقی سے کیا سوال کریں
میکشوں کے یہ حوصلے ہی نہیں

منجمد ہو گئے ہیں ہجر و وصال
کیسے بچھڑیں ، اگر ملے ہی نہیں

خوشبووں کا ہجوم کیسا ہے۔؟
کنج لب تو ابھی کھلے ہی نہیں

اس کو یکسر بھلا کے بیٹھ رہے
اس قدر یاد کو گلے بھی نہیں

چشم و دل میں کشیدگی ہے بجا
ہاں مگر۔۔۔، ایسے فاصلے بھی نہیں

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے
دل میں پہلے سے ولولے بھی نہیں

(طاہر احمد بھٹی۔ جرمنی)