جوتا چھپائی۔۔۔۔۔۔عثمان کریم الدین ایڈوکیٹ

جوتا چھپائی
برصغیر میں شادی کی رسومات میں جوتا چھپائی کی رسم اتنی پرانی ہے کہ اس کی ابتدا کے بارہ میں سوائے قیاس آرائی کے کچھ کہنا ممکن نہیں البتہ یہ بات طے ہے کہ اس رسم کو زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی رائج کیا جا چکا ہے
ہمارے نظام عدل کو ہی لے لیں جس میں” مبینہ انصاف’ کی حیثیت اس جوتی کی سی ہے جو کہ دلہا کی سالیاں چھپا لیتی ہیں اور من مانی رقم کا مطالبہ کرتی ہیں اور جبتک ان کا مطالبہ نہ مانا جائے اس وقت تک دلہا کو ننگے پاؤں ہی رہنا پڑتا ہے اور شاید کبھی ایسا بھی ہوتا ہو کہ اگر سودا طے نہ ہو سکے تو دلہا بیچارے کو ننگے پاؤں ہی رخصت ہونا پڑتا ہو
ہمارے ہاں نظام عدل سے وابستہ افراد خواہ وہ میری طرح کے وکیل ہوں،عدالتوں کے اہلکار ہوں، پولیس ہوں یا آٹے میں نمک کے برابر چند ” معزز حکام ” ، وہ سب دلہا کی سالیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں. ہر ایک کے پاس دلہا بهائی کی جوتی ہے اور ہر ایک جوتی کی واپسی کے لئے اپنا مطالبہ پیش کر رہا ہے.
عدالتی دلہا گھوڑے پر سوار ہو کر آنے والے سے اس لحاظ سے بھی زیادہ بیچارہ اور بے بس ہوتا ہے کہ شادی والے دلہا کی تو ایک جوتی سالیوں کے پاس ہوتی ہے لیکن اس معصوم کی تو ناصرف دونوں پاؤں کی بلکہ گھر میں موجود جوتیاں بھی سالیوں کے قبضہ میں ہوتی ہیں اور ہر سالی کا اپنا علیحدہ مطالبہ ہوتا ہے اور یہ بیچارہ ایک ایک کر کے اپنی جوتیاں اکٹھی کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے
کبھی کبھی اس مظلوم کے ساتھ یہ ذیادتی بھی ہو جاتی ہے کہ ایک سالی دوسری سالی کے نام پر جوتی کا سودا کر لیتی ہے اور یہ سادہ لوح اس دھوکہ میں کہ سالیوں کا آپس میں اتحاد ہے، ادائیگی مطالبہ کر بیٹھتا ہے لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اسکے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے
ان عدالتی سالیوں کے زیر تسلط ایک نہیں بلکہ دو بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ دلہے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوتے ہیں اور سالیوں کے پاس ان سب کی جوتیاں ہوتی ہیں آجکل میرے کنبے کی سالیوں نے اتحاد کر لیا ہے اور وہ تمام دلہوں سے مطالبات پورے کروا لیتے ہیں اور جس دلہا کی جوتی واپس مل جاتی ہے اس سے حاصل کردہ مفاد آپس میں تقسیم کر لیتی ہیں اور دوسرے دلہا کی رقم واپس کر دی جاتی ہے اور وہ دلہا اگلی عدالت میں نئی سالیوں کی تلاش میں اس امید کے ساتھ جاتا ہے کہ شاید اسے اپنی جوتی مل جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں